سندھی بلوچ فورم کی جانب سے چودہ اگست کو یوم سیاہ مناتے ہوئے لندن میں احتجاجی مظاہرہ

118

سندھی بلوچ فورم نے چودہ اگست بروز ہفتہ ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جو برطانوی وزیر اعظم کے رہائش گاہ سے شروع ہوکر پارلیمنٹ سکوائر پر اختتام پذیر ہوئی۔

احتجاجی ریلی میں بلوچ نیشنل مومنٹ، بلوچ ہیومن رائٹس کاؤنسل اور ورلڈ سندھی کانگریس کے کارکنان سمیت دیگر افراد نے شرکت کرکے بلوچ اور سندھی اقوام سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

احتجاجی ریلی میں شرکاء نے مختلف بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان اور سندھ میں پاکستانی ریاستی بربریت کیخلاف اور چودہ اگست یوم سیاہ کے نعرے درج تھے۔ احتجاجی ریلی میں پاکستانی ریاستی بربریت کو اجاگر کرنے کے لئے شدید نعرے بازی کی گئی۔

احتجاجی ریلی سے ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنماء ڈاکٹر لکھو لوہانہ نے کہا کہ آج کا دن بلوچ اور سندھی قوم کے لئے ایک سیاہ دن ہے ۔ آج ہی کے دن انیس سو سینتالیس کو جب برطانوی سامراج نے ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان جیسی ریاست کو دنیا کے نقشے پر لانے جیسی غلطی کی، اس کی سزائیں آج بھی محکوم و مقبوضہ اقوام بھگت رہی ہیں۔

احتجاجی ریلی سے بلوچ ہیومن رائیٹس کاؤنسل کے رہنماء صمد بلوچ نے کہا کہ چودہ اگست کا دن بلوچ قوم کے لئے سیاہ دن ہے کیونکہ اسی دن کی وجہ پاکستان کے قیام کی وجہ سے بلوچ قوم گذشتہ سات دہائیوں سے سنگین انسانی بحران کا شکار ہے اور بلوچستان میں نسل کشی اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔ بلوچستان میں نوجوان طالب علم حیات مرزا کی صورت میں شہید کیے جاتے ہیں۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماء نیاز بلوچ نے کہا آج کا دن یوم سیاہ کا دن ہے کیونکہ آج ہی دن ایک غیر فطری ریاست کو دنیا کے نقشے پر ایک سازش کے تحت لایا گیا تھا اور اسی ریاست نے کچھ عرصے بعد بلوچستان کی قومی آزادی کو سلب کردیا تھا۔ چودہ اگست کے ہی دن بلوچستان کے شہر تُربت میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن آزاد کے رہنماء رضا جہانگیر اور بی این ایم کے رہنماء امداد بجیر کو پاکستانی ریاست نے شہید کرکے ہمیں یہ پیغام دیا تھا کہ بلوچ اور پاکستان کا رشتہ صرف حاکم اور محکوم کا ہے۔ اور بحیثیت محکوم و مقبوضہ قوم ہم اس دن کو ہمیشہ ہی ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کرتے رہینگے۔