جامعہ بلوچستان میں طلباء مسائل پر احتجاجی ریلی و دھرنا

91

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (یو او بی یونٹ) نے منگل کو یونیورسٹی آف بلوچستان انتظامیہ کے خلاف کیمپس میں احتجاج کیا۔

احتجاج کرنے والے طلباء کے پاس ایک چارٹر آف ڈیمانڈ تھا جس میں اسکالرشپ سے متعلق مسائل، ہاسٹل کی سہولیات، سمسٹر فیس، طالب علموں کے ساتھ انتظامیہ کے غیر مہذب رویے، انٹرنیٹ، لائبریری، کھیل وغیرہ شامل تھے۔

یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے تقریبا چار گھنٹے کے دھرنے کے بعد طلباء نے اپنا دھرنا ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے منتقل کردیا تاکہ وائس چانسلر کی توجہ حاصل کی جائے۔

پندرہ نقاط پہ مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے پیش کی گئی جبکہ بعد میں بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کوئٹہ کے بلوچستان یونیورسٹی یونٹ، زون اور مرکز پہ مشتمل ایک وفد نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ طویل گفت و شنید کرکے طلبا مسائل کے حل کی مکمل یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کیا۔

بساک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ڈیمانڈ انتطامیہ کے سامنے پیش کیے گئے اور انتطامیہ کے ساتھ تمام کیے گئے فیصلے کیے گئے جن کے مطابق احساس سکالرشپ کے چیک طلباء میں تقسیم نہیں کیے جا رہے تھے اور 2019 سیشن کے بعد والے تمام سیشن کے طلباء کی رجسٹریشن اور میرٹ لسٹ آویزاں نہیں کیا جا رہا تھا۔ اس کے جواب میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کو اپنی کمزوری مانتے ہوئے یہ یقین دہانی کروایا کہ وہ تمام طلبا کو ایک ہفتے کے اندر چیک تقسیم کریں گے اور طلبا سے بھی گزارش کی کہ جن طلبا کے نام لسٹ میں موجود ہیں وہ اپنے ڈاکومنٹ دفتری اوقات میں دفتر میں جمع کرادیں اور اپنے چیک وصول کریں۔ جن طلبا کو 20 ہزار کے چیک دیے گئے وہ مکمل سکالرشپ وصول کرنے کیلئے درخواست جمع کرادیں۔ انتظامیہ جلد ان کے درخواست پہ عمل درآمد کرے گا، بقیہ سیشن کے رجسٹریشن اگلے فیز میں یعنی نومبر تک شروع کیے جائیں گے۔

مزید بتایا گیا کہ بیف سکالرشپ کے اجراء نہ کرنے پہ انتظامیی نے یقین دہانی کروایا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک تمام تر درخواستیں بیف آفس میں جمع کرادیں گے اور جلد ہی لسٹ آویزاں کی جائے گی۔ بیف کے اگلے فیز کیلیے ہر کلاس سے ٹاپ دس طلباء کو منتخب کیا جائے گا اور انہی کے نام بیف سکالر شپ کیلیے بیجھیں گے۔

مزید کہا گیا ایچ ای سی نیڈ بیسڈ سکالرشپ کے بندش کے حوالے سے انتظامیہ نے کہا کہ ایچ ای سی کی طرف سے انہیں گرانٹ وصول نہیں ہوئے جلد ہی ایچ ای سی سے رابطہ کرکے اس سکالرشپ کو بحال کیا جائے گا۔ ساتھ ہی تمام تر سکالرشپ کے حوالے سے کل انتطامیہ نے دوبارہ طلبا کو اپنے دفتر بلانے کا کہا تاکہ تمام تر انتظامی کاموں کے حوالے اور سکالرشپ مسائل پہ مکمل گفت و شنید ہو سکے. اور ایک جامع پالیسی ترتیب دیا جاسکے.
4. بوائز ھاسٹل بلاک 17 کے حوالے سے کہا کہ بلاک 17 پاک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کا ہے اس حوالے سے ڈیپارٹمنٹ کو مطلع کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنے طلبا کو اسی ہاسٹل میں شفٹ کرے اور اس سے جو جگہ خالی ہوگا وہ دوسرے طلبا کو الاٹ کیا جائے گا یا پھر اس ہاسٹل یعنی بلاک 17 کو یونیورسٹی کے حوالے کرے تاکہ طلبا کے ہاسٹل مسئلہ کو حل کیا جا سکے۔

