کوئٹہ میں میڈیکل طلباء کا احتجاج، مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ

180

کوئٹہ میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ اور پولیس تشدد کیخلاف طلباء نے گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب دھرنا دیا گیا، دھرنے میں شریک طلبہ کا پولیس کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ سے متعدد طالب علم زخمی ہوگئے۔

آل بلوچستان میڈیکل اسٹوڈنٹس نے پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے لئے گئے میڈیکل ٹیسٹ کیخلاف گذشتہ روز کوئٹہ میں گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب مرکزی چوک بلاک کرکے دھرنا دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ آن لائن ٹیسٹ میں پیچیدگیوں کی وجہ سے بلوچستان کے زیادہ تر طلباء کامیاب نہ ہوسکے، آن لائن کی بجائے دوبارہ فزیکل ٹیسٹ لیا جائے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ پی ایم سی اور وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے۔

رات گئے مظاہرین کا حکام سے مذاکرات چلتی رہی تاہم بعدازاں آدھی رات کو پولیس نے گورنر ہاوس کے سامنے دھرنا دینے والے طالب علموں پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے متعدد طالبعلموں کو گرفتار کیا جبکہ درجنوں طالبعلم لاٹھی چارج کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور بی ایس او کے مشترکہ علامیے میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین پر تشدد کے خلاف آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ مطالبات کے حل تک دھرنا جاری رہے گا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلباء پر امن احتجاج پر بیٹھے جائر مطالبات کے حق میں جدوجہدکر رہے ہیں بجائے اسکے کہ انکی بات سنی جائے اور انکا مسئلہ حل کیا جائے نام نہاد سلیکٹڈ حکومت اور نااہل انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ معصوم طلبہ پر تشدد کیا جارہا ہے۔

اسی طرح خضدار میں بھی پی ایم سی کے طلبا حق میں گذشتہ روز سول سوساٸٹی کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا جس کی مختلف طلبا تنظیموں اور پارٹیوں نے حمایت کی تھی۔ احتجاجی ریلی شہید پروفیسر رزاق چوک سے شروع ہو کر خضدار پریس کلب کے سامنے جلسے کی صورت میں اختتام پذیر ہوا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع خضدار کے صدر شفیق الرحمان ساسولی نے کوئٹہ میں طلباء و طالبات پر لاٹھی چارچ کو سفاکیت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے ایک بجے گورنر ہائوس کے سامنے ہمارے مستقبل کے معماروں پر لاٹھی چارچ کی گئی، یہ غنڈہ گردی و دہشت گردی کا سلسلہ بند کیا جائے۔