قیامت – دیدگ بلوچ

132

قیامت

تحریر: دیدگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اگر دیکھا جاۓ تو ملک کے چپے چپے بلکہ دنیا میں ہر جگہ قیامت کے مناظر ہیں۔ تاہم ہر انسان کے سوچ و حالات کے مطابق قیامت کی الگ معنی ہوگی۔ دیہات میں بسنے والے انسان کے نزدیک قیامت کے اپنے معنی۔ اس کے سوچ کے مطابق جب قیامت آۓ گا تو عذاب نازل ھوگا ، قہر ٹوٹےگا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح میر٫سردار ٫خان ٫جاگیردار ٫وڈیرہ یا ملک کی نظر میں قیامت کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں ۔ سماج کے عظیم انسان یعنی شاعر ادیب فلسفہ دان اور مصنف کی سوچ میں قیامت کے الگ معنی ہیں۔ مُلا پادری پنڈت اور مداری کے دماغ میں قیامت کے معنی یقیناً کسی عذاب خوف سزا اور جزا کے سوا کچھ اور نہیں۔ شہر میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک دیہاتی طالبعلم کی سوچ و نظریہ میں قیامت کے اپنے معنی ہیں۔ اسی طرح محبوبہ کا روٹ جانا ، تنگ دستی و مفلسی کا مسلسل رہنا کسی کا ابدی غلام رہنا اور کسی کےمال و جائیداد کا لٹ جانا سب قیامت کے معنی میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔

لیکن اس مضمون میں جس قیامت کا ذکر کرنا ہے اس قیامت کے معنی باقی سب معنوں سے جدا ہے کیونکہ میں ایک طالبعلم ھوں کوئی شاعر ادیب لکھاری نہیں ہوں اور نہ ہی فلسفے کا دعوےدار ھوں۔لہذا میرے اور کچھ قریبی دوستوں کے نزدیک قیامت کے اپنے معنی ہیں۔ جیسے شروع سے ہی مضمون میں ذکر آ چکا ہے کہ ” “قیامت ” تو یقیناً اس قیامت کے معنی کا مذہبی قیامت سے کوئ تعلق نہیں ۔

اتفاق سے ایک دن میں اور “سنگت میر شہوانی” ویگن سٹاپ سے گزرہے تھے کہ اچانک ہماری نگاہ چند لوگوں پر پڑی جو غیر مقامی تھے جو ہمیں بہت غور سے دیکھ رہے تھے ہمیں محسوس ھوا کہ شاید ھم انکو کوئی نئی چیز نظر آرہے ہیں۔ جبکہ ان کےساتھ دو تین پنجابی لباس میں ملبوس لڑکیاں بھی تھیں۔ تو میر نے پوچھا کہ “دیدگ” کیا معاملہ ھے میں نے جواباََ کہا “قیامت ” کیونکہ یہ سب چیزیں ہمارے رسم و رواج سے الگ تھیں اور ہمیں عجیب لگ رہا تھا اور ہم دونوں دیہات سے آئے ھوئے طالبعلم تھے جسکی وجہ سے یہ سب کچھ ہمارے سامنے قیامت کا منظر پیش کررہا تھا۔کیونکہ وہ اجنبی نگاہوں سے بے مقصد ہمیں گھور رہے تھے۔

وہ لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے وہ مقامی لوگوں کو یہ باور کرارہے تھے کہ تم سب باہر سے آئے ھوئے ھو اور ھم یہاں کے وارث ہیں۔ وہ عام لوگوں کو بہت حیرت انگیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔اسلیئے جو شخص بھی انکو دیکھتا تو وہ خود شرمندہ ھوتا کہ شاہد واقعی مجھ میں کوئی عیب ھے۔ لیکن حقیقت میں عیب مقامی لوگوں میں نہیں اس نئے آئے ھوئے عجیب مخلوق میں تھا۔

وہ تنگ اور بے ہودہ لباس میں ملبوس ہوکے روڈ کے کنارے کھڑے ہوکر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرانا، نوجوانوں کے خیالات کا ابھارنا انکے ذہنوں میں مختلف اور نئے نئے تصور کا جگہ بنانا ہی ایک عجیب اور یہاں کیلئے ایک غیر رسمی نظارہ تھا۔ جسکو وہ لوگ خود بہت enjoy کررہے تھے۔

وہ خود کو یہاں کا مالک شو کرنا چاہ رہے تھے لیکن کوئی باور نہیں کر رہا تھا۔ وہ خود اجنبی ھونے کے بجائے مقامیوں کو اجنبی متعارف کررہے تھے۔ کیونکہ انکے خیال میں یہ چیز پہلے سے موجود تھی پہلے سے انکا ذہنیت بنایا گیا تھا کہ وہاں یعنی بلوچستان میں سب جاہل ہیں ان پڑھ ہیں وہ لوگ کچھ نہیں جانتے ان میں تعلیم اور شعور کے نام کی کوئی چیز نہیں، وہ لڑائیاں کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے مسلؤں پہ اپنے ہی بھائی کا گلہ کاٹ دیتے ہیں۔ بدمعاش ہیں باغی ہیں وحشی ہیں پتا نہیں کیا کیا پڑھا کے انکو یہاں بھیجا گیا تھا اور وہ انہی سوچوں میں گُم آکے موسئ کالونی ویگن سٹاپ پہ رکے اور لوگوں کو گھور رہے تھے۔
کیونکہ ھمارے اندر بھی ایک ڈر اور خوف ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ھے کہ بھائی پنچاپی سارے طاقتور ہیں انکے پاس اداروں کا اختیار ھے وہ زورآور ہیں۔ وہ لوگوں کو اغواءَ کرتے ہیں۔قتل کرتے ہیں طرح طرح کے اذیت دیتے ہیں وغیرہ وٖغیرہ۔ اسلیئے کوئی بھی ان سے پوچھ نہیں رہا تھا کہ کون ھو؟ کہاں سے آئے ھو؟ کہاں جارہے ھو؟ شناختی کارڈ دیکھاؤ وغیرہ ؟ اسی ذہنیت نے ہمارے لوگوں کو ایسے خوف میں مبتلا کیا کہ ھم روڈ پہ گالی سن کر yes sir کہہ کے سر نیچے کر کے گزر جاتے ہیں اور خوشی خوشی برداشت کرتے ہیں ۔اپنے بلوچیت کا جنازہ اپنے سامنے اٹھتے دیکھ کر خاموش ھو جاتے ہیں۔ اسلئے آج بھی ھم غلامی کے اعلی درجہ پر فائز ہیں۔ پتا نہیں ھم کب سمجھیں گے؟

لوگؤں کا باہر سے آکے ادھر مقامی لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور پھر اپنے عادات و حرکات سے مقامی لوگوں کو یہ باور کرانا کہ تم سب لوگ جاہل ھو اور تم لوگوں کی عورتیں ان پڑھ اور ناسمجھ ہیں ۔ بلوچستان کی عورتیں ذہنی غلام ہیں۔گھروں تک محدود ہیں اور چیزوں کا صحیح ادراک نہیں کر سکتیں۔ یہاں کی عورت کو روز غیرت کے نام پر قتل ھورہی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ان کو طرح طرح سے ہراساں کیا جاتا ہے، گرلز ہاسٹل میں کیمرے لگے ہیں ۔دوسرے صوبوں کے لوگ یہاں کے مقامی تعلیمی اداروں میں آکر حکمرانی کررہے ہیں اختیارات سارے انکے پاس ہیں۔وہ جو چاہیں قانون پاس کریں آپکو بولنے کا حق نہیں وہ جب چاہیں جس کو اٹھا لیں آپکو پوچھنے کا حق نہیں وہ جہاں چاہیں چوکی لگائیں آپکو منا کرنے کا حق نہیں۔وہ جس بھی سماجی و تعلیمی ادارے کو چاہیں قبضہ کریں آپکو سوال کرنے کا حق نہیں ۔ وہ جس گھر میں چاہیں چھاپا لگائیں فائرنگ کر دیں گولے برسا دیں آپکو بات کرنے کا حق نہیں وہ جہاں چاہیں جب بھی چاہیں کسی بھی گھر میں گھس کر سرعام عورتوں کی عزت پامال کریں آپکو مزاحمت کرنے کا حق نہیں، وہ جس معصوم کا قتل سرعام کریں آپکو زندگی مانگنے کا حق نہیں، تو کب تک اس طرح کے بے ھودہ حرکتوں کا مقابلہ صرف خاموشی سے کرتے رہو گے؟

ان خیالات کا اور ساتھ میں ان اجنبی عورتوں اور مردوں کے تصور کا ہمارے ذہن میں گردش کرنا، اور ان تمام تر محرمیوں کا خاموش تماشائی بننا یقیناً میرے اور سنگت میر شہوانی کے نزدیک قیامت سے کم نہیں تھا۔اسلیۓ ھم نے یک آواز ھو کےکہا “قیامت”۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں