کھیترانوں کی جنگ لغاری قبیلے تک کیسے پہنچی؟ ۔ تھولغ بلوچ

230

کھیترانوں کی جنگ لغاری قبیلے تک کیسے پہنچی؟

تحریر : تھولغ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ لڑائی باركھان کے یونین کونسل بغاؤ سے ایک شادی شدہ عورت سے شروع ہوئی جو اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئ تھی۔ عورت کا تعلق واہبانی کھیتران سے تھا اور اس عورت کو بھگانے والے کا تعلق جہانانی کھیتران سے تھا، یہ دونوں شاخیں بغاؤ ہی میں رہتی ہیں۔

جو لڑکا عورت کو بھگاتا ہے۔ وہ ركھنی بیواٹہ میں آ کے پناہ لیتا ہے الہی بخش لغاری کے ہاں، عورت کے وارث الہی بخش کو ان پناہ لینے والے جوڑے کو گھر سے نکالنے کے لیے کہتا ہے لیکن الہی بخش منع کر دیتا ہے۔ جوڑے کے تعاقب میں عورت کے وارث بغاؤ سے بیواٹہ پہنچتے ہیں تاکہ ان کو قتل کر سکیں لیکن یہاں پہ ان کو مایوسی ہوتی ہے الٹا لغاری ان کھیترانوں کو بی ایم پی سے پکڑوا کے خوب بے عزتی کرواتے ہیں۔

بی ایم پی پولیس کم غنڈہ گردی زیادہ کرتی ہے۔ عام شہریوں کو تنگ اور مافیا کو رام رام کر کے ان کی خوشامدی کرتی ہے۔

اسی بی ایم پی کے نا روا سلوک اور لغاری قبیلے کے انکار نے وہبانی کھیترانوں کو اتنا مجبور کیا کہ وہبانی کھیتران ایک رات الہی بخش لغاری کے گھر پر اسی عاشق جوڑے کو قتل کرنے کی غرض سے آتے ہیں، انہیں پوری پوری مخبری تھی کہ فلاں فلاں جگہ پہ وہ عاشق جوڑا رہتا ہے اور رات کو فلاں جگہ پہ سوتے ہیں۔

جوڑے کی خوش قسمتی دیکھیں اور لغاری قبیله کی بد قسمتی، وہ جوڑا اسی رات کسی اور جگہ پہ چلا جاتا ہے اوروہبانی کھیتران جو جوڑے کو قتل کرنے گئے تھے اس جگہ پہ اندھا دھند فائرنگ کرتی ہے لیکن وہاں عاشق جوڑے کی جگہ لغاری قبیله کے اپنے گھر کے افراد سوۓ ہوۓ تھے۔ جہاں لغاری قبیله کے دو افراد شہید اور تین زخمی ہوۓ تھے۔

زخمی ہونے والوں میں ننھی رابعہ بلوچ بھی تھی، پورے کھیتران قبیله نے اس ظالمانہ کارروائی کی بھر پور مذمت کی اور باركھان کوئٹہ اور ڈیرہ غازی خان میں بھی احتجاج میں شرکت کی اور سوشل میڈیا پے بھی کمپین چلائی۔ کھیتران قبیله نے ظالم کو ظالم کہا اور مظلوم کا ساتھ دیا اس میں کوئی قبیله جات کو نہیں دیکھا بلکہ ایک بلوچ قوم بن کے لغاری قبیله کا ساتھ دیا۔

لغاری قبیله کی طرف سے ہڑتال کی کال پر بھی کھیتران نوجوانوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اور روڈ بلوک کروانے میں مدد کی باركھان انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد لغاری قبیله نے روڈ تو کھول دیا پوری ٹرافک بحال کر دی لیکن کھیتران قبیله کو اسی روڈ پہ جانے سے منع کر دیا۔

یاد رہے یہ روڈ ركنی ٹو ڈیرہ غازی خان کا ہے تو اسی ناروا سلوک کو دیکھتے ہوۓ کھیتران قبیله کے وڈیرے معتبر اور نوجوانوں نے لغاری قبیله سے مذاکرات کے لیے وفد بھیجا کہ آیا پورے قبیله کا کیا قصور ہے؟ آپ کا جھگڑ ا ایک شاخ سے ہے آپ ان سے لڑیں ان کو قتل کریں پورے قبیله کو اس جنگ میں نا گھسیٹیں لیکن لغاریوں پہ مستی و جنون کا بھوت سوار تھا۔

اسے مذاکرات کے دوران ہی لغاریوں نے کھیترانوں پہ پھتراؤ اور گالم گلوچ شروع کر دی، پہاڑ پر پہلے ہی سے مورچہ بند ہو کے لغاری قبیله نے کھیترانوں کے اس ٹولے پہ اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وڈیرہ ستار اور ایک شخص شہید ہو گئے۔

پانچ سے چھ افراد زخمی ہوۓ۔ ان زخمی افراد کو ڈیرہ غازی خان جانے سے بھی ان لغاریوں نے روک دیا تھا، جس سے ایک زخمی کو لورالائی لے جانا پڑا جوں ہی وہ زخمی لورالائی پہنچا ہسپتال پہنچتے ہی شہید ہو گیا، باقی زخمیوں کو بامشکل ڈیرہ غازی خان لے جایا گیا۔

ان زخمیوں میں پولیس کے تین نوجوان بھی شامل تھے جن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پورے کھیتران قبیلے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اس ظلم و ستم نے پورے قبیله کو یکجا کر دیا جس سے سات اکتوبر کو ركھنی و باركھان شہر میں اس ظلم و بربریت کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئ پورے ضلع میں افسردگی اور ویرانی کا سماں تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں