ایک حساس آدمی ہم سے بچھڑ گیا – منظور بلوچ

355

ایک حساس آدمی ہم سے بچھڑ گیا

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ بیس ستمبر کے سوموار کا ایک خوشگوار اور قدرے خنک دن ہے، میں حسب معمول سہ پہر چار بجے کے قریب ڈیپارٹمنٹ سے دوستوں اور اسٹوڈنٹس کے ساتھ نکلا، ابھی میں اعظم والی کینٹین تک پہنچا ہی تھا کہ آصف سمالانی نے کال کیا، میں چونکہ کئی دنوں کے بعد آج خوش گوار موڈ میں تھا، میں نے اس کی آواز میں تھکن، گھبراہٹ یا کسی قسم کے اظہار کو محسوس ہی نہیں کیا، اس نے مجھ سے پوچھا تم کہاں ہو؟ میں نے کہا کہ گھر کی راہ لی ہے، اس نے کہا کہ وہ کیفے ٹیریا میں ہے اور ملنا چاہتا ہے ، چند گز کی دوری تھی، وہ کیفے ٹیریا سے نکلا، تب بھی میں نے اس کے چال ڈھال پر کوئی خاص نظر نہیں ڈالی۔ حال احوال اورجوڑ تھکڑا کے بعد میں نے خوشگوار لہجے میں اس سے پوچھا، خیر ہے طبیعت تو ٹھیک ہے، تھکے تھکے دکھائی دے رہے ہو، کیا گرمی میں پیدل گھومتے رہے ہو، لیکن اس نے جو کہا، جیسے یکا یک، ایک لمحہ کیلئے زمین ساکن ہو جائے، وہ تھکی ہوئی آواز میں، جس میں بڑھاپے کی لرزش بھی شامل تھی، حالانکہ اللہ اسے سلامت رکھے وہ ابھی نوجوانی کی بہاروں میں قدم رکھتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن اس کی اچانک بوڑھی سی آواز میں کئی اندیشے، تشویش اور اضطراب پائے جا رہے تھے، اس نے بتایا کہ اقبال ناظر کا فون آیا،کہ اشرف صاحب کی طبیعت خراب ہے، اور وہ بی ایم سی ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں، لیکن مجھے پھر بھی اس خوف ناک بات کا احساس نہیں ہو پا رہا تھا، جو وہ ابھی کہنے والا تھا، میرا اظہار یہ تھا کہ ہاں اس کا (دوستوں سے پتہ چلا ہے) کوئی نفسیاتی معاملہ ہے، ہو سکتا ہے کہ ایسی ویسی کوئی بات ہو، اور اس میں تشویش والی کوئی خبر نہ ہو، لیکن آصف اور بوڑھا ہوتا جارہا تھا، اس کا لہجہ اور کمزور پڑ رہا تھا، کہ ناظر کی گفتگو سے معلوم ہو رہا تھا کہ معاملہ سنگین ہے، میرے جوابی جملہ کے بعد اس نے کال ملائی اور ناظر سے بات کی، میں نہیں سن پایا، لیکن اندر اندر کچھ ٹوٹ رہا تھا، خوشگواری کی کیفیت دھواں ہوتی جا رہی تھی، اور ساتھ ساتھ دل کے بہلاوے کیلئے اپنے آپ سے کہہ رہا تھا کہ ہو نہ ہو اس پر کوئی نفسیاتی حملہ ہوا ہے، وہ ٹھیک ہو جائے گا، چند سیکنڈوں میں نہ جانے میں کہاں کہاں سے ہوکر آ رہا تھا، جیسے پورے ایک بھرپور بیتے جیون کی کہانی کو میں نے چند سیکنڈوں میں دل ہی دل میں بیان کر ڈالا ہو، لیکن ایک اضطراب تھا، جو کچھ اور بول رہا تھا، لیکن اس کے ساتھ دوسری آواز تسلی کی تھی، کیونکہ ابھی ابھی آصف نے بتایا تھا کہ وہ کل ہی چلتن گئے تھے، چلتن کی پُر مہر فضاؤں میں اشرف صاحب خوش تھے، چہک رہے تھے، بہت اچھے موڈ میں تھے، لیکن اچانک یہ کیا ہوا؟

ناظر سے اس نے کیا بات کی، مجھے نہیں پتہ، میں اپنے دھیان میں گم تھا،میرے اندر دو آوازیں بیک وقت باتیں کر رہی تھیں اور میرا دل وسوسوں میں گھرتا چلا جا رہا تھا، پھر اس نے کہا کہ چلیں میں آپ کے ساتھ موٹر سائیکل اسٹینڈ تک آتا ہوں، وہاں سے اپنی بائیک لوں گا، مجھے پھر بھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ دراصل تنہائی میں کچھ بولنا چاہ رہا تھا، اب تو لگ رہا تھا کہ اسے اچانک اپنے تھک جانے کا شدید احساس ہو چلا تھا، لیکن مجھے پھر بھی ایسا کوئی خیال نہیں آ رہا تھا، جو مجھے بدحواسی میں مبتلا کرتا، لیکن بات تشویش، وسوسوں سے کوسوں دور آگے جا چکی تھی، اور اس نے انتہائی مدہم، ڈوبے ہوئے دل کی آواز کے ساتھ کہا کہ اشرف صاحب گزر چکے،کیا۔۔۔۔ اور میں کچھ بول نہیں سکا، چند سانحے ایسے گزرے، جس کا بیان شاید ممکن ہی نہ ہو، اور مجھے بھی احساس ہوا کہ آصف کی طرح میں بھی بہت تھک چکا ہوں، مجھے دوڑ کر، بھاگ کر کسی پناہ گاہ کی طرف جانا چاہیے، اور آصف سے نظریں چار کرنے سے گریز کر رہا تھا، کہ وہ پھر وہی بات دہرا نہ دے، اس کی طرف دیکھے بغیر اندازہ لگا لیا کہ اب اس کے پاس کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا تھا، اور میں اندر ہی اندر اپنے وجود کے ساتھ دھنستا چلا جا رہا تھا۔

آخر یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ، میرے سارے ساتھی ایک ایک کرکے خاموشی سے گزر رہے ہیں (جو بچے ہیں، اللہ ان کی نگہبانی کرے، اوروہ ایک لمبا جیون بھرپور جیون بِتائیں۔) کیونکہ اب اس ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اور حوصلہ باقی نہیں رہا کہ ایسے احوال سنتا رہوں، یہ جانتا ہوں کہ ھمارے معاشرے میں اندر سے ٹکڑے ہونے کی باتوں کا اظہار مناسب نہیں ہوتا، مجھے یاد آ رہا تھا کہ اس دن کا اکرم دوست (خدا کسی دشمن باپ کو بھی یہ دن نہ دکھائے) جب اس کے گھر کے سامنے گاڑیاں کھڑی تھیں اور بھیڑ سی لگی ہوئی تھی، اور اس نے اس پیران سالی میں اپنے نوجوان بیٹے کے قتل کا احوال سنا تھا، وہ بکھر چکا تھا،ٹوٹ چکا تھا، ریزہ ریزہ ہو چکا تھا، لیکن دنیا کے سامنے، لوگوں کے سامنے وہ ایک بے جان بت کی طرح کھڑا تھا، وہ نہیں رو رہا تھا اس کا دل رورہا تھا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں غیرت اور مرد، دونوں کیلئے رونا منع ہے، رونا مرد کی کمزوری کی علامت ہے اور دنیا، خاص کر ہمارا معاشرہ کمزور لوگوں کو پسند نہیں کرتا، اور میں تو سدا کا کمزور آدمی رہا ہوں، میرے پاؤں کیسے نہیں اکھڑتے، اسی دن کی طرح جب میں نے اکرم دوست کو گلے سے لگایا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کے پاؤں زمین سے اکھڑ چکے تھے، وہ خلاؤں میں تھا اور ان کے قدم زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین پر نہیں تھے۔
آج ایک مہربان اور انتہائی حساس دوست، ایک سینئر استاد کی موت کا احوال بھی انتہائی بھاری بھر کم تھا اگر اس بھاری بھر کم وجود کو چلتن پر رکھ دیا جاتا تو شاید اس پتھر کے پہاڑ سے بھی آنسو نکل آتے۔

اشرف صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی اور کیسے یہ ملاقات شناسائی میں تبدیل ہوئی، جیسے ہم ایک عرصہ سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، اور پہلی ہی ملاقات دو دوستوں کے درمیان ایسے ہو رہی تھی جیسے برسوں بعد یار بھیلی ملے ہوں۔ وہ عمر میں مجھ سے بڑا تھا اور حساسیت میں ہم اس کے سامنے بونے تھے۔میں تو واقعی اس کی حساس طبیعت کے سامنے بونا ثابت ہوا ہوں، ہاں مجھے اقرار ہے کہ میرا دل پتھر ہو چکا ہے، اوروں کی طرح میں بھی اپنی ہی دنیا کا باسی ہوں، دوستوں کی خبر گیری کا احساس کب کا مٹ چکا ہے، میں بھی اوروں کی طرح اپنی ذات کے حصار کا قیدی بن چکا ہوں، کسی کے جیون مرن سے جذباتی وابستگی کب کی فنا ہو چکی ہے۔

حالانکہ چند ہی روز قبل طارق بلوچ اور برکت اسماعیل سے ملاقاتوں کے دوران میں یہ حوال سن چکا تھا کہ اشرف صاحب پنجگور کالج کے تبادلے کے بعد بہت بیمار رہنے لگے ہیں، ان کو شاید کسی اعصابی مسئلہ نے گھیر رکھا ہے اور وہ گھنٹوں، دنوں اپنے بستر سے نکلتے ہی نہیں، پھر ہم نے پرانی یادوں کو دہرانا شروع کر دیا۔

یہ ٹھیک وہی دن تھے، جب میں خود بھی اعصاب کی کمزوری کے سامنے ڈھیر ہو چکا تھا، اور سالوں سے ایک نظر نہ آنے والے کرب سے دو چار تھا، لیکن اس کا اظہار ہو نہیں پاتا تھا، کہ کہیں دوستوں کو مری کمزوری کا علم نہ ہو، اور پھر یہ بھی احساس تھا کہ اس نازک موضوع پر گفتگو یا رد عمل کی وجہ سے میں پہلے ہی بہت سے دوستوں کی دوستیاں کھو چکا ہوں، اس لئے میں نے اظہار مناسب نہیں سمجھا کیونکہ انھی دنوں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ ڈگری کالج کوئٹہ کے پرنسپل حسن ترین صاحب تھے، اور وہاں ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھ رہی تھی، ناظر، بشیر سمالانی، اقبال سمالانی، نصیر بلوچ، تو وہاں پہلے سے ہی موجود تھے، اشرف صاحب، طارق بلوچ، اور برکت اسماعیل بھی ٹرانسفر ہو کر آگئے تھے، اور یوں ہمارے دوستوں کی ایک بیٹھک ہونے لگی، جس میں ان دوستوں کے علاوہ فاروق کبدانی، یونیورسٹی سے میں اور سنگت رفیق بھی شامل ہوا کرتے تھے، خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے موضوع اپنے بچوں کی حالت زار پر کڑھتے بھی رہتے تھے،اور ہمارا پہلا منصوبہ یہ تھا کہ سریاب میں اور کچھ نہیں کر سکتے کسی لائبریری کے قیام کا سوچا جائے۔ لیکن ہمیں نہیں پتہ تھا کہ ہم فقط باتیں کرتے رہ جائیں گے اور اشرف صاحب میدان مار لیں گے اور واقعی میدان انھوں نے مار لیا، وہ ایک شفیق استاد، اور شفیق دوست اور اپنے اسٹوڈنٹس کیلئے شفیق باپ بھی تھے۔ ان کی ہمت افزائی پر لوہڑکاریز لائبریری کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا، ہم تو بہت دیر بعد”خواہ مخواہ“ اس کی بنیاد گزاروں میں شامل ہو گئے تھے لیکن اصل بنیاد گزار اشرف صاحب ہی تھے، انھیں شال آنے کے بعد سریاب سے ایک انسیت سی ہو گئی تھی، وہ سریاب کے دھول اڑاتے گلی کوچوں، بے روزگار نوجوانوں،منشیات کے دلدل میں پھنسے اپنے بچوں کو دیکھ کر تکلیف کا اظہار کیا کرتے تھے، لیکن ساتھ ہی ساتھ سریاب کے ساتھ ان کا ایک رومانوی تعلق بھی قائم ہو گیا تھا۔ گویا سریاب اس کا آبائی علاقہ ہو ، جہاں اس نے جنم لیا ہو، جسکی گلیوں میں کھیل کود کر جوان ہوا ہو، جہاں اس کے یارانے ہوں۔
بلوچستان کے کتنے رنگ ہیں، کتنے روپ ہیں، اب یہ احساس بھی کون دلا رہا ہے؟ اشرف صاحب، جو بقول اصف سمالانی اس دنیا سے گزر چکے ہیں۔

