لاپتہ افراد کے لواحقین کو انصاف نہیں مل رہا – نصراللہ بلوچ

97

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا ہے کہ ‏لاپتہ افراد کے کیسز کئی سالوں سے عدالتوں اور کمیشن میں چلتے آرہے ہیں لاپتہ افراد کے حوالے سے جی آئی ٹیز، ٹاسک فورس اور پارلیمانی کمیٹاں بھی بنائی گئی لیکن کئی سالوں سے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے نہ ہی جبری گمشدگیوں کاسلسلہ بند ہوا-

انہوں نے کہا کہ انصاف کے فراہمی کیلیے بنائےگئے اداروں کا کیا فائدہ ہے جو متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں –

خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ عرصہ دراز سے موجود ہے –

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور دیگر انسانی حقوق کے تنظیموں کے مطابق اس وقت بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کا شکار ہونے والے سیاسی کارکنوں اور طلباء کی تعداد ہزاروں میں ہے اور کئی زیر حراست سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں بھی مل چکی ہیں –

دریں اثناء بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ آئندہ دنوں کراچی میں قائم ہوگا –

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کراچی پہنچ چکے ہیں اور وہ دس دسمبر کو کراچی پریس کلب انسانی حقوق سے متعلق سیمنار میں شرکت کرینگے –