بلوچستان میں تعلیم حاصل کرنا ایک جُرم؟ – جلال احمد

98

بلوچستان میں تعلیم حاصل کرنا ایک جُرم؟

تحریر: جلال احمد

دی بلوچستان پوسٹ

تعلیم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی علم سے مشتق ہے اور علم کے معنی جاننا، آگاہی حاصل کرنا، شعور، واقفیت یا باطنی روشنی کو علم کہا جاتا ہے۔

اسی ‌طرح تعلیم حاصل کرنے سے لوگوں کے اندر شعور اور نظم وضبط پیدا ہوتا ہے، جس سے لوگ ایک ضابطے کے تحت زندگی بسر کر سکتے ہیں، تعلیم حاصل کرنے سے نسلیں کامیابی کی طرف جاتے ہیں۔ اور اپنے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔

دنیا میں چائے جتنی قومیں ہیں اُن کی ترقی کا راز صرف تعلیم ہے۔ ہم دیکهیں اس جدید دور میں بغیر تعلیم کے زندگی بسر کرنا بہت مُشکل ہے کیونکہ اس دور میں دنیا کے ہر کونے پر تعلیم کارآمد ہے تعلیم نسلوں کو کامیابی کی طرف گامزن کرتا ہے بلکہ تعلیم حاصل کرنا صرف لکهنے پڑهنے کو نہیں کہتے ہیں، تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق اور ادب بهی ساتھ میں آتا ہے چونکہ اگر کسی انسان نے تعلیم حاصل کیا اور اس کو اخلاق اور ادب نہیں ہے تو اس کی تعلیم کو کوئی مقصد ہی نہیں پهر وه کامیابی کی طرف نہیں بلکہ وه جاہلیت اور بربادی کی راستہ اختیار کر رہا ہے۔ اسی تعلیم کی بدولت لوگ اپنے حقوق جانتے ہیں، یہی تعلیم لوگوں کے دلوں میں انقلاب کو جنم دیتا ہے اسی تعلیم کے بدولت لوگ خوشحال زندگی گزارتے ہیں اسی تعلیم کے بدولت قومیں اور نسلیں غیروں سے آزاد ہوتے ہیں۔

اب بات آتا ہے بلوچستان کی تعلیم کی تو بلوچستان بالکل تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے اور بلوچستان کو صرف لوٹا جا رہا ہے۔ اور اس کی معدنیات اور قدرتی وسائل کو ایک اچھا اور خاص درجہ دیا جاتا ہے لیکن اِدهر کے طالبعلم جو ہر روز تعلیم کے لیے چیخ چیخ کر اجتجاج کرتے ہیں تو کبهی مارے جاتے ہیں اور کبهی ان کو دہشت گرد کہہ کر اغواء کر کے لاپتہ کر دیا جاتا ہے تو کبهی عورتوں اور لڑکیوں کی عزتیں پامال کر دیئے جاتے ہیں بلکہ ایک دن نہیں ہر روز ایسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں ، بلکہ ایک دن میں سینکڑوں کی تعداد میں طالب علموں کو اٹهایا جاتا ہیں اور کبهی ان طالب علموں کی مسخ شده لاشیں بهی ان کی ماؤں کو تحفے ملتے ہیں۔

کیا تعلیم اسی کو کہتے ہیں ؟
کیا تعلیم حاصل کرنا بلوچوں کے لیے گناه ثابت ہوا ہے؟

پهر بات ادهر تک پہنچتا ہے کہ بلوچ طالب علم مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں، ابهی ان کے لیے کیا بچا ہے کہ وه کریں دن بدن بلوچستان کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے اور بلوچستان کے عوام کو ایسے محروم کردیا جا رہا ہے کہ ادهر غربت کی شرح 80 پرسنٹ پر پہنچ گیا ہے لیکن دیکهو کبهی کوئٹہ میں پولیس طلباء پر لاٹهیاں برسا رہا ہے اور کبهی جو وه بلوچستان سے باہر پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو ادهر طالب علموں کو مارا جاتا ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کسی شخص کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا جیسے کبهی بجلی اور پانی جیسا مسئلہ پیش آتیں ہیں۔ پهر بات ادهر تک ختم ہوتا ہے کہ بلوچ جاہل ہیں ان کی غلطی کیا ہے؟ کیونکہ وه تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، تعلیم حاصل کرنا تو ہر کسی کا بنیادی حق ہے حتّی کہ تعلیم حاصل کرنے کا ذکر قرآن پاک میں بهی موجود ہے کسی کی اپنی سرزمین پر قابض ہو کر ان کی بنیادی حقوق کو چھیننے سے تو اس سرزمین کی فرزندان تو کسی کو معاف نہیں کرتے ہیں ظاہر ہیکہ وه مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اس تحریر میں سب باتیں تلخِ حقیقت ہیں اور حقیقت کو سُننا ہر کسی کی بس کی بات نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں