آزادی کے اسیر ۔ محمد خان داؤد

160

آزادی کے اسیر

محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

افریقہ کی جیل میں بندایک قیدی سے گورے سپاہی نے آکر کہا
،،آج تمہاری زندگی کا آخری دن ہے۔کل سے یہ حسین کائینات،یہ تاروں کا چمکنا، یہ پھولوں کی خوشبو اور کسی کی گرم سانسوں میں جیون گھارنے کی سب تمنائیں ختم ہوجائیں گی اپنی آخری خواہش بتاؤ جو جیل مینول کے مطابق پوری کی جائے،،
کالے قیدی کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور گلِ بابینا کے مانند اس کے چمکیلے دانت نظر آنے لگے۔اس نے افریقہ کا وشال آکاش دیکھا۔ دل آزادی کے امنگوں سے بھر گیا۔اس نے آخری خواہش اپنی محبوبہ سے ملنے کی بتائی۔افریکی دوشیزہ کو لایا گیا۔مسلسل ہتھیار چلانے سے اس کے ہاتھوں میں چھالے پڑچکے تھے۔اس کے ہونٹ کسی انہونی خواہش کے لیے تڑپنے لگے۔اس کا پیٹ بڑا اور بڑھا ہوا تھا۔ وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی۔ کالے قیدی کے لڑکی سے آنکھیں ملیں۔ قیدی نے لڑکی کو اشارہ کیا، وہ قریب آئی، بہت قریب، جیل کی سلاخوں سے آلگی۔گرم سلاخوں سے اپنے جلتے ہونٹ ٹکرائے پر قیدی نے ان جلتے ہونٹوں پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ قیدی نیچے جھکا اور اس بڑھتے ہوئے بڑے پیٹ کو گرم سلاخوں سے چوما اور کہنے لگا
،،اے میرے ان دیکھے بچے اور ہمارے ابدی لمحوں کے یادگار وجود!
یہ گورا کہتا ہے کل مجھے سورج دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔میں پھانسی چڑھ جاؤنگا
ٹھیک ہے!
جب تم افریقہ کی دھرتی پر آکر ہی پہلی آواز نکالو گے جب تم آزاد ہوگے میری پھانسی کا پھندا تمہارے لیے آزادی کی مسرت بن کر آئیگا۔،،

یہ کہہ کر قیدی نے منہ پھیر لیا, افریقی دوشیزہ تاریخ کے انوکھے بوسے پر مسرتوں سے بھر گئی اور اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔

وہ آزادی کے اسیر جو رات کی تاریکی میں گم کر دیے گئے۔ جن کے لیے ان کے بوڑھے والدین کی آنکھیں آج بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں۔ آزادی کے اسیر جن کو دیس سے محبت کے جرم میں چلتی گاڑیوں میں جلا دیا گیا۔آزادی کے اسیر جن کو رات کے شروعاتی پہلوں میں گھروں سے یہ کہہ کر اُٹھا لیا گیا کہ ان سے کچھ پوچھ کر ابھی چھوڑ دیں گے جن کے انتظار میں مائیں دیوانی اور اندھی ہو چکی ہیں اور کئی تو مر چکی ہیں۔آزادی کے وہ اسیر جن کی محبتیں انہیں لوگوں سے چھپ چھپ کر آج بھی ان راہوں میں تلاشتی ہیں جہاں ان کی پہلی ملاقات ہوئی پھر وہی ملاقات آخری ٹھری۔

آزادی کے وہ اسیر جن کو ان کی محبت کے گرم جھپیوں سے جب جدا کر لیا گیا جب ان کے گرم ہاتھ ان کے سرد پستانوں میں روح پھونک رہے تھے۔ آزادی کے وہ اسیر جواپنی شناخت لیے گھروں سے باہر گئے اور جب لوٹے تو دشت کی بے نام قبریں ان کی منتظر ٹہریں
آزادی کے وہ اسیر جو گھروں سے چلے اور کوئے یار پہنچے
آزادی کے اسیر جن کی آنکھوں میں نئی صبح کے سپنے تھے!
آزادی کے اسیر جو دانشور نہیں تھے جو عاشق تھے
ماں کے!
دھرتی کے!
اور محبوباؤں کے!
آزادی کے اسیر جو دانشور نہیں تھے جو دیداور تھے
اب وہ نابینا ہیں!ان کے آنکھیں بند وارڈوں میں ضائع ہوگئیں
ان پر برہنہ تشدد کیا گیا
جن سے وہ پاگل ہوگئے
جو پاگل ہونے سے بچے وہ کہاں ہیں؟
اور وہ لاوارث قبروں میں کون ہے؟
ایسے جیسے محبت کی مٹھاس میں کوئی بچہ ماں کے بطن میں ہی ضائع ہو جائے۔

