پہاڑوں کے اُس پار ۔ محمد خان داؤد

110

پہاڑوں کے اُس پار

تحریر:محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ پہاڑوں کے اس پار معصوم بچے اور بکریاں ہانکا کرتا تھا۔اب پہاڑوں کے اس پار بس بکریاں رہ گئی ہیں۔وہ آنسو اور معصوم مردہ بچے تو ساتھ لے آیا ہے۔ہمیں دکھانے،تمہیں دکھانے،اسے دکھانے،اُسے دکھانے،سرکار کو دکھانے،سرکاری کارندوں کو دکھانے اور یہ بتانے کہ اب اس کے پاس پہاڑوں کے اس پر بس بکریاں رہ گئی ہیں بکریاں۔

بوڑھی آنکھوں میں آنسو نہیں ہو تے، بوڑھے آنکھوں میں تو دکھ ہو تے ہیں۔ پر اس کی بوڑھی آنکھوؤں میں بہت سے دکھوں کے ساتھ بہت دکھ ہیں جو وہ ہمیں دکھانے آیا ہے۔ وہ ہمیں سرد لاشیں دکھانے آیا ہے، وہ ہمیں دکھ دکھانے آیا ہے، وہ ہمیں آنسو دکھانے آیا ہے،
وہ پہاڑوں کے اُس پار سے ہمیں بس یہ کہنے آیا ہے”میں بہت اکیلا ہوں!“

وہ ہمیں اپنی اکیلائی دکھانے آیا ہے۔ وہ اس ماں کو بھی لے آیا ہے جس ماں کے دامن میں بچے تھک کر سو جا تے تھے۔بچے اب بھی سو رہے ہیں اور ماں جاگ رہی ہے،پر ماں بھی تو ویرانے میں سو جا تی ہے جہاں رات کے آخری پہروں میں دو بچے دنیا وہ مافیا سے بہت دور دیر تک سو رہے ہیں
اور ماں کا دامن اداسی کا پرچم بنا ہوا ہے
اور رات کی تاریکی اور سیاہی میں سوتی ماں روتی ماں پر ماتمی موسم چھایا ہوا ہے
اور ماں سب سے پوچھ رہی ہے
”کہاں ہے انصاف کا در؟
کہاں ہے سرکار کا گھر؟
کہاں ہے حکمران!“
پہاڑوں کے اُس پار بھی ماں کے لیے دکھ تھا اور پہاڑوں کے اِس پار بھی ماں کے پاس دکھ ہے
پہاڑوں کے اس پار بھی ماں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور پہاڑوں کے اس پار بھی ماں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے
پر پھر بھی پہاڑ آگے بڑھ کر ماں کو بہانوں میں لے کر ماں کا دکھ دور کرتے تھے
پر شال کے باسیوں کو کیا ہوا ہے؟کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اک ماں دو تابوتوں کے ساتھ بے سرو سامانی میں آکاش کے نیچے بچوں کو را تی ہے اور شال کے باسی اس ماں سے آنکھیں اور دامن ایسے بچا کر نکل جاتے ہیں کہ جیسے یہ ماں اس دیس کی ان پہاڑوں،پربتوں،ندی نالوں آبشاروں نخلستانوں کی نہ ہو۔

حالاں کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی نا انصافی اور بد معاشی پر پورا بلوچستان اگر پورا بلوچستان نہ صحیح تو پورا شال اُمڈ آتا اور آخر اس بوڑھی ماں اور بوڑھے مہراب کے آنسو پونچھتا اور اس دلاسہ دیتا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں پر ایسا کچھ نہیں ہے ماں اپنے ہی دیس کی گلیوں میں ایسے اکیلی ہے جیسے سسئی اپنے ہی دیس میں اکیلی تھی جب سسئی کا انسانوں نے ساتھ چھوڑا تھا تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑے بے جان پتھر آگے بڑھ کر سسئی کے ساتھ ہوئے تھے اور سسئی سے پوچھا تھا
”بتاؤ!ہم تمہا رے لیے کیا کریں؟!“
جب بھی سسئی نے جواب دیا تھا
”تم پتھر ہو بے جان ہو ساتھ تو نہیں چل سکتے پر رو تو سکتے ہو میرے دکھوں پر
سو روؤ۔۔۔۔
ڈونگر مون سین روئے کڈھی پار پنھوں جا!
پتھروں!پنہوں کا نام لو اور میرے ساتھ روؤؤ!“
ایسے ہی وہ پہاڑ،ان پہاڑوں پر پڑے پتھراس دکھی ماں کے ساتھ چل تو نہیں سکتے پر رو تو سکتے ہیں
تو سنو شال کے باسیو!
یہ ماں بھی پیچھے سسئی کی ماند اپنے دردوں کے واسطے پتھر رونے کو چھوڑ آئی ہے
جو اس ماں کے پنہوں کے پار نکال کر رو رہے ہیں
پر تم نہیں آتے
تم نہیں آتے
تم نہیں آتے شال کی گلیوں میں
تم نہیں آتے
تم نہیں تکتے اس آسماں کو
جو شال کے حصے کا ہے
جس پر چاند طلوع ہوتا ہے
اور ہر روز خود کشی کرتا ہے
نہ تم مرتے چاند کو دیکھتے ہو
نہ رو تی ماں کو
تم نہیں آتے
تم نہیں آتے
تم نہیں آتے شال کی گلیوں میں
جہاں اک بوڑھا اپنی بکریاں پہاڑوں کے دامنوں میں چھوڑے
مردہ بچے لے آیا ہے
وہ لوٹ جائے گا
جلد لوٹ جائے گا
پہاڑوں کے دامنوں میں
آنسو آنکھوں میں رہ جائیں گے
اور بچے پہاڑوں کے دامنوں میں قبر بن جائیں گے
تم کیوں نہیں آتے شال کی گلیوں میں
کوئی آئے نہ آئے وہ لوٹ جائے گا پہاڑوں کے دامنوں میں،پتھروں پر تاریخ درج کرے گا کہ کس تاریخ کو چار گولیوں نے چار سینوں کو گھائل کیا تھا
دو گولیاں وہ جس سے دو معصوم سینے گھائل ہوئے اور دو گولیاں وہ جس سے دو بوڑھے گھائل ہوئے
وہ ان پہاڑوں پر پڑے پتھروں پر یہ بھی درج کرے گا کہ کیسے بھاگتے کھیلتے بچے اک دم تابوت میں بند ہوگئے
وہ ان پہاڑوں پر پڑے پتھروں پر یہ بھی کندہ کرے گا کہ وہ شال کی گلیوں میں کیسا بے بس تھا
وہ یہ ضرور درج کرے گا کہ وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا
وہ یہ لکھے گا کہ جیسے ہی شال کی گلیوں میں رات چھا جا تی تھی تو ان پر ماتمی موسم چھا جاتا تھا
وہ یہ بھی درج کرے گا کہ جب وہ اپنی تمام طاقت کو جمع کر کے دردوں کوسمیٹ رہا تھا تب بلوچ سیاست اس بحث میں اُلجھی ہوئی تھی کہ جام کمال وزیر اعلیٰ رہے یا قدوس بزنجو؟!
وہ یہ بھی درج کرے گا کہ وہ تو پہاڑوں کے اُس پار سے دردوں کو تابوتوں میں بند کیے چلا آیا
پر شال کی گلیوں میں سانپ پھر گیا تھا
اور وہ اکیلا تھا چاند کی ماند
دردوں کے ساتھ
دو لاشوں کے ساتھ
اور بہت سی باتوں کے ساتھ
اس دامن کے ساتھ
جس دامن کو شال کے باسی پرچم بنا سکتے تھے
پر وہ دامن ٹشو پیپر بھی نہ بن پایا
کوئی آئے نہ آئے،اس سے پوچھے نہ پوچھے۔اس کی آنکھوں سے آنسو پونچھے نہ پونچھے
وہ بہت جلد چلا جائے گا
پہاڑوں کے اُس پار
پہاڑوں کے اُس پار


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں