گوادر میں جیپ ریلی: گوادر کو حق دو تحریک کے احتجاج کا اعلان، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی حمایت

218

گودر کو حق دو تحریک نے گوادر میں ہونے والے جیپ ریلی کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجی ریلی و مظاہرے کا اعلان کردیا ہے جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے احتجاج کی حمایت کردی ہے۔

بلوچستان ساحلی شہر گوادر میں آج سے گوادر آف روڈ جیپ ریلی کا آغاز ہورہا ہے۔ گوادر روڈ ریلی 14 سے 17 اکتوبر تک جاری رہے گی جبکہ کمشنر مکران ڈویژن کی صدارت میں گوادر آف روڈ ریلی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

مذکورہ ریلی کی مخالفت کرتے ہوئے “گوادر کو حق دو” تحریک کے رہنماء مولانا ہدایت الرحمٰن نے جیپ ریلی کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ہمارے بچوں کی لاشیں سڑکوں پر ہیں جبکہ حکومت جیب ریلی کے انعقاد میں مصروف ہے۔

گوادر سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حمل کلمتی نے جیپ ریلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جل رہا ہے، ہماری مائیں، بہنیں اور بزرگ باپ اپنے معصوم بچوں کی لاشوں کو لے کر سڑکوں اور چوراہوں پہ انصاف مانگ رہے ہیں۔ گوادر سے لیکر ڈیرہ بگٹی تک ماہیگیروں کی معاشی قتل کر کے اور بارڈر ٹریڈ کو بند کر کے ہمارے بچوں کو نان شبینہ کے لیے محروم کیا جا رہا دوسری طرف حکومتی وزراء گوادر میں کار ریلی کے نام پر ہماری میتوں اور محرومیوں پر جشن منا رہے ہیں۔ بلوچستان کے لوگوں کو ریلی اور لاشیں نہیں بلکہ بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے ۔ گوادر کے لوگوں کو امن چاہیے کار ریلیاں نہیں ۔

دریں اثناء بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مولانا ہدایت الرحمٰن کی حمایت کرتے ہوئے بیان میں کہا ہے کہ ہوشاپ میں شہید کیے گئے بچوں کے کافلے کو روکنے، موبائل نٹ ورکس بند کرنے اور لواحقین کو ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی گوادر لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کا اعلان کرتی ہے گوادر جیپ ریلی کی بائیکاٹ کرنے پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی حمایت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی گوادر شہدائے ہوشاپ کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کے لیے آج جمعرات 14 اکتوبر کو گوادر ملا موسیٰ موڑ سے شہدائے جیونی چوک تک احتجاجی ریلی کا اعلان کرتی ہے۔ تمام طلباء و طالبات، مائی گیروں، دکانداروں اور بلوچ ماؤں بہنوں سے شرکت کی اپیل کرتے ہیں کہ اس احتجاجی ریلی میں شرکت کرے۔