کلبھوشن یادیو کے لیے اسپیشل ڈیل لیکن لاپتہ پشتون و بلوچوں کیلئے کوئی حقوق نہیں ہے – منظور پشتین

137

پاکستان کے صوبہ پنچاب کے دارالحکومت لاہور میں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقد ہونے والے کانفرنس سے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر ستر ہزار پشتونوں کو فیک انکاؤنٹر کے ذریعے مارا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں نقیب اللہ محسود کو کراچی میں ایک جعلی مقابلے میں راؤ انوار نے بہت بے دردی سے قتل کر دیا نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کیلئے ایک احتجاجی تحریک اٹھی، بدقسمتی سے انصاف پھر بھی نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی رپورٹ کے مطابق راؤ انوار نے 444 لوگوں ماؤرائے عدالت قتل کر دیا ہے،
لیکن یہاں پر راؤ انوار آج بھی آزاد گھوم رہا ہے اور راؤ انوار کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔

علی وزیر کو گرفتار کرنے کیلئے یہاں عدالت اور ادارے موجود ہے لیکن علی وزیر کے گھر کے 17 افراد کو شہید کرنے والے قاتلوں اور علی وزیر کے گھر والوں کو انصاف دلانے کیلئے کوئی عدالت یا ادارہ موجود نہیں۔ پشتون سرزمین پر آج تک فیک انکاؤنٹر اور ماؤرائے عدالت قتل کا سلسلہ جار ہے۔

انکا کہنا تھا کہ بابڑہ سے لیکر آج تک پشتونوں کے اجتماعات پر ریاستی اداروں کی طرف سے وہی سیدھا فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ سلسلہ ہوتا آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان نے کلبھوشن یادیو اور ان کے حقوق کیلئے اسپیشل ڈیل بنائی اور ان کو کال کرنے کی بھی اجازت دی ہے لیکن لاپتہ پشتون بلوچ کیلئے کوئی سہولیات اور حقوق نہیں ہے۔