شہید امان جان ایک بہادر ساتھی تھا – مزار کریم

255

شہید امان جان ایک بہادر ساتھی تھا

تحریر: مزار کریم

دی بلوچستان پوسٹ

شہید امان جان نے اپنے بلوچ وطن کے ساتھ پنجابی قبضہ گیریت اور بلوچ قوم کی مظلومیت و لاچاری کو دیکھ کر 2013 میں بلوچ راجی جدوجہد میں شمولیت اختیار کی
شہید نے اس جدوجہد میں بلوچ راجی لشکر بی ، آر ، اے کو انتخاب کیا اس نے اسی اثنا میں بی ، آر ، اے کے اندر راجی جدوجہد میں جگہ جگہ پاکستانی افواج کے ساتھ دوبدو کئی جنگیں لڑی اور بہادری کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی تمنا رکھتے ہوئے بہت سی جنگوں میں اپنا فرض نبھاتے رہے
اور کچھ وقت کے بعد شہید اپنی مخلصی اور دن رات محنت و صلاحیت کی وجہ سے پارٹی کے زمہ دار عہدے پر فائز ہوئے۔

جنگ میں شہید امان جان ایک بہترین صلاحیت کے مالک تھے اپنے سرمچاروں کے ساتھ ہمقدم رہے ہر وقت دوستوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ نہایت خوش مزاج اور وسیع ذہن کے مالک تھے دشمن کے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار اور برسرے پیکار تھے یہی انتظار تھا کہ کہیں پہ دشمن نظر آئے اور اس پر حملہ آور ہو جاؤں اور بہترین انداز میں نبھاتا رہا ہر جگہ دشمن پر ہر وقت نہایت سنجیدگی اور اپنے دوستوں کی سلامتی کو مدنظر رکھ کر حملہ آور ہوتا رہا ۔

شہید امان جان نے 22 اکتوبر 2015 میں دشت سورک میں دشمن پاکستانی افواج کے کئی کارندوں کو ھلاک کرکہ خود اور دیگر 7 بہادر قومی سنگتوں (سپاہیوں) کے ہمراہ جام شہادت نوش کرکے اپنے وطن و قوم کی خاطر جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔ تاریخ میں ہمیشہ قوم و وطن کے شہیدوں کو سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔اور
جب کوئی سچا عاشقِ وطن اپنے سرزمین اور ننگ و ناموس کی دفاع کے لئے دشمن کے ساتھ لڑتے لڑتے شہید ہوجاتا ہے تو اسے اور اس کے آبا و اجداد کو قیامت تک لوگ یاد کرتے رہیں گے ان شہیدوں کی عظیم قربانیوں کی داستانیں سنہرے حروف سے تاریخ کی کتابوں میں رقم کی جائیں گی اور دن بہ دن انکی داستانیں نیا ہوتا رہے گا۔

اور آنے والے نسلوں کی کانوں میں ان بہادر اور دلیر سنگتوں کی داستانیں گونجتی رہے گی۔لوگ ہر جگہ ، ہر لمحہ انہیں فخر سے یاد کرتے رہیں گے ہر ماں ، باپ ، بہن بھائی ، پیر و جوان کے دل میں شہیدوں کا فکر تا قیامت تک زندہ رہے گا قدم قدم پر انکی قربانیوں کو یاد کیا جائے گا۔
لیکن جن لوگوں نے مادر وطن سے غداری کی ہے یا غلامی کی زنجیروں کو قبول کر کے دژمن کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے یا ان ماؤں سے دھوکہ کی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا پکا کر انہیں کھلایا ہوا ہو یا ان بزرگوں سے دھوکہ کی ہے جنہوں نے ہر روز شھیدوں کے لاش اپنے کندھوں سے اٹھائے ہوئے تھے وہ ضمیر فروش کبھی بھی معاف نہیں کئے جائیں گے ان کو شہیدوں کی ہر قطرہ کا بدلہ دینا ہوگا
تاریخ ان لوگوں کی لکھی جائے گی کہ جنہوں نے سر اٹھا کہ جیے۔

چگل بہ داتیں سلاہ ماں جنگ ءَ گڑا بہ گُشتیں
بہ لرزتیں دست نہ شُت توپنگ ءَ گڑا بہ گُشتیں


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں