طالبان قیادت جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، سیاسی سمجھوتے کے لئے تیار ہیں- روس

191

روس نے کہا ہے کہ افغانستان کے بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے لیے حکومتی فورسز کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے باوجود طالبان سیاسی ‘سمجھوتہ’ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان نے غیرملکی فورسز کے انخلا کے بعد متعدد اضلاع اور سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومتوں کا گھیراؤ بھی کر لیا ہے۔

امن مذاکرات کے کئی دور ناکامی کا شکار ہونے کے بعد طالبان نے میدان جنگ میں کامیابی سے پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

لیکن افغانستان میں روس کے مندوب ضمیر کابلوف نے منگل کے روز سابق افغان رہنماء حامد کرزئی کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ طالبان دیگر فریقین کی طرف سے مذاکرات کی سیاسی پیش کشوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ضمیر کابولوف نے کہا کہ پچھلے 20 سالوں کے دوران طالبان کی قیادت کا بیشتر حصہ یقیناً جنگ سے تنگ آگیا ہے اور سمجھ گیا ہے کہ موجودہ بحران پر طاری جمود کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے بیانات اور اقدامات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔

ضمیر کابلوف نے مزید کہا کہ ان کے بیانیے سے یہ بات واضح ہے کہ سیاسی سمجھوتے کو ان کے سامنے شائستہ انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب طالبان اور افغان قیادت کے درمیان گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے۔

سوویت یونین کے فوجیوں نے 1979 میں افغانستان پر قبضہ کیا تھا اور 10 سالہ تنازع نے 14ہزار سے زائد سوویت فوجیوں کی جانیں لیں۔

حالیہ برسوں میں روس نے طالبان تک رسائی کی کوشش کی ہے اور ماسکو میں متعدد بار طالبان کے نمائندوں کی میزبانی کر چکا ہے۔‎

روس کو خطرہ ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے نتیجے میں خطرہ ہے کہ کچھ عناصر ان وسط ایشیائی ممالک کا رخ کر سکتے ہیں جہاں روس نے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس کو تشویش ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام دہشت گردی کے خطرات اور منشیات کی اسمگلنگ کو فروغ دے سکتا ہے۔