بلوچستان: ایک شخص لاپتہ، تین افراد بازیاب

201

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی فورسز نے مزید ایک نوجوان کو حراست میں لے نامعلوم مقام منتقل کردیا جبکہ جبری گمشدگی کے شکار تین افراد بازیاب ہوگئے۔

لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت بابر قمبرانی کے نام سے ہوئی ہے جو پیشہ کے لحاظ دکاندار ہیں۔ مذکورہ شخص کو بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سریاب روڈ سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات رکھنے کا نام نہیں لے رہے ہیں انہی جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی پچھلے ایک دہائی سے سراپا احتجاج ہے۔

دوسری جانب اس وقت جامعہ بلوچستان کے طالب علم یکم نومبر کو بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل سے لاپتہ ہونے والے دو طالب فصیح بلوچ اور سہیل بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف سراحتجاج ہیں اور بلوچستان میں تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

درایں اثنا فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے وہاب بگٹی، زبیر زہری ولد سراج احمد اور عدنان مینگل ولد خدا بخش  بازیاب ہوئے ہیں۔

وہاب بگٹی بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما مرید بگٹی کے فرزند ہیں۔ وہاب بگٹی کو پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے نصیر آباد میں ان کے گھر سے اغوا کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔

زبیر زہری اور عدنان مینگل کو کراچی سے منسلک بلوچستان کے صنعتی شہر حب سے پاکستانی خفیہ اداروں نے رواں ماہ حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا۔ دونوں طالب علم حب ڈاکخانہ روڈ پر ایک دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دونوں کو اغواء کیا تھا جو گذشتہ رات بازیاب ہوگئے۔