بلوچستان کا ہر علاقہ ہمارے آباء اجداد کی میراث ہے، جہاں سے ان کے لہو اور محنت کے پسینے کی خوشبو آتی ہے، جہاں سے انہوں نے غربت کے ساتھ زندہ رہنے کا سمجھوتہ کر لیا تھا وہ بھوکے پیٹ ہونے کے باوجود دنیا کے سخی ترین لوگ تھے، خود دار تھے، انسانیت کے چہرے کو جانتے تھے، اسی لئے انہوں نے کبھی مکان اور حویلیاں نہیں بنائیں، وہ ہواؤں کی دوش پر رہنے اور جینے والے لوگ تھے، انہیں نیچر سے محبت تھی، وہ گدانی لوگ تھے، اور ان کی مالداری ان کا سرمایہ بھی تھا، ان کا عشق بھی تھا، اسی لئے انہوں نے کبھی زمین کو وہ اہمیت نہیں دی جو دیگر معاشروں کیلئے اختصاصی حیثیت رکھتی ہے۔

وقت گزرا تو توکل پر یقین رکھنے والے، قناعت کرنے والے، رنگ و نسل، زبان و مذہب سے بالاتر ہر اجنبی کو اپنے علاقے اور چراگاہوں میں خوش آمدید کہنے والوں نے گھر بسانے شروع کیے، لیکن ان گھروں میں انہوں نے کبھی بھی دروازے نہیں لگائے۔

آج بھی ہمارے دیہات، دروازوں کے بغیر گھروں کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، البتہ جہاں جہاں پیسہ آتا جا رہا ہے، وہاں مکان بھی بن رہے ہیں، بنگلے بھی، اور ساتھ ساتھ دروازوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اب گھر کی نگہبانی چوکیداروں کے سپرد ہے، دروازوں نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا ہے، اب ہم راتوں کو تو کیا دن میں بھی اپنے ہی خاندان کے کسی فرد کی کراہ کو سننے سے قاصر ہیں، کیونکہ اب ہم ترقی یافتہ، مہذب اور پیسہ والے لوگ بنتے جا رہے ہیں، خاندانوں میں جتنی دوریاں دروازوں نے پیدا کی ہے، کسی اور نے نہیں کی ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے شہر دروازوں میں گھر گئے، جہاں جائیے دروازہ، دروازے کے اندر کی دنیا کچھ اور ہوگی، باہر کی دنیا کچھ اور ہے، دروازوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا کام آسان تر ہوگیا ہے، وہ دروازوں کے پیچھے چھپ کر بہت کچھ کر سکتے ہیں، ہماری زندگی میں دروازے کیا آگئے، کہ ہم اپنے گھر میں، اپنی فیملی ممبران سے بھی بیگانے ہوتے جا رہے ہیں۔ اشرف صاحب کے جانے کے بعد پورا شہر اب دروازہ خانہ لگتا ہے، دروازوں کے پیچھے کیا کچھ نہیں ہوتا ہے، کے ساتھ بہت سے دلاسے اور تسلی بھی چلی گئی، بہت سی بے کسی، اظہار کی لاچارگی بھی در آئی، لیکن ہم دروازوں کے اس شہر میں اپنے اپنے معمول کے ساتھ مصروف ہیں۔

