زمینی خداؤں کے کارنامے ۔ سفیر بلوچ

212

زمینی خداؤں کے کارنامے

تحریر: سفیر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوخات کا درجہ دیکر زمین پر بھیجا ہے. تاکہ انسان اپنے تمام امور (دینی، دنیاوی) ذہن کو استعمال میں لاتے ہوئے سرانجام دیں. لیکن جب انسان زمین پر نمودار ہوا ترقی کے منازل طے کی تو عیش و عشرت میں اشرف المخلوخات کے درجے سے ترقی کرکے خدا بن گیا. زمین پر بسنے والے یہ خدا اپنے سے کم تر انسان کو روند روند کر اپنے مفاد کا سامان پیدا کرتے رہے لیکن انسان تو آخر انسان ہے مزاحمت اسکے فطرت کا حصہ ہے. انسان نے ہر جگہ ان زمینی خداؤں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور ہر جگہ انہیں ناکام بنایا.

لیکن اب بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں انسان کم نظر آتے ہیں لیکن زمینی خدا ہر جگہ نظر آتے ہیں کیونکہ اصل انسان وہی ہوتا ہے جو ظلم کا سامان کرتا ہے جبکہ خاموش رہنے والے انہی زمینی خداؤں کا پوجنے والا کہلاتا ہے.

انسان اور دنیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ زمینی خداؤں نے بھی ترقی کی اور بادشاہت کا لباس اتار کر فوجی وردی ملبوس کردیا اور اپنے کارنامے پیش کرنے لگے. موجودہ دور میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں زمینی خداؤں کا بسیرا ہے. جو اپنے مفاد کے سامنے آنے والے ہر انسان کو روندتے ہیں اور روند رہے ہیں.

ان زمینی خداؤں کے سامنے بلوچ قوم نے بھرپور مزاحمت کرکے اپنی بقا و تشخص کو محفوظ کرلیا ہے اور یہی ثابت کیا ہے کہ آج بھی انسان اشرف المخلوخات ہے اور ہر ظلم کے خلاف مزاحمت اسکی فطرت کا حصہ ہے.

نو آبادیاتی نظام کا شکار بلوچ گذشتہ ستر سالوں سے پاکستانی مظالم کے خلاف سینہ سپر ہے. جبری گمشدگی،مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی، فوجی آپریشنز، اجتماعی قبریں، اجتماعی سزا کا تسلسل غرض ریاست اپنے ظلم و جبر کے ہر ہتھکنڈے کو آزمانے کے بعد بلوچ عوام کے مزاحمت کو کم نہ کرسکی بلکہ روز بروز اس مزاحمت کی شدت بڑھتی جارہی ہے.
بلوچستان پر زمینی خداؤں کے کارنامے ہر ذی شعور فرد کے سامنے آشکار ہے اور بلوچ اس خطے کے واحد اقوام میں شمار ہوتا ہے کہ جو ظلم کا مقابلہ کررہی ہیں. ان زمینی خداؤں کے کارنامے پشتون، سندھی، کشمیری، گلگتی، ہزارہ و دیگر تمام اقوام کے سامنے ہیں. پشتون اور سندھی اپنی بساط کے مطابق جدوجہد کررہے ہیں اور آج پشتون اور سندھیوں کا شعور اور ظالم کے خلاف جدوجہد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آج پشتون سمجھ چکے ہیں کہ بلوچوں کے ساتھ ہم بھی ان زمینی خداؤں کے ظلم و جبر کا شکار ہے.

جب پنجاب کے صحافیوں نے زمینی خداؤں کے حقیقت کا ادراک کیا تو ان کو بھی شکار بنایا گیا.پاکستانی صحافی حامد میر جنہیں قاتلانہ حملے میں زخمی کیا گیا اور ان کو اپنے پروگرام سے آف ائیر کردیا گیا، سابق چئیرمین پیمرا انصار عالم کو گولی مار دی گئی، احمد نورانی اور اسد طور پر حملہ کیا گیا اور آج خواتین صحافی احمد نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ کی گاڑی پر حملہ کیا گیا جو ان کے کارناموں کی فہرست کو چار چاند لگا دینے کے لئے کافی ہے. آج بھی ایسے کئی پاکستانی صحافی ہے جنہیں ان کے خلاف تنقید کرنے پر نشانہ بنایا گیا اور اہلخانہ کو زدو کوب کیا گیا.
ان کے کارناموں پر کہیں کتاب لکھی گئی ہے اور ان سے زیادہ لکھی جاسکتی ہے اس کی واضح مثال بنگلہ دیش ہے جہاں انکے کارناموں کے ثبوت میوزم میں پڑے ہوئےہیں.

آج یہ حقیقت آشکار ہوگئی ہے کہ زمین پر بسنے والے یہ خدا کسی قومیت سے تعلق نہیں رکھتے یہ بس ہر جگہ اپنی بادشاہت قائم کرکے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں.

بلوچ، پشتون، سندھی اپنے حقوق اور آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، آزادی کی جدوجہد در حقیقت انسانیت کی سر بلندی کے لئے ہوتی ہے. آج اگر بلوچ آزاد ہوا تو وہ لازم ان زمینی خداؤں کے کارناموں سے متاثر اقوام سے یکجہتی و ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرینگے.
بلوچ قومی کی جدوجہد آزادی نیشنلزم کے نظریات پر ہے جس میں دیگر اقوام سے برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر اپنے منشور و پروگرام کی تشہیر کرکے اس پر عمل کرنا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کو کسی دوسرے قوم سے دشمنی نہیں بلکہ بلوچ ان اداروں اور لوگوں کو اپنا دشمن تصور کرتا ہے جو زمینی خداؤں کے ساتھ مل کر بلوچ قوم کی نسل کشی کا مرتکب ہورہےہیں.

پاکستان میں بسنے والی تمام مظلوم اقوام بلا رنگ ونسل اپنے حقوق و آزادی کی جدوجہد کو تیز کریں کیونکہ ان زمینی خداؤں کا مذہب اور قومیت صرف ڈالرز ہے باقی انسانیت کی سربلندی کو یہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں