بلیدہ میں بلوچ چادر و چاردیواری کی پامالی و معصوم بچے کا قتل درندگی ہے – بی ایس او

186

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں گزشتہ رات بلیدہ میں سی ٹی ڈی کی جانب سے گھر میں چھاپہ،چادر و چاردیواری کی پامالی اور فائرنگ سے معصوم بچے کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے درندگی اور بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

ترجمان بی ایس او نے کہا ہے کہ پولیس نے بلوچ رویات کو روند کر گھر پر چھاپہ مارا اور اندھا دند فائرنگ سے ایک دس سالہ بچہ رمیزخلیل کو شہیدکردیا جبکہ ان کے چھوٹے بھائی کو زخمی کردیا جو اپنے نوعیت کا دردناک واقع ہے۔ ملکی آئین و قانون میں ایک شخص کی گرفتاری کیلئے پورے خاندان کو نشانہ بنانا اور بچوں پر فائرنگ کرنا سنگین جرم ہے۔ اگر ایک شخص کسی بھی جرم میں نامزد ہے تو انکو قانونی طور پر سزا دینے کے مختلف طریقے ہیں ناکہ معصوم بچوں اور گھر کے خواتین کو اجتماعی ظلم کا نشانہ بنایا جائے

بلیدہ واقعہ پر کیچ انتظامیہ اور حکومت بلوچستان کی خاموشی نے سوال اٹھالیا ہے۔ بلوچستان میں نئے گیم کے تحت بلوچ کش پالیسیوں کو وسعت دیکر سی ٹی ڈی کی شکل میں لاپتہ افراد کو جعلی انکاؤنٹر کے نام پر قتل کیا جارہا ہے اور بلوچ چادر و چاردیواری کی پامالی کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ گھر میں گھس کر دہشت گردوں کی طرح خاندان کو زد و کوب کرنا اور معصوم بچوں کو قتل کرنا انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