چین کے خلاف گوادر میں ہونے والی احتجاج جھوٹی خبر ہے – چینی وزیر خارجہ

394

چین کے وزیر خارجہ نے گوادر میں چائنا کے خلاف ہونے والے احتجاج کو جھوٹی خبر قرار دے دیا۔

چین کے وزیر خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر آکاؤنٹ سے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے گوادر میں ہونے والے احتجاج کو جھوٹی خبر قرار دےدیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے کل کچھ خبروں کے ذریعے نام نہاد احتجاج کی خبر چلائی گئی جسے  رنگ دیاگیا کہ گوادر کے مقامی سمندر میں چائنیز ٹرالنگ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جو سراسر غلط ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر میں کوئی بھی چائنیز ٹرالر موجود نہیں جبکہ اس خبر کو اس طریقے سے بنا کر پھیلانا چائنا پاکستان کوریڈور جیسے پروجیکٹس کے خلاف جاری پروپگنڈہ کو ہوا دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین گوادر میں چائنا پاکستان کوریڈور کو بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

خیال رہے 15 نومبر سے گوادر کے پورٹ روڈ کے احاطے میں مولانا ہدایت اللہ رحمان کی سربراہی میں احتجاجی دھرنا جاری ہے۔دھرنے کی حمایت میں پیر کو سینکڑوں خواتین نے گوادر میں احتجاجی ریلی نکالی۔

حکومت نے دھرنے کے شرکاء سے چار مطالبات کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں لیکن دھرنے کے شرکاء ان پر عملدرآمد کےحوالے سے مطمئن نہیں ہیں۔

مولانا ہدایت اللہ رحمان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹر دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان مکمل بےبس ہیں ان لوگوں کے ہاتھوں میںکچھ نہیں۔

مولانا کے مطابق اگر ان کے مطالبات پہ اگر فوری عمل درآمد نہیں ہوا تو وہ دو نومبر سے گوادر کوسٹل ہائی وے کو اور بعد میں سیپیک روڈ اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کو مکمل بند کرینگے۔

گذشتہ ہفتے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں کوسٹل ہائی اور ایکسپریس وے کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن بلوچستانکے کابینہ کے تین اراکین سید احسان شاہ، میر ظہور بلیدی اور لالہ رشید بلوچ نے گوادر میں دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے اورشرکاء کے چار مطالبات سے متعلق نوٹیفیکشن جاری کر کے ان کو مولانا ہداہت الرحمان کے حوالے کیا گیا۔

چار مطالبات سے متعلق نوٹیفیکشنز کے فوری اجراء کے باوجود دھرنے کو ختم نہ کرنے سے متعلق سوال پر گوادر کو حق دو تحریک کےقائد مولانا ہدایت الرحمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ نوٹیفیکشن تو جاری کیے گئے لیکن عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جو مطالبات ہیں ان میں سب سے اہم لوگوں کے معاش اور روزگار سے متعلق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کے روز بھی اورماڑہ میں بلوچستان کی سمندری حدود میں 30 سے 40 ٹرالر ماہی گیری کرتے رہے اور ہمارےمقامی ماہی گیروں کے جال وغیرہ کو کاٹ کر لے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحدی تجارت کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نوٹیفیکشن کے مطابق نقل و حمل کی مانیٹرنگ ضلعیحکومت کے حوالے کرنے کی بجائے یہ بدستور ایف سی کے ہاتھ میں ہے اور پہلے کی طرح ٹوکن سسٹم جاری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کا مطالبہ یہی ہے کہ ٹوکن سسٹم کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور سرحدی تجارت کو پہلے کی طرح بحال کیا جائے۔