جدید دنیا کے تقاضے – مزار بلوچ

204

جدید دنیا کے تقاضے

تحریر: مزار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ابتدائی انسانی ارتقائی عمل کے بعد انسان روز بروز جدت کی طرف رواں ہزاروں ایجادات اور ان سے منسلک فوائد سے ترقی کی طرف سفر کررہا ہے اور یہ سفر تیز سے تیز تر ہونے کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے پرفکر سوچ و خیالات کو جنم دے رہا ہے جس کی وجہ سے انسان کو ہر اونچ نیچ بدلتے حالات کے مطابق اپنے سوچ طور طریقوں کو بدلنے کی ضرورت پیش آرہی ہے اور بدلتے وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اپنے سوچ کو وسعت کی جائے ، چاہے وہ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو۔ کیونکہ پرانے زمانے کے تجربات خیالات (گو کئی جگہوں پر کارآمد بھی ہوتی ہیں) لیکن حالیہ اور مستقبل میں بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدت پیدا کرنا ضروری ہے
(یعنی ایک آزمودہ غیر مؤثر یا ناکام دائرے سے نکل کر اردگرد جدید معلوماتی سماج و معاشرے صلاحیتوں سے لیس کارکنوں کی پر فکر امنگوں کے مطابق اپنے سفر کے وسیع تر مفاد میں خود کو بدلنا پڑتا ہے)
بصورت دیگر اپنے حلقہ ، گروہ یا تنظیم کے پیش رفت میں بداعتمادی مخالفت انتشار بالآخر شدید مشکلات کے ساتھ ناکامی کی صورت میں سامنے آجاتا ہے.

اس وقت دنیا میں چلنے والے ماضی اور حال کے تحریکوں کا مشاہدہ کیا جائے تو ان میں سے کچھ نے اپنے خیالات و تجربات کو وسعت دی، اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور کچھ ایک چھوٹے خیال کے دائرے سے نکل نہ پائے ناکامی سے دوچار ہوئے۔

اگر ناکامی کے وجوہات جاننے کی کوشش کریں تو ایک بڑی وجہ متعلقہ فیلڈ میں موجود کارکن کو اس کی کمزوری ناہلی /صلاحیتوں مثبت یا منفی سوچ اور مزاج و حقیقت پسندی کو سمجھے بغیر اس کے بالکل برعکس ایک معمولی خول میں بند اپنے آمرانہ سوچ و مزاج کے مطابق زبردستی ڈھالنے کی کوشش ہے.

یعنی اس کے صلاحیتوں یا کوتاہیوں کو پرکھے بغیر اسے ایسے کام /ذمہ داری کے لیے منتخب کرنا جو اس کے صلاحیتوں کے متضاد ہوں نتیجہ ناکامی کی صورت میں ہی ملتا ہے۔

اگر ہم اپنے تنظیم /تحریک میں کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اپنے اردگرد موجود ساتھی کارکنوں کے پوری مزاج صلاحیت خامی خوبی اگر وہ کسی کام کے بارے میں جانتے ہیں تو ان کے رائے مشورہ کو باریک بینی سے دیکھیں اگر وہ تحریک کے اندر موجود کسی غلطی کی نشاندہی کررہا ہے تو اس غلطی کا ازالہ اور اسے دور کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں۔

ساتھیوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ اہمیت دیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں ، ساتھیوں کے چھوٹے بڑے رائے مشوروں کو خندہ پیشانی سے سنیں اور ان کا احترام کریں۔

جس کی وجہ سے ہم اپنے کارکنان کو حقیقی معنوں میں مطمئن اور ان کے صلاحیتوں سے بھرپور اجتماعی فوائد حاصل کرسکتے ہیں. اس کے برعکس اگر ہم کسی کے دماغ میں اپنے محدود سوچ کو ڈال کر اسے اپنے ذاتی مزاج کے مطابق چاہتے ہیں تو ہم میں اور احساس کمتری میں مبتلا ایک ذہنی مریض میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔

اور ہمیں یہ چیز ذہین نشین کرنا چاہیے کہ آج کے دور میں تنظیم یا تحریک میں آنے والا نوجوان نسل ہمارے فرسودہ ذہن اور مزاج سے کئی گنا تیز اور اپنے راستے چننے میں کوئی رکاوٹ شخصیت پرستی کو خاطر نہیں لاتے بلا جھجک وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے اور وسائل حاصل کرنے کے مختلف ذرائع ڈھونڈ کر اپنے متعلقہ ضروریات پوری کرلیتے ہیں.

اگر ہم اپنے محدود سوچ اور ذاتی مزاج کو بدلنے کے لئے تیار نہیں تو اگلا ساتھی کیونکر اپنے وسیع سوچ کو بدل کر ہمارے چھوٹے ذہن و مزاج کے مطابق بدلے یا وہ کس طرح چاہے گا کہ طے شدہ راستے سے پلٹ کر ایک ہی محدود دائرے میں خود کو بند کرے.

یعنی ہم اگر خود کے مزاج کو بدلنے کے لیے تیار نہیں تو ہمیں بھی کوئی حق نہیں کہ اپنے کارکن ساتھی کو اپنے مزاج کے مطابق بدلیں. کارکن کو کارکن سمجھیں غلام نہیں۔ (کسی بھی حقیقی انقلابی عمل میں وی آئی پی کلچر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی انقلابی تحریک میں ہمیشہ مخلص ساتھی، عمل اور جہد مسلسل کو اہمیت دیں)

ہمیں کسی تحریک /تنظیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو بدلتے وقت اور جدید ٹیکنالوجی اور اجتماعی سوچ اور تیز تر نوجوان نسل کے مثبت رائے کو مدنظر رکھ کر ان کے مطابق کھلے ذہن سے کامیاب و مؤثر فیصلے کریں جس سے تمام کارکنان یا اس موومنٹ سے منسلک افراد متفق ہوں اور تنظیم/تحریک کے لیے سود مند ثابت ہوں.

پسند ناپسند کے غیر انقلابی رویے کو ترک کرکے احتساب کے منصفانہ عمل پر پوری نیک نیتی سے عمل کریں. ناکافی وسائل کے باوجود اپنی پوری کوشش کریں کہ ساتھیوں کے مشکلات حل کریں اور ان کے سوچ و جذبے کا احترام کریں اور متعلقہ فیلڈ میں اس کے مہارت تجربے اور صلاحیت کے مطابق اس کے کام /ذمہ داریوں کا انتخاب کریں.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں