بلوچستان میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی ریاستی جبر کو جہاں ایندھن فراہم کر رہی ہے- بی ایس او آزاد

99

‎بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں تنظیم کے سابقہ مرکزی انفارمیشن سیکرٹری شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کو پانچ برس کا طویل دورانیہ گزرنے کے باوجود اُنھیں منظر عام پر نہ لانے اور اِس حوالے سے عالمی اداروں کے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اسیران کو دہائیوں جبری گمشدگی کا شکار بنائے رکھنااور عالمی اداروں کی جانب سے مکمل طور خاموشی کا لبادہ اوڑھے رکھنا نہایت ہی تشویشناک ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ جبری قبضے سے لیکر آج تک ریاست پاکستان تسلسل کے ساتھ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کرتی آرہی ہے، جہاں ریاست کی جانب سے نہتے اور عام عوام کو بیچ چوراہے پر گولیوں سے چھلنی کیا جارہا ہے وہیں سیاسی جہدکاروں اور بلوچ تحریک سے جڑے افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرتے ہوئے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جار ہی ہیں۔ریاست نے جہاں بلوچ سرزمین کو ایک مقتل گاہ بنایا ہوا ہے وہیں روزانہ درجنوں کی تعداد میں نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرتے ہوئے عقوبت خانوں کے نذر کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں جاری جبر و بربریت اور روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود عالمی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

‎انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری اِس بربریت میں تنظیم ہمیشہ ہی سے ریاستی عتاب کا شکار رہی ہے۔ ریاست کی جانب سے تنظیم کے سینکڑوں کارکناں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے اُن کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں درجنوں مرکزی عہدیداروں کو شہید کیا گیا جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مرکزی رہنما اور کارکنان دہائیوں سے تاحال ریاستی عقوبت خانے میں پابند سلاسل ہیں۔ تنظیم کے سابق وائس چیئرمین ذاکر مجید کو جبری طور پر لاپتہ ہوئے بارہ سال ہو چکے ہیں جبکہ سابق چیئرمین زاہد بلوچ کی جبری طور لاپتہ ہوئے سات برس کا طویل دورانیہ گزر چکا ہے۔ مرکزی رہنماؤں اور کارکنان کی جبری گمشدگی کا مقصد تنظیم کے پرامن جدوجہد کو کچلنا ہے اور شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی اسی تسلسل کی ہی کڑی ہے۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم کے سابق انفارمیشن سیکرٹری شبیر بلوچ کو 4اکتوبر 2016 گورکوپ کیچ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف تنظیم اور اُن کے خاندان کی جانب سے مختلف ادوار میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا اور عالمی اداروں سے شبیر بلوچ کے باحفاظت بازیابی کےلیے اپیل کی گئی۔ اُن کے خاندان کی جانب سے کوئٹہ اور کراچی سمیت اسلام آباد میں بھی احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت کسی بھی عالمی انسانی حقو ق کے اداروں کی جانب سے شنوائی نہیں ہوئی۔عالمی اداروں کی غیر سنجیدگی اور بے حسی کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم کی جانب سے عالمی اداروں کے نام خطوط بھی ارسال کی گئیں لیکن انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے سیاسی اسیران کی بازیابی کےلیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیا گیا۔

‎اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی ریاستی جبر کو جہاں ایندھن فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب عالمی اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شبیر بلوچ ایک پرامن طلبا تنظیم کے مرکزی رہنما تھے اور پانچ برس تک انھیں جبری گمشدگی کے باجود منظر عام پر نہ لانا نہایت ہی تشویشناک ہے۔ اسی اثنا میں شبیر بلوچ کے خاندان کی جانب سے 4اکتوبر 2021 کو اُن کی جبری گمشدگی کو پانچ سال مکمل ہونے پر کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں تمام انسان دوست اور قوم دوست افراد کی شرکت ایک لازمی امر بن جاتا ہے۔ اسی دن تنظیم کی جانب سے شبیر بلوچ کی باحفاظت بازیابی کےلیے سوشل میڈیا کیمپین بھی چلائی جائے گی۔