ہاسٹل مسائل کے حوالے سے بتایا گیا کہ بلاک نمبر 1 اور 2 پہ کام جاری ہے جبکہ گرلز ھاسٹل کیلئے ایک ہاسٹل جو پہلے سے تعمیر ہوچکا ہے ایک ہفتے کے اندر وہ یونیورسٹی کے حوالے کیا جائے گا اور طلبا کو الاٹ کیا جائے گا۔ اسی طرح گرلز ہاسٹل میں سہولیات کی عدم موجودگی کے حوالے سے پہلے ہی انتظامیہ کاروائی شروع کرچکی ہے ایمبولینس بڑھا کر تین کر دیے گئے ہیں ساتھ میں یونیورسٹی میں ایک ہیلتھ سینٹر کی منطوری لی گئی ہے۔

بوائز ہاسٹل میں انٹرنیٹ کی فراہمی پر انتظامیہ نے کہا کہ وہ انٹرنیٹ جو یونیورسٹی میں فراہم کی جارہی ہے وہ ایچ ای سی کی طرف سے ہے اور انتظامیہ پہلے سے ہی ایچ ای سی کو انٹرنیٹ سروس بوائز ہاسٹل اور یونیورسٹی کالونی تک پہنچانے کیلئے درخواست دائر کر چکا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے غیر اخلاقی رویہ پہ انتظامیہ نے یقین دہانی کروایا کہ وہ اس حوالے سے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کو طلبا کے ساتھ اچھے تعلق اور رویے کیلیے نشست رکھے گا۔ یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں ریٹ لسٹ، کھانے کے اشیاء کے معیار کو بہتر کرنے کیلئے تمام تر کیفے ٹیریا کو وارننگ جاری کرے گا جس کسی نے بھی عمل درآمد نہیں کیا ان کو بند کیا جائے گا۔

مین لائبریری کے ٹائمنگ کو 8:30 رکھا جائے گا اور مقررہ وقت سے پہلے کسی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔ فزیو تھراپی ڈیپارٹمنٹ کے مسائل پہ بات کرتے ہوئے انتظامیہ نے یقین دہانی کروایا کو وہ جلد ٹیچنگ سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کنٹریکٹ پہ اساتذہ کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور سمسٹر رزلٹ کو جلد آویزاں کرے گا۔ اور روٹیشن کیلئے اور انٹرنشپ کے حوالے سے ڈی جی ہیلتھ سے ملاقات کریں گے۔

مزید یقین دہانی کرائی گئی کہ سپورٹس ویک، غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ لیب ایکوپمنٹ، کیمکلز کے حوالے سے انتظامیہ ایک کمیٹی تشکیل دے گا جن جن لیب میں سہولیات نہیں ہیں ان کو پورا کیا جائے گا۔

اکیڈمک کونسل میں طلباء نمایندگی پہلے کبھی نہیں تھا اس حوالے سے بات چیت ممکن ہے لیکن بلوچستان بھر کے تمام یونیورسٹیوں کیلئے حکومت بلوچستان ایک نیا ایکٹ لا رہا ہے اگر اس ایکٹ میں ایسا کوئی شق موجود ہوا یا اس حوالے کوئی بھی قانون موجود ہوا تو انتطامیہ طلباء نمایندگی دینے پہ سوچ بچار ضرور کرے گا لیکن پہلے جو ایکٹ موجود ہے اس میں ایکڈمک کونسل میں طلباء نمائندگی موجود نہیں ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بساک امید رکھتی ہے کہ انتطامیہ اپنے قول کا پاس رکھے گا اور ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے گا اور تمام تر نقاط پہ جلد عمل درآمد کرے گا. اگر ان تمام مسائل کے حل کیلئے انتظامیہ نے فوری اقدامات نہیں کیے تو ہم دوبارہ احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