بلوچستان ہائیکورٹ کا خواتین کے وراثت میں حقوق دینے کے بارے خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم

331

بلوچستان ہائیکورٹ (بی ایچ سی) نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی وراثت کے مقدمات کی ترجیحی طور پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے.

ایک اہم فیصلے میں بی ایچ سی کے ایک ڈویژن بینچ، جس میں چیف جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل شامل ہیں، نے وراثت میں خواتین کے اسلامی اور آئینی حقوق کی متعدد مثالیں دی ہیں انہوں نے کہا کہ “انصاف میں تاخیر مطلب انصاف سے انکاری ہے” ، عدالت نے ملک میں زیر التوا وراثت کے مقدمات پر مکمل بحث کی۔

عدالت نے سینئر وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔

سینئر وکیل ساجد ترین کے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا کہ مردوں کے زیر اثر معاشرے میں خواتین کو وراثت کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ وراثت کی اپیلوں/نظر ثانیوں کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وراثت سے متعلق اپیل نظر ثانی کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر کیا جائے عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو خواتین کی شرکت کے بغیر کسی بھی قسم کا تصفیہ کرنے سے بھی منع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیشتر معاملات میں زمین کا تصفیہ مرد کرتے ہیں اور اس سلسلے میں خواتین سے کبھی مشاورت نہیں کی جاتی۔

عدالت نے مقامی ڈپٹی کمشنرز کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں خواتین کے اساتذہ اور ہیلتھ پروفیشنلز کے ذریعے کسی بھی حقوق و تصفیے کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے تاکہ خواتین کو انکے حقوق کے بارے آگاہ کیا جا سکے-

بلوچستان ہائی کورٹ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر) کو بھی ہدایت کی کہ وراثت کے حقوق کے حوالے سے خواتین کی شکایات کو دور کرنے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے ریونیو سٹاف کے خلاف کسی شکایت کی صورت میں متاثرہ خواتین بی ایچ سی کے رجسٹرار سے بھی رجوع کر سکتی ہیں۔

حکم نامے کے مطابق صوبے میں تصفیہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ان فیصلوں میں خواتین کے نام شامل نہیں ہیں بلکہ مرد فیصلہ کرتے ہیں اور محکمہ ریونیو خواتین کو اسلامی اور آئینی حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ہائی کورٹ کے حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ وراثت کے ہر معاملے سے پہلے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو نادرا سے خاندانی شجرہ کے بارے میں مشورہ لینا چاہیے جس میں تمام مرد اور خواتین شامل ہوں-

جسٹس ملاخیل نے ایس ایم بی آر اور ڈائریکٹر جنرل نادرا کو اس سلسلے میں ایک میٹنگ منعقد کرنے اور ایک بہتر طریقہ کار تیار کرنے کا بھی حکم دیا عدالت نے نادرا کو ایک خصوصی شکایت سیل قائم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ایس ایم بی آر کو خواتین کی وراثت کے معاملات میں بروقت معلومات کو یقینی بنایا جا سکے۔

جسٹس ملاخیل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کو ان کے اسلامی اور آئینی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے جیسا کہ وہ قبل از اسلام معاشرے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور آئین کی پیروی کرنے کے بجائے ہمارے لوگ روایات اور رسم و رواج کی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے معاملات میں بیٹے ماؤں کے وراثت کے حقوق مانگتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت کے حقوق دینے سے بھی گریزاں ہیں۔