افغانستان: سامراجی طاقتوں کی خونریزی اور طالبان کی بربریت کا مقابلہ خطے کا محنت کش طبقہ ہی کر سکتا ہے | زلمی پاسون

338

افغانستان: سامراجی طاقتوں کی خونریزی اور طالبان کی بربریت کا مقابلہ خطے کا محنت کش طبقہ ہی کر سکتا ہے

تحریر: زلمی پاسون

دی بلوچستان پوسٹ

افغانستان میں امریکہ کی زیرقیادت نیٹو افواج کا انخلاجاری ہے، جوکہ 11 ستمبر 2021ء تک بائیڈن انتظامیہ کے مطابق مکمل ہو جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی ممالک کے محنت کشوں سمیت افغانستان کے مظلوم عوام بھی سامراجی قابض افواج اور طالبان دونوں کی بربریت سے تنگ ہیں۔ موجودہ بربریت کا واحد متبادل جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کیلئے جدوجہدہی ہے، جس میں سوشلسٹ افغانستان کا شامل ہونا ناگزیر ہوگا۔

افغانستان میں پچھلی چار دہائیوں سے جاری بربریت نے قریب چار نسلوں کو تباہ و برباد کیا ہے۔اپریل 1978ء کے ثور انقلاب کے بعد سے عالمی و علاقائی ممالک کے خونریز عزائم نے افغانستان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ شورشوں، خانہ جنگیوں، پراکسی جنگوں، سامراجی حملوں اور مذہبی بنیاد پرستی نے عوام کے لئے تباہی مچا دی ہے۔ افغانستان میں ہونے والی تباہی و بربادی کا کُل حجم موجود اعدادوشمار سے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگرچہ جو اعدادوشمار موجود ہیں وہ بھی انتہائی خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں، مگر یہ بھی اس لیے قابل بھروسہ نہیں ہیں کیونکہ یہ سامراجی ممالک کے ترتیب کردہ ہیں۔ سامراجی جنگوں کی وجہ سے اب تک ہزراوں کی تعداد میں اموات ہوئی ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی ہے۔ اس تمام تر تباہی میں اس ذہنی اذیت کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا جو لاکھوں لوگوں کو برداشت کرنا پڑی ہے۔ جبکہ آج بھی افغانستان میں بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حوالے سے کوئی بھی معقول ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ افغانستان میں بے روزگاری، غربت، تعلیم، صحت اور دیگر انفراسٹرکچر کی کیا صورتحال ہے۔ افغانستان کی معیشت جوکہ سامراجی ممالک کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، کے حوالے سے کسی کو علم نہیں کہ ملکی معیشت کا منبع کیا ہے؟ مختصر یہ کہ افغانستان اس وقت خطے میں صرف برائے نام ریاست ہے، رہی سہی کسر سامراجی دلال حکمران اور مذہبی انتہاء پسند طالبانوں نے پوری کردی ہے، مظلوم عوام کے پاس اس وقت کھونے کو صرف زنجیریں ہیں۔

نام نہاد امن مذاکرات اور افغانستان

فروری 2020ء میں امریکی سامراج اور طالبان کے ساتھ دوحہ میں نام نہاد امن مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا، اس نام نہاد امن مذاکرات کے بعد تقریبا گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں افغانستان کے اندر کیا بدلاؤ آیا ہے، اس کا اظہار ہمیں افغانستان کے اندر ہونے والے واقعات و حالات کے نتیجے میں بخوبی نظر آتا ہے۔ امن مذاکرات کے نتیجے میں جن چیزوں پر اتفاق کیا گیا تھا اس معاہدے کی کوئی بھی شق دونوں فریقین (طالبان و امریکہ) کیلئے نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی قابل عمل۔ بالخصوص اقوام متحدہ کی جانب سے یہ رپورٹس منظر عام پر لائی جا چکی ہیں جن میں طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور داعش کے ساتھ حقانی نیٹ ورک کے تعلقات کی موجودگی کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

گو کہ لبرل کیمپ سے متاثر بہت سارے ایسے عناصر اس معاہدے کو یکطرفہ سمجھتے تھے اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد نئی انتظامیہ سے کوئی معجزانہ تبدیلی کی توقع رکھتے تھے مگر نئی حکومت یعنی بائیڈن انتظامیہ نے نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو ہی جاری رکھا بلکہ بعض اوقات ایسے اقدامات بھی اٹھائے جو کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی نہیں اٹھا سکی تھی۔ یوں بائیڈن کے آنے کے بعد لبرل کیمپ کے حامی مایوس ہونے کے بعد اب امریکی سامراج کو پکار رہے ہیں، اور بالواسطہ یا بلاواسطہ چینی سامراج کی مدد کے ساتھ افغانستان کے اندر امن کا خواب دیکھ رہے ہیں جو کہ ایک خواب ہی رہے گا۔ افغانستان کے اندر موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے عالمی اور بالخصوص خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کو سمجھنا ہو گا۔ کیونکہ افغانستان بھی اسی گلوبلائزڈ دنیا کا ہی حصہ ہے، جس میں پہلے ہی وی سامراجی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، اور اب بھی عالمی سامراجی لڑائی کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔

امریکی سامراج کا خصی پن اور بدلتے عزائم

2008ء کے عالمی مالیاتی بحران نے پوری دنیا کے اندر بالخصوص نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں اپنا اظہارجدید قوم پرستی یعنی تحفظاتی پالیسیوں کی شکل میں کیا۔ بالخصوص 2016ء میں امریکہ کے اندر ٹرمپ نے اس پالیسی کو اپناتے ہوئے دوسری عالمی جنگ کے بعد بنے ورلڈ آرڈر کی آڑ میں بنائے گئے بہت سارے عالمی اداروں سے پسپائی اختیار کی اور چین سمیت یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تحفظاتی پالیسیوں کے بل بوتے پر تجارتی جنگوں کا آغاز کیا۔ یوں یہ تحفظاتی پالیسی امریکی سامراج کے دائرے سے نکل کر دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پھیل گئی، جس کا اظہار پوری دنیا کے اندر تجارتی پالیسیوں سے ہٹ کر کرونا وبا کے پھوٹنے کے بعد ہمیں دیکھنے کو ملا، جہاں ترقی یافتہ ممالک نے ایک یونین کے اندر ہوتے ہوئے بھی ساتھی یونین ممالک کو سپورٹ کرنے سے مکمل طور پر انکار کیا۔ جس کی واضح مثال اٹلی ہے جہاں پر کرونا وبا کہ پھوٹنے کے بعد یورپی یونین کے تمام تر بڑے بڑے ممالک نے ان پر ہر قسم کی امداد کی دروازے تقریبا مکمل طور پر بند کر دیے۔ ہم روز اول سے یہ کہتے آرہے تھے کہ کرونا وبا نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے خصی پن کو صرف سطح پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کی اندر یہ تمام تر خامیاں کمزوریاں اور استحصال وجبر پر مبنی پالیسیاں موجود تھیں جس کا معیاری اظہار کرو نا وبا کی صورت میں ہوا۔

’سب سے پہلے امریکہ‘ کا نعرہ لگنے کے پیچھے امریکی سامراج کی معیشت کی کمزوری موجود ہے جس کے بعد امریکی سامراج نے نہ صرف اپنے خطے کے اندر بلکہ پوری دنیا میں اپنی پالیسیوں کے اندر معیاری تبدیلی لائی۔ یورپ، چین، لاطینی امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں اس کی پالیسیوں کے اندر ایک معیاری تبدیلی رونما ہوئی۔ بحر الہند و کاہل کے حوالے سے امریکی سامراج کی جانب سے شائع کردہ دستاویز میں اس خطے کے حوالے سے واضح طور پر ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا گیا، جس کا عملاً اظہار بھی اب نظر آرہا ہے۔ بالخصوص افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے حوالے سے امریکی سامراج کی پالیسی یکسر تبدیل ہو گئی ہے اور اس خطے کے اندر پاکستان کو انڈیا کے زیردست کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ امریکی سامراج کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجودگی، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے سامراجی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط کے ساتھ قرضوں کا ملنا پاکستان کے ساتھ تعلقات کی تبدیلی کا عملی اظہار ہے۔ مگر طالبان کے ساتھ نام نہاد امن مذاکرات کے دوران امریکی سامراج کے ٹکڑوں پر پلنے والے پاکستان کے محدود پیمانے پر مشروط کردار نے ایک حد تک اس ریاست کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے معاشی مسائل کو ایک حد تک حل کر سکے۔ مگر ایک غیر معمولی صورتحال میں معمول کے مطابق تعلقات کو استوار کرنا اب اس نظام کے اندرممکن نہیں۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد صورتحال سے نمٹنے کیلئے آج کل امریکی فضائیہ کی پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی باتیں گردش کر رہی ہیں جبکہ درحقیقت 2001ء سے یہ اجازت موجود ہے جو اب بھی جاری رہے گی۔ بظاہر یہ شور مچا ہوا ہے کہ عمران خان اڈے دینے سے انکار کر رہا ہے جبکہ پارلیمنٹیرینز کو دی جانے والی فوجی سربراہ کی بریفننگ میں یہ سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے اڈے مانگے ہی نہیں اور وہ قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک سے ہی اپنی سٹریٹجک پروازیں جاری رکھے گا جو پاکستان کے اوپر سے گزر سکتی ہیں۔ اس کے بعد سے عمران خان کے انکار کی قلعی کھل گئی ہے اور وہ بھی ایک بہت بڑا جھوٹ ثابت ہوا ہے۔ جیسے حالیہ بجٹ میں بلند و بانگ دعوے کرنے کے بعد آئی ایم ایف کے ہی احکامات پر عملدرآمد ہو رہا ہے اور بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیاجارہاہے۔

پاکستان ماضی میں بھی امریکہ کے ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے بعد ان کے خلاف جھوٹا شور مچاتا رہا ہے، اسی طرح طالبان کے خلاف نام نہاد جنگ کے دنوں میں ان کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو اب اس کے دوغلے کردار اور جھوٹوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

درحقیقت اس ریاست کی خارجہ پالیسی کا حتمی فیصلہ مالیاتی بنیادوں پر ہی ہوتا ہے جس کے لیے پاکستان آج بھی حتمی طور پر امریکہ کا مرہون منت ہے۔ اب افغانستان کے سٹریٹجک معاملات کو براہ راست بجٹ خسارے اور آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر آئی ایم ایف نے سرزنش کی ہے جبکہ امریکہ اپنی اس کٹھ پتلی سے سخت ناراض ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ اسی وجہ سے جو بائیڈن نے ابھی تک عمران خان کا فون تک نہیں سنا۔ اس ناراضگی کا اظہار ