کولواہ میں سرزمین کی دفاع میں شہادت پانے والے سرمچاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،بی ایل ایف

452

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے شہید اسداللہ بلوچ، شہید عاقل بلوچ، شہید سخی بخش بلوچ اور شہید پرویز بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کولواہ میں دشمن فوج کے سامنے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔

انہوں نے کہا کہ نو اکتوبر کو کولواہ کے علاقے مادگ کور میں سرمچاروں اور قابض پاکستانی فوج کا آمنا سامنا ہوا جس سے ایک دو طرفہ جھڑپ شروع ہوئی جس میں سرمچاروں نے قابض فوج کو شدید ضرب لگائی۔ اس لڑائی میں بی ایل ایف کے چار سرمچار سرزمین بلوچستان کی آزادی کیلئے بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید اسداللہ بلوچ عرف میجر باسط بلوچ سکنہ پسنی 2011 سے بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کی آزادی کی مسلح جدوجہد میں پاکستانی جبری قبضہ کے خلاف برسرپیکار تھے۔ اسے جدوجہد آزادی ترک کرنے پر مجبور کرنے کیلئے پاکستانی فوج نے اس کے بھائی صابر بلوچ کو جبری لاپتہ کیا۔ جب شہید دباؤ میں نہ آئے تو فوج نے نومبر 2016 کو دوران حراست اس کے بھائی صابر کو شہید کیا اور اس کی مسخ شدہ لاش پھینک کر اسے مقابلے میں مارے جانے کا نام دیا۔ چار مارچ 2016 کو اس کی والدہ محترمہ بی بی آمنہ فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئی تھیں۔ خود میجر باسط تین جنوری 2016 کو ڈیتھ اسکواڈز کے ایک حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح ریاست پاکستان اور اس کے ڈیتھ اسکواڈز نے ان کے تین چاچا اور ماموں، لعل بخش کو سولہ اکتوبر 2016، یوسف بلوچ کو اکتیس مارچ 2016 اور بابو کو گیارہ اگست 2018  کوشہید کیا۔

ترجمان کے مطابق  شہید میجر باسط ایک نوجوان باصلاحیت سرمچار تھا وہ بی ایل ایف مکران  ایریا کونسل کے ممبر  اور میجر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ بلوچی زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔ شہید باسط بلوچ نے پسنی کے مختلف علاقوں سمیت کولواہ میں مختلف محاذوں پر دشمن کے خلاف لڑائی میں بھرپور حصہ لیا اور مذکورہ علاقوں میں تنظیم کی فعالی میں کردار ادا کیا۔

ترجمان نے کا کہنا تھا کہ شہید عاقل ازاب بلوچ عرف ریاض بلوچ سکنہ پسنی 2012 سے بی ایل ایف سے وابستہ تھے۔ وہ لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز تھے اور نیٹورک کمانڈر تھے۔ وہ پسنی کلانچ، کولواہ، بالگتر، زعمران، گورکوپ، اور پروم کے مختلف علاقوں میں جنگی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ شہید عاقل جان بلوچی زبان کا ایک اچھا شاعر بھی تھا۔ شہید عابد صوالی اس کے بھائی ہیں جسے پاکستانی فوج نے 2013 کو شہید کیا تھا۔ اسی طرح اس کے خاندان سے حبیب، حنیف اور یوسف کو پاکستان نے شہید کیا۔

انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ سخی بخش حسین ولد محمد حسین عرف مرید 2013 سے بی ایل ایف سے وابستہ تھے۔ اپنی جنگی ہنر اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے وہ تنظیم میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ آواران، کولواہ، گچک، کیلکور، اورماڑہ اور بالگتر کے جنگی محاذوں پر دشمن کے خلاف متحرک رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمچار پرویز مہر ولد ناگمان عرف ملوک 2014 کو بی ایل ایف میں شامل ہوئے۔ وہ آواران، کولواہ، کیلکور، اور اورماڑہ میں جنگی محاذوں پر دشمن کے خلاف کئی لڑائیوں میں بہادری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف شہید سرمچاروں کو “ دروت و سلام “ پیش کرتے ہوئے ان کی قومی مشن کو بلوچستان کی آزادی تک جاری رکھنے کا عزم کرتا ہے۔