اسد چلتن کے آغوش میں پہلا گواڑخ – جی ایم بلوچ

197

اسد چلتن کے آغوش میں پہلا گواڑخ

تحریر: جی ایم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شہید اسد مری نے بلوچستان کے شورش زدہ علاقے کاہان میں آنکھ کھولی، ان کی پیدائش بلوچ سر زمین کی خاطر سر کٹانے والے بلوچ قوم کے مری قبیلے کے ایک خاندان میں ہوئی جو کہ مادر وطن کی غلامی کے خلاف ہمیشہ صفحہ اول میں رہیں۔

بلوچ قومی سوچ اسد مری کو وراثت میں ملی۔ ان کا خاندان ستر کی دہائی سے بلوچ قومی تحریک آزادی سے وابستہ ہے۔ اٹھارہ سالہ اسد اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑا تھا وہ عام نوجوانوں کی طرح نہیں سوچتا تھا عمر کے جس حصے میں نوجوان اپنے خواہشات کا تقاضا کرتے ہیں وہ اس عمر میں ایک عظیم شعور و فکر سے ہم شناس تھا وہ ایک مکمل انقلابی چنگاری تھا۔ جو اپنے قومی فریضہ کو اپنے ہر سانس میں بھرتا، وہ زندگی کے بے رحم لہروں سے کئی اونچا تھا۔ وہ اپنے وطن کا عاشق اور انقلابی کتاب اس کے عشق کا عنوان تھا وہ ان انقلابی کتابوں سے اپنے محبوب کے بے لوث محبت میں گرفتار ہوا تھا اور ایک کامل انقلابی ہونے کے لیے شعور علم اور تاریخ سے ادراک رکھنا ضروری ہے۔ اسد اسی منزل کا راہی بن چکا تھا وہ اپنے قومی وجود اور وحدت سے آشنا تھا اور ہر گذرتے وقت کے بھٹی میں پک کر اسد مری کا قومی سوچ و فکر مزید مضبوط ہو رہا تھا۔ وہ اپنے قومی فریضہ کو قریب سے سمجھ چکا تھا اب بس وقت آنے پر عملی میدان میں اپنے قومی سوچ کو قابض سامراج کے جڑوں کو ہلانے کے انتظار میں تھا۔

مگر زندگی کے ان بے رحم لہروں نے قہر ڈھانا شروع کیا۔ وہ محض 13 برس کا تھا کہ 2001 میں جب ان کے چچا شہید نورا مری اور ان کے بڑے بھائی کو ریاستی فورسز نے گرفتار کر کے لاپتہ کیا اس واقعے نے اسد مری کے سوچ کو قابض ریاست کے خلاف مزید پختہ کیا مگر قدرت کو اسد مری کو مزید کئی کسوٹیوں پر پرکھنا تھا۔

6 جنوری 2002 کا سرد مہینہ اسد مری پر آگ کے شعلوں کی طرح برسا جب شہداء قلات کا واقعہ پیش آیا جس میں اسد مری کے منجھلے بھائی واحد بخش مری کے شہادت کا واقعہ پیش آیا اس دوران اسد مری اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا کیونکہ اس وقت ان کا والد کاہان اور چچا کوہ ناگائی کے عظیم پہاڑوں میں اپنے قومی فرض سر انجام دے رہے تھے۔

واحد بخش مری کے شہادت نے اسد مری کے قومی فلسفے کو وقت سے پہلے عملی میدان کے کسوٹی میں لا کھڑا کیا یہی سے اسد مری کے عظیم قومی سوچ نے قومی تحریک میں اپنا ایک الگ مقام پایا وہ اپنے ہر کام کو اتنے لگن سے کرتا کہ سنگت کہا کرتے تھے کہ اسد اور کام ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں، سیاست سے گہرا لگاؤ کی وجہ شہید غلام محمد بلوچ جیسے شخصیات کے قریب رہ کر ہوا۔ شہید غلام محمد بلوچ کراچی میں اکثر سیمیناروں میں بلوچ قومی تشخص اور آزاد بلوچ ریاست کی ترجمانی کرتے، نوجوان نسل کو اپنے قومی فکر سے آشناس کرتے اور ان کے جذبات کو صحیح راہ پر قائل کرنے کی انتھک کوشش کرتے، جب شہید غلام محمد بلوچ کراچی میں تھے تو اسد اکثر کسی نہ کسی کام کے معاملے میں ملنے جاتا اسی بنا پر اسد اور شہید غلام محمد بلوچ میں کافی اچھی دوستی ہوئی۔ مجھے یادہ ہے ایک بار شہید غلام محمد بلوچ نے اپنے آبائی علاقے سے کراچی آ رہے تھے تو انہوں نے اسد مری کے لیے اپنے علاقی سوغات کجھور لائے تھے۔ اسد نے کہا کہ میں جب بس اڈے پر انہیں لینے گیا تو وہ اپنے ہاتھوں میں ایک وزن دار تھیلہ پکڑے ہوئے تھے اور میرے طرف مسکراتے ہوئے مجھے وہ تھیلا پکڑا دیا لو آپ کے لیے مکران کا قومی سوغات۔ اسد کبھی آرام نہیں کرتا وہ ہمیشہ اپنے قومی جدوجہد میں مصروف رہتا، وہ ایک لمحہ یہاں تو دوسرے لمحہ وہاں، کبھی اس شہر میں تو کبھی اس شہر میں، وہ اپنے مخلصی اور انتھک محنت سے ساتھی سنگت کا چہیتا تھا اور اسی بنا پر دشمن کے نگاہوں میں بھی سرفہرست آ گیا تھا۔ مگر اسد بےخوف رہتا، نڈر رہتا تھا وہ اپنے قومی فرض سے کمپرومائز نہیں کرتا اب دشمن کے پاس اسد مری کو روکنے کا کوئی امکان باقی نہ تھا اسے شہید کرنے کے سوا، دشمن اپنے دفتر میں منصوبہ بندی کر رہا تھا اور دوسری طرف اسد مری اپنے عظیم قومی سوچ کو مزید تیزی کے ساتھ اپنے منزل تک پہنچانے کے عمل پر گامزن تھا۔

