نوید اور ساجد بلوچ کے گمشدگی کے کوائف جمع، آج احتجاجی مظاہرے کا اعلان

124

جبری طور پر لاپتہ نوجوانوں نوید بلوچ اور ساجد علی بلوچ کے لواحقین نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پاس ان کے گمشدگی کے کوائف پروفارمہ پر درج کرکے تنظیم کے پاس جمع کردیئے۔

لاپتہ نوید بلوچ کے لواحقین کے مطابق نوید احمد ولد غلام نبی بلوچ سکنہ بلال کالونی، سیٹلائیٹ ٹاون کوئٹہ کو 11 اکتوبر 2021 کو سی ٹی ڈی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے رات کو گھر سے اغواء نما گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ نوید بلوچ کو جب حراست میں لیا گیا اس وقت گھر میں لواحقین موجود تھے۔ اس دوران اہلکاروں نے گھر میں موجود خواتین و بچوں سمیت دیگر افراد کو زدوکوب کیا اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نوید کے لواحقین کا کہنا ہے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے تمام گھر والوں کے سامنے نوید کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ اس کی ویڈیو بھی موجود ہیں لیکن حکام ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہیں۔

دریں اثناء انسہ بلوچ نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس سے قبل میرے بھائی عامر بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اس غیر قانونی عمل کیخلاف ہم نے احتجاج کیا بعدازاں وہ رہا ہوگیا جبکہ ایک دفعہ پھر میرے دوسرے بھائی نوید کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

انسہ بلوچ نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج دوپہر تین بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے نوید سمیت تمام لاپتہ کی بازیابی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

وی بی ایم پی کیمپ میں موجود تابش بلوچ اپنے لاپتہ بھائی ساجد علی بلوچ کے جبری گمشدگی کی تفصیلات تنظیم کے پاس جمع کردیئے جس کے مطابق ساجد علی بلوچ ولد جان محمد بلوچ سکنہ کیل کور تحصیل گوارگو، پنجگور کو 24 اگست 2021 کو لاپتہ کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ساجد علی کو آدھی رات کو فرنٹیئر کور اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گھر پر دھاوا بول کر اس وقت حراست میں لیا جب وہ سو رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ اہلکار تین گاڑیوں میں آئے تھے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ مذکورہ اہلکاروں نے ساجد علی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گاڑی میں بٹھا دیا اور اپنے ہمراہ لے گئے۔