بلوچستان: لاپتہ طالب علم سمیت 6 افراد بازیاب، 2 کی یاد داشت چلی گئی ہے

221

 

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے اطلاعات کے مطابق بلوچستان سے جبری گمشدگی کے شکار طالب علم سمیت 6 افراد آج بازیاب ہوگئے جن میں سے دو کی یاد داشت چلی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قلات سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار طالب علم ماجد بلوچ آج بازیاب ہوگیا۔ ماجد بلوچ کو 29 مئی 2019 کو قلات سے فورسز نے حراست میں لے کر بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، ان کے جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین و طلباء تنظیموں کی جانب سے کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا –

تاہم آج ماجد بلوچ بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ چکے ہیں جس کی تصدیق اسکے قریبی دوست کرچکے ہیں –

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے رہائشی شخص بھی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں، جوانسال ولد گہنور بگٹی ‏4 مئی 2019 کو ڈیرہ بگٹی سے لاپتہ ہوئے تھے آج بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں –

ڈیرہ بگٹی سے اطلاعات ہیں کہ لاپتہ محمد ملوک عرف برین بگٹی تین سال بعد بازیاب ہوگئے۔

دریں اثناء بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تین سال قبل لاپتہ ہونے والا یاسر عرفات بھی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں –

دوسری جانب دیگر دو لاپتہ افراد کی بازیابی کے اطلاعات ہیں اور سوشل میڈیا میں مختلف صارفین انکی تصاویر پوسٹ کررہے ہیں تاکہ انکے لواحقین کو اطلاع مل جائے، ذرائع کے مطابق وہ شدید ٹارچر سے اپنے یاداشت کھو چکے ہیں –

دی بلوچستان پوسٹ کو ذرائع نے بتایا کہ بازیاب ہونے والے افراد منا جنڈوانی مری اور تاو جنڈوانی مری ہیں، جن کا تعلق بلوچستان کے ضلع کاہان سے بتایا جاتا ہے۔ مذکورہ افراد کاہان میں روزگار کرتے تھے جنہیں ایک فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا تھا –

دریں اثناء انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کی جبری گمشدگی کے خلاف آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بی ایس ایم اے کی طرف سے ایک کمپئین کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر مختلف صارفین نے راشد حسین کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھایا اور انہیں بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا –

وائس فار بلوچ مسنگ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے انکے لواحقین کی خوشیاں بحال کی جائے –