لاپتہ افراد کے کیمپ کو اکھاڑ کر پر امن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے – ماما قدیر بلوچ

117

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے بازیابی کے لئے لگائے گئے کیمپ سے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی مشنری ہمارے احتجاجی کیمپ کو اکھاڑ کر ہمارے پر امن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے حربے پر عمل پیرا ہے –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ یہ پہلے دفعہ نہیں اس سے قبل بھی کوئٹہ کراچی پریس کلب کے سامنے ہمارے کیمپ کو جلایا جاچکا ہے اور لاپتہ افراد کے تصاویر کو اٹھا کر لے جایا گیا ہے-

انکے مطابق ریاستی مشنری اپنے ان حرکتوں سے ہمارے اپنے احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ایسے ہتھکنڈو سے ہم خوفزدہ نہیں ہونگے اور اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے –

ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ریاستی تشدد آپریشن و لوگوں کو گرفتاریوں میں لاپتہ کرنے سمیت خواتین کی حراسگی و گھروں کی چادر و چار دیوالی کی پامالی کا سلسلہ ایک بار پھر تیز کردی گئی ہے بانک گیکید کا قتل بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے –

انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے مذاکرات کے دعوے کھوکھلی اور بے بنیاد باتوں کے سوا کچھ نہیں اگر حکمرانوں کے پاس اختیار ہے تو وہ پہلے لاپتہ افراد کو منظرے عام پر لے کر آئیں –