بی این ایم کی جانب سے جنوبی کوریا میں پاکستانی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

229

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ آج اتوار کے روز جنوبی کوریا کے شہر سویانگ میں بی این ایم کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔ مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور حالیہ واقعات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا جن میں پاکستانی فوج نے ہوشاپ میں دو کمسن بچوں اللہ بخش ولد واحد اور شراتون بنت واحد کو قتل اور ضلع واشک کے علاقے ٹوبہ میں دس سالہ بچی صنم بنت جمیل اور چھ سالہ گزین ولد جمیل کو جبری لاپتہ کرکے خفیہ زندانوں میں رکھا گیا ہے۔

پارٹی کی جانب سے مظاہرین نے مقامی لوگوں میں پمفلٹ تقسیم کی اور ہاتھوں میں شہید اور جبری گمشدگی کے شکار بچوں کی تصاویر اُٹھاکر پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی۔

مظاہرے سے سمیر بلوچ، حفصہ بلوچ اور بختاور بلوچ نے خطاب کیا۔

سمیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی فوج کی وجہ سے بلوچستان میں صورتحال نہایت گھمبیر ہے جو بلوچستان پر قبضہ کے بعد سے جاری ہے۔ بلوچ قوم اس قبضہ کے خلاف اور آزادی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس جدوجہد کو دبانے کیلئے پاکستان نہایت بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ہزاروں بلوچوں کو پاکستان نے قتل کیا ہے اور ہزاروں لاپتہ ہیں۔ وہاں جنگی جرائم کی ایک وسیع فہرست ہے۔ پچھلے ہفتوں پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب بلوچستان میں مارٹر فائر کرکے دو معصوم بچوں کی جانیں لے لیں اور ایک کو زخمی کیا۔ وہ اپنے گھروں کے قریب کھیل رہے تھے۔ اس سے پہلے اسی ضلع میں حیات بلوچ کو اس کے والدین کے سامنے گولی مار کر شہید کیا گیا۔ ایک خاتون تاج بی بی کو فوجی چیک پوسٹ سے فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ اسی طرح بلیدہ میں رامز بلوچ کو گھر میں گھس کر براہ راست فائرنگ سے شہید کیا گیا۔

سمیر بلوچ نے کہا کہ ٹوبہ ضلع واشک میں دس سالہ بچی صنم جمیل اور چھ سالہ گزین جمیل کو پاکستانی فوج نے جارحیت کے دوران جبری گمشدہ کیا جو اب تک لاپتہ ہیں۔ ہم کوریا کی سرکار اور تمام بین الاقوامی تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں کہ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں۔

حفصہ بلوچ نے کہا کہ پچھلے چہتر سالوں میں پاکستانی فورسز بربریت کی نئی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔ جبری گمشدگیاں، مارو اور پھینکو، جعلی انکاؤنٹرز روز کا معمول بن چکی ہیں۔ پاکستانی فورسز بلوچستان میں جنگی جرائم کا مرتکب ہیں۔ چالیس ہزار سے زائد بلوچ لاپتہ ہیں اور پاکستانی خفیہ زندانوں میں اذیتیں برداشت کر رہی ہیں۔ پاکستانی فورسز نے حیات بلوچ کو دن کی روشنی میں قتل کیا۔

حفصہ بلوچ نے کہا کہ بین الاقوامی خاموشی بلوچستان میں پاکستان کی بربریت اورنسل کشی میں روز اضافے کی سبب بن رہی ہے۔ اگریہ خاموشی اسی طرح برقراررہی توپاکستان انسانیت کے خلاف جرائم کو آزادی سے دہرا تارہے گا۔ ہم انٹرنیشنل کمیونٹی سے درخواست کرتے ہیں