کوئٹہ: ایف سی کو عوامی مقامات سے ہٹایا جائے، دھرنا لواحقین نے مطالبات پیش کردیے

205

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جانبحق بچوں کی میتیں لے کر لواحقین کا دھرنا رات گئے تک جاری ہے۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں اور مختلف طلباء تنظیموں سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

دھرنا لواحقین نے اپنے مطالبات پر مبنی ایک پیپر جاری کیا ہے جس کے مطابق بلوچستان میں ایف سی روزانہ کی بنیاد پر عام لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کررہی ہے –

مظاہرین نے لکھا کہ گذشتہ دو دہائیوں سے ایف بلوچستان کے طول عرض میں مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، جبکہ گزشتہ سال کراچی یونیورسٹی کے ایک طالب علم حیات بلوچ کو بیچ چوراہے پر والدین کے سامنے گولیوں سے چھلنی کردیا اور گذشتہ دنوں تاج بی بی نامی خاتون کو اپنے بے قابو بندوق سے نشانہ بنا کر قتل کیا اور آج یہ دو کمسن بچوں کی لاشیں ہمارے سامنے موجود ہیں –

ہوشاب واقعہ میں جاں بحق بچوں کی لواحقین میر محراب بلوچ نے کہا کہ 2014 مئی کو ہمارے گاؤں پر جنگی ہیلی کاپٹروں نے فائرنگ کرکے میرے دو نواسوں کو قتل کیا، میرے گھروں کو جلا دیا گیا، مال مویشی لوٹے گئے اور فوج نے ہمیں جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا-

محراب بلوچ کے مطابق 21 دسمبر 2020 کو ہمارے گاؤں پر جنگی ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کی جس سے میرے نوجوان بیٹے سمیت 5 رشتہ داروں کو قتل کیا گیا –

انکا کہنا تھا کہ رواں سال 21 ستمبر کو آسکانی بازار آپسر میں ایف سی نے فائرنگ کرکے ہمارے خاندان کے خاتون تاج بی بی کو قتل کیا-

انہوں نے کہا کہ یہ ظلم اور بلوچوں کو اپنی سرزمین میں ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس میں براہ راست ایف سی بلوچستان ملوث ہے لہذا اب اس مظالم کے سلسلے کو ختم ہونا چاہیے –

جانبحق بچوں کے لواحقین نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے ایف سی کو فوری طور پر عوامی مقامات، عام آبادیوں، اسکول، کالج پبلک پارک، مساجد اور بازاروں سے ہٹائے جائے اور عوامی مقامات سے ایف سی کے تمام چیک پوسٹ اور کمیپ ختم کرکے اسکی جگہ فوری طور پر پولیس اور لیویز کو تعینات کیا جائے –

مطالبات میں تاج بی بی اور ہوشاب کے جانبحق بچوں کی قتل کے مقدمات آئی جی ایف سی ساوتھ کے خلاف درج کرنے اور ڈی سی کیچ کو حقائق چھپانے، ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے جرم میں فوری طور پر معطل کیا جائے –

مطالبات میں کہا گیا ہے کہ ہوشاب واقعہ میں جاں بحق بچوں کی لواحقین کو جبری نقل مکانی سے نجات دیکر آبائی گاؤں میں رہنے کی اجازت دی جائے اور ان تمام مظالم کے خلاف ہائی کورٹ میں اسپیشل ٹربیونل قائم کرکے اس کے ذریعے مکمل تحقیقات کیا جائے –