لیکن اشرف صاحب، سریاب اور دروازے، ان کے باوجود انہیں واقعتا سریاب سے پیار تھا، وہ اکثر پوچھتے۔ ”سریاب والاک یونیورسٹی و کالج اٹی انتئے نظر بفسہ۔داڑے پروفیسر انتئے افس“ واقعی سریاب کو کچھ نہیں ملا یونیورسٹی اور کالجوں سے، اگر ان کو کچھ ملا تو سائیکلیں، گوکہ سائیکلیں اب شال کے شہر کی سڑکوں سے گدھے کے سینگوں کی طرح غائب ہو چکی ہیں، لیکن سریاب سے ان کا ناطہ نہیں ٹوٹا، اس شہر کی سائیکلوں کا رخ سہ پہر اور شام کے بعد چھٹی ہونے پر کہیں اور نہیں سریاب کی طرف ہوتا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی نے بھی ان کو جی کھول کر سائیکلیں دیں تاکہ سریاب کے واسی سریاب کے اعلی تعلیمی اداروں میں چپڑاسی، چوکیدار، مالی اور ڈرائیور بن کر اپنے سماج کے سیوک بنے رہیں، اس سے زیادہ انھیں کچھ کیوں نہیں ملا، یا آج بھی کچھ کیوں نہیں ملتا، یہ تھا اشرف صاحب کا سریاب سے لگاؤ اور سولات۔

ڈگری کالج میں آنے کے بعد دوستوں نے ان کی رہائش کا مسئلہ بھی حل کر دیا اور کالج کا ایک گھر ان کو الاٹ کر دیا گیا، وہ ہنسی خوشی وہاں رہتے تھے، بلا کے ڈسپلن کے مالک تھے، بلا ناغہ کالج پہنچتے، کلاس لیتے اور زیادہ تر ان کاوقت طلبہ کے ساتھ کتابوں کی گفتگو سے متعلق ہوتا، وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتابیں دیکھنا چاہتے تھے، ان کو منشیات کی لعنت سے نفرت تھی، کتاب بھی وہ جو سماجی، سیاسی شعور کی بیداری پیدا کرے، رنگ و نسل، مذہب و زبان کی تفریق ختم کرے، بچوں کی تعلیم ان کا بنیادی حق ہے، ان کو ملنا چاہیے، اور انکی ساری توانیاں اسی پر خرچ ہوتی تھیں۔

دراصل ہم میں اگر کوئی واقعتا پروفیسر کہلانے کا حق دار تھا، تو بس صرف وہی، حالانکہ ان کی کوششوں کے باوجود انہیں یونیورسٹی میں ایم فل کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا، لیکن اس بلوچ پروفیسرنے اپنی بیٹی کو ایم فل کرانے لاہور ضرور بھیجا تھا، وہ دیگر اپنے طلبہ کو بھی اپنے بچوں کی طرح ہی سمجھتے، اور پھر انہوں نے رضا کارانہ طور پر ہاسٹل کی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں، حالانکہ ہاسٹل کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے رضا کارانہ خدمات کوئی پیش نہیں کرتا، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب سرکار کی نظریں ان ہاسٹلوں پر مرکوز ہوں، جیسے یہ ہاسٹلز نہ ہوں، نہ جانے بہت بڑی بلائیں ہوں، جو کبھی بھی پورے شہر کو نگل سکتی ہوں، گزشتہ دو دہائیوں سے یہ سب کچھ، یہ سارا تماشہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے، ایسے بھی ہم نے اپنے لوگ دیکھے جھنوں نے ہاسٹلز کی ذمہ داریاں فقط اس لئے سنبھالیں کہ ان کی نظر اور سرکار کی نظر میں ہاسٹلز کا رنگ ایک جیسا ہی تھا، لیکن اشرف صاحب تو کسی اور دنیا کے باشندے تھے، اسی لئے ان کا وقت ہماری دنیا میں مختصر رہا اور وہ ہنستے گاتے چلے گئے، جتنا وقت ان کو ملا تھا اس سے زیادہ انہوں نے کام کیا، لیکن انہوں نے کبھی بھی ہماری طرح ڈھنڈورا نہیں پیٹا، ہماری طرح کریڈٹ لینے کے وہ عادی نہ تھے۔

ان کی زبانی یہ بات بھی پتہ چلی کہ ایک دن سرکار نے فیصلہ کیا کہ اس کے سرکاری ہرکارے ڈگری کالج کے ہاسٹل پر چھاپہ ماریں گے تاکہ ان کو ”ڈراؤنے ہاسٹل“ سے شاید کچھ ایسی بلائیں دستیاب ہوں، جنکو پکڑ کر ان کی تشفی ہو اور وہ رات کو سونے کی گولیوں کی بجائے ایک کڑوے پیالے کے گھونٹ بھر کر آرام کی نیند سو سکیں۔

خیر چھاپہ پڑا، غالبا شام کا وقت تھا، اندرون بلوچستان سے آئے غریب والدین کے غریب بلوچ طلبہ اپنے لئے رات کے کھانے کا انتظام کر رہے تھے، چھاپہ مار ٹیم کی مدبھیڑ اشرف صاحب سے ہوئی، کیونکہ وہ اکثر شام کو بھی ہاسٹل جایا کرتے تھے، بجلی کامسئلہ ہو یا صفائی کا، وہ خود ان معاملات کی نگرانی بھی کرتے اور ان کوحل بھی کرتے تھے۔ ساتھ ساتھ بچوں سے ان کی گفتگو بھی ہو جاتی تھی، وہاں ایک کمرہ خالی کروا کر انہوں نے بچوں کو ایک لائبریری بھی بنا کر دی تھی، اور جب وہ اچانک،کسی کو خاطر میں لائے بغیر فیصلہ کر بیٹھے کہ وہ پنجگور کالج میں اپنا تبادلہ کروائیں گے۔ کیونکہ پنجگور کالج کے پرنسپل جاوید بلوچ ان کے دوست بھی تھے، اس لئے انہوں نے ہم دوستوں کی کسی درخواست کی اہمیت نہیں دی اور جس دن وہ پنجگور جا رہے تھے، ایک رات قبل طلبہ نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی پارٹی بھی دی، مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، میں نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا، ان کا منت وار ہوا، وہیں ایک بار پھر درخواست کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیں، کیونکہ شال اور سریاب سے ان کی جڑت مضبوط ہو چکی تھی، وہ پنجگور میں زیادہ دن رہ نہیں پائیں گے، اور سریاب ان کو اپنی طرف بلاتا رہے گا، پکارتا رہے گا۔

اورآئے بھی کب، جانے کیلئے، ہمیشہ ہمیشہ کیلئے، اور جانے کیلئے بھی انہوں نے شال اور سریاب کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ ان کا تبادلہ بھی ہو چکا تھا، لیکن طبیعت کی ناسازی کی باتیں بھی ہو رہی تھیں، آنے والے دنوں کی فکر سے انجان ہم اس الوداعی تقریب میں ان سے درخواستیں کر رہے تھے، کہ سر آپ کی سریاب کو ضرورت ہے، اور وہ اس بات سے انکاری بھی نہیں تھے۔ لیکن نہ جانے انہوں نے اتنا بڑا فیصلہ کس طرح کر لیا اور اس پر ڈٹے بھی رہے،اشرف صاحب سے جیتے جی محبت کا یہ عالم یہ تھا کہ اس رات کی پارٹی میں تمام طلبہ کسی تنظیم کی تفریق کے بغیر آئے تھے، کرسیوں پر جگہ کم پڑنے لگی، تو وہ میزوں پر بیٹھ گئے وہ اشرف صاحب کو دیکھنا اور سننا چاہتے تھے۔ کون کہتا ہے کہ ہم جیتے جی کسی کو مانتے نہیں، اس کی قدر دانی نہیں کرتے، اس دن کی پارٹی اور طلبہ کی شرکت بتا رہی تھی کہ اگر آپ اس معاشرے کو اپنے خاندان کی طرح سمجھتے ہیں، ان کے معلم اور گرو بنتے ہیں، لائبریریاں بنوا کر دیتے ہیں، آپ کی قدر ہوتی ہے، معاشرہ ابھی اتنا بے حس نہیں ہوا کہ فقط وہ مردہ پرست ہو، لیکن بقول شخصے زندہ لوگوں کو بھی زندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا۔
طلبہ کی محبت میں کوئی کمی نہیں رہی، لیکن شاید ہم دوستوں، خاص طور پر میں نے اس ناگہانی صورت حال کو سمجھنے میں انتہائی کوتاہی کا ثبوت دیا، میں بھی تو اوروں کی طرح بن چکا ہوں، میں بھی تو اپنی ذات کا قیدی بن چکا ہوں، جب میری محفلیں جوان ہیں، وقت خواش گوار انداز میں کٹ رہا ہے، تب بھلا دروازوں کے اس شہر میں اشرف صاحب کی بیماری کا احساس کیونکر ہوتا۔ اب یہی احساس مارے ڈال رہی ہے، ایک بار پھر وہی سوال ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ آخر ہماری بستی کے حساس لوگوں کی عمر یں چھوٹی کیوں پڑ جاتی ہیں، غلام نبی راہی نے ہمیں بھری دنیا میں اکیلا کیوں چھوڑ دیا، اور ڈاکٹر رسول بخش رئیسانی کی طرح راہی چلے گئے، راہی کی طرح حساس دل رئیسانی بھی چلے گئے اور اب ایک اور حساس آدمی ہماری محفل سے اٹھ کر جا چکا ہے۔ یقین نہیں آتا، آئے بھی کیسے، کس نے سوچا تھا کہ ایک دن اکرم دوست، حاجی غلام سرور محمد حسنی، صاحبزادہ، ڈاکٹر مہراب پرکانی، ڈاکٹر سکندر ریاض کی طرح ہمارے اپنے پاؤں زمین سے اکھڑ چکے ہونگے، اور ہماری آنکھوں میں صرف خلائیں باقی رہ جائیں گی، وہ شخص، حساس آدمی چلا گیا، جب اس کی مد بھیڑ سرکار کی ہاسٹل پر چھاپہ مار ٹیم سے پڑی تھی، اور وہ انھیں معمول کے مطابق ایک کمرے میں لے گئے تھے، جہاں ایک غریب والدین کا غریب بلوچ طالب علم پیاز کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا اورٹیم کو اشرف صاحب بے حسی اور شرمندگی کا احساس دلا رہے تھے کہ جن بچوں کو آج اکیسویں صدی میں اپنے ہی وطن میں، وہ بھی امیر ترین وطن میں کھانے کو روٹی اور پیاز ملتا ہے، ان سے آپ لوگ کیوں خوف زدہ ہیں؟ کہیں یہ خوف کی علامات آپ کے اپنے وجود میں آپ کے سیاہ اعمال کی وجہ سے تو نہیں ہیں؟

میں بھی اوروں کی طرح ایسے لاتعداد کرداروں کو جاننے کے باوجود جی رہا ہوں، مزے کے ساتھ وقت گزر رہا ہے، لیکن شاید اشرف صاحب ہم میں سے ہوتے ہوئے بھی ہم میں سے نہیں تھے، ان کو ان کے احساس نے مار ڈالا، ایک طرف امارت کی بلند و بانگ کوٹھیاں، لہرا کے بل کھاتی ہوئی چمک دار مہنگی گاڑیاں، ان کے پیچھے لاتعداد ذاتی محافظوں کی گاڑیاں، ایک ہی قطار میں سیاہ شیشوں والی گاڑیاں اور دوسری طرف ایک روٹی اور ایک پیاز۔ ایک حساس شخص کو مارنے کیلئے ایک روٹی اور ایک پیاز کافی ہے۔ اس لئے انہوں نے یہاں سے جانے کاقصد کیا، پنجگور تبادلہ تو صرف ایک بہانہ تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں

SHARE
Previous articleماما قدیربلوچ – ٹی بی پی اداریہ
Next articleچمالنگ: کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرگئی، 4مزدور جاں بحق
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