بساک چیئرپرسن صبیحہ بلوچ کے بھائی اور کزن کی بازیابی کےلیے کراچی میں احتجاجی ریلی

123

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی چیئرپرسن ڈاکٹر صبیحہ کے بھائی اور کزن کی بازیابی کےلئے آرٹ کونسل سے لیکر کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں طلباء سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ہے۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عہد حاضر میں طلبا سیاست پر مکمل طور پر قدغن عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طلباء سیاست کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور طالب علموں کو سیاست سے دور رکھنے کےلیے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی چیئرپرسن صبیحہ بلوچ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی اسی تسلسل کی کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ کہیں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے تو دوسری جانب سیاسی کارکنان کو خاموش کرانے کےلئے مختلف ہتھنکڈے آزمائے جارہے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں کئی سوالات ابھر کر آتے ہیں کہ آیا ڈاکٹر صبیحہ نے وہ کونسی گناہ کی ہے جس کے بنا پر انہیں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے،وہ کونسے عوامل ہیں جو ایک جمہوری سیاسی طریقہ کار پر یقین رکھنے والے کارکن کو اذیت میں مبتلق کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صبیحہ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی ایک غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل ہے جس کی پرزور مذمت کی جاتی ہے اور اس عمل کے خلاف ہر ذی شعور طبقے کو کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ ہمیشہ ہی مظلوموں کی آواز بنی رہی اور آج انہیں خاموش کرانے کےلئے ان کے خلاف ایک محاذ کھول دی گئی ہے۔