آزادی کے اسیر محبت کے بطن میں کیوں ضائع ہوگئے؟
آزادی کے اسیرجو کتابوں سے نہیں نئی صبح سے یا ری رکھتے ہیں!
آزادی کے اسیر جن کو پہلے عشق نے لوٹا پھر دھرتی کے سہانے سپنوں نے
وہ جو محبت کے لٹے مسافر ہیں
آزادی کے اسیر جو محبت میں بالوں کی زلفوں کو بڑھا دیتے ہیں
ان کی بڑی زلفوں کو سنوارنے والا کوئی نہیں!
آزادی کے اسیر جن کا بتایا گیا تھا کہ جب تم لوٹے گو تو نیا سورج طلوع ہوگا
،،سوراج،،کا سورج!
کہاں ہے،،سوراج،،کا طلوع ہوتا سورج؟

آزادی کے اسیروں کو بتایا گیا تھا جب بھی کوئی سرمچار مارا جاتا ہے تو اس کی قبر پر سرخ پھول کھل آتا ہے۔ دشت کے صحرا میں کوئی ایک دو قبر رو نہیں۔ وہاں تو سیکڑوں قبریں اپنے ہونے کا پتا دے رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ قبریں سرخ پھولوں سے ڈھک جا تیں۔وہاں پر سرخ پھولوں کا باغ کھل آتا۔ وہ قبریں خوشبوؤں سے معطر ہو تیں۔ پر ایسا نہیں ہے
اور ایسا کیوں نہیں ہے؟
اور ایسا کب ہوگا؟

آزادی کے اسیروں کو بتایا گیا تھا کہ ان کی قبروں پر چاند روشنی کرتا ہے اور وہ قبریں چاندنی میں نہاتی ہیں۔ پر ان قبروں پر تو ایدھی کے رضاکاروں کے ٹارچ کی روشنی کے سوا کچھ نہیں جس روشنی سے وہ یہ جاکر دیکھتے ہیں کہ کیا کسی کے قبر کے نمبر کی تختی باقی ہے یا دھول میں کہیں غرق ہوگئی
آزادی کے اسیروں کی قبروں پر روشنی کیوں نہیں؟
اور ایسا کیوں ہے؟
آزادی کے وہ اسیرجو کہاں ہیں؟سب جانتے ہیں پر وہ وہاں کیوں ہیں کوئی نہیں جانتا
آزادی کے اسیر جو دشت کی دھول میں مل گئے ان کی بات ہم پھر کبھی کریں گے۔

پر یہاں پر ان اسیروں کی بات کرتے ہیں جو اس افریکی قیدی کی طرح گرم سلاخوں کے پیچھے ہیں۔اور ان کا قصور بس یہ ہے کہ انہیں دھرتی سے ایسی ہی محبت ہے جیسی محبت انہیں اپنی ماؤں اور محبوباؤں سے ہے۔اور ان سے کوئی اس کی آخری خواہش نہیں پوچھ رہا جس میں ان کے ہونٹ کانپ رہے ہیں۔اور وہ اسیران حق اپنی آخری خواہش کا اظہار کرے جس میں سلاخوں کے پیچھے لایا جائے ان دوشیزاؤں کو جن کے بڑے اور بھڑتے ہوئے پیٹوں کو دیکھ کر وہ ان پیٹوں پر محبت سے بوسہ دیں اور ان کی اداس آنکھوں میں ایسی ہی چمک کوند آئے جیسی چمک اس کالے قیدی کی آنکھوں میں کوند آئی تھی اور وہ اس بات پر ایمان لے آئیں کہ وہ کبھی نہیں مر سکتے آنے ولا بچہ آزادی کی علامت بن کر ان کی آنکھوں میں چمکے گا
پر کب؟
کب؟
کب؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں