بلوچستان ہائی کورٹ نے ذاکر مجید، راشد حسین و دیگر لاپتہ افراد کے کیس خارج کردیے

518

بلوچستان ہائی کورٹ نے لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ، طالب علم رہنماء ذاکر مجید بلوچ کے جبری گمشدگی کے دائر کیسز کو خارج کردیا ہے۔ جبری گمشدگی کے شکار جمیل احمد سرپرہ اور ماما قدیر کے ای سی ایل لسٹ متعلق کیسز کو بھی خارج کردیا گیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے خارج کئے گئے کیسز پر صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کو متعلقہ کیسز کے بارے تحقیق و تجزیہ کرنے کا حکم دیا ہے، فیصلہ ہائی کورٹ کے جج محمد ہاشم خان کاکڑ و نظیر احمد خان کی جانب سے جاری کی گئی ہے –

تاہم لاپتہ افراد کے لواحقین نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سالوں سے پیشی و کاروائیوں پر بالآخر کر کیس خارج کرکے عدالتیں انصاف کے بجائے لواحقین کو مایوس کررہے ہیں –

انہوں نے کہا کہ یہاں عدالتوں کے آزادی پر سوالیہ نشان لگا ہے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاپتہ افراد کے لواحقین سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے –

لاپتہ افراد کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ کے وائس چئرمین ماما قدیر بلوچ کا نام بھی ای سی ایل میں موجود ہونے پر عدالت سے رجوع کرنے کے باوجود انکے کیس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے –

ہائی کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کے کیسز کو خارج کرنے پر لاپتہ راشد حسین کی ہمشیرہ فریدہ نے بلوچ نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے راشد حسین سمیت دیگر لاپتہ افراد کے کیسز کوصوبائی حکومت کے کمیٹیوں پر ڈال کر خارج کردیا ہے مذکورہ جج نے پہلے ہی روز لاپتہ افراد کے خواتین لواحقین کو گھر میں بیٹھنے کا کہہ کر تذلیل کی تھی۔

فریدہ بلوچ نے مزید کہا لواحقین کے پاس ناقبل تردید شواہد ہونے کے باوجود عدلیہ کی جانب سے کیسز کو طول دیا جاتا ہے یا پھر کسی بہانے سے کیسز کو خارج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لواحقین کسی بھی صورت انصاف کے حصول سے پیچھے نہیں ہونگے، ہر فورم پر آواز اٹھائینگے۔