27 دسمبر کو سنگت کے طرف سے سے پیغام آیا کہ کوئٹہ جانا ہے تنظیمی کام کے سلسلے میں، بس اگلی صبح اسد اپنے سفر کے تیاری میں لگ گیا۔ یہ 28 دسمبر کی سرد صبح ہے اسد مری اپنے کمرے میں کوئٹہ جانے کے لیے تیاری کر رہا تھا، یہ کراچی کی گلیوں ہیں سورج کے نکلنے کیساتھ شور و غل شروع ہوتا ہے، میں بھی گلی میں کھیلنے کو نکلا اس دوران اسد تیار ہوا میں اپنے کھیل میں مصروف تھا کہ سامنے سے اسد آیا اور کچھ کہے بغیر ایک خاموش مسکراہٹ سے الوداع ہوا میں سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ مسکراہٹ آخری الوداعی ہے۔ بس آج بھی وہ مسکراتا چہرہ پرکشش آنکھوں میں میرے دل و دماغ میں اس قدر عکس بند ہے جیسے وہ میرے وجود کے دائمی حصے ہیں۔ شاید انسان اپنے محبت کے احساس کو لفظ میں بیان نہیں کرسکتا شاید وہ لفظ ہی نہیں جو محبت کو بیان کر سکیں اپنے بھائی کو آخری بار دیکھنا مجھے علم نہیں تھا کہ شاید زندگی میں دوبارہ کبھی نہ مل سکیں۔ وہ اپنے محبوب وطن کے آغوش میں میں ہمیشہ کے لئے سمونے کے لیے خوشی سے جارہا تھا۔ وہ 29 دسمبر کو چلتن کے برف پوش پہاڑوں کے درمیان نیوکاہان پہنچا اور صبح ایک دوست کے یہاں چائے پی، دشمن کو پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا کہ اسد آج کوئٹہ آرہا ہیں وہ رات کو ہی نیوکاہان ہزار گنجی میں اسی تاک میں بیٹھا تھا کہ وہ اپنے تنظیمی مشن پر اپنے ساتھی سنگت کے گھر سے نکلے۔ اسد مری سنگت کے ساتھ کچھ ہی مسافت کی دوری پر ہی میں گیا تھا کہ سامنے سے ہتھیار بند دشمن نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور اسد مری کو 29 دسمبر 2006 کو نیو کاہان کوئٹہ میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے موقع پر شہید کیا۔

قاسم مری عرف اسد مری جو اپنے مادر وطن پر قربان ہونے والا کم عمر مگر قومی فکر سے سرشار اور سنگتوں میں نمایاں کردار کا مالک تھا۔ شہید اسد مری وہ پہلے شہید ہیں جنہیں وادی چلتن کے دامن میں سپردِ خاک کیا گیا اور اسد مری پہلے وہ خوش قسمت فرزند بھی ہیں جنہیں آزادی بلوچستان کے پرچم کا اعزاز دیا گیا ہے۔

اسد مری کے جدوجہد آزادی کے ایک سرگرم رکن تھے اور فکری طور پر ایک پختہ نظریاتی اور سنجیدہ کارکن کی حیثیت سے انہوں نے بلوچ قومی تحریک میں اپنا فرض بخوبی سے نبھایا۔ ہم ہمیشہ ایسے نڈر اور بہادر وطن کے فرزندوں کو سرخ کر سلام پیش کرتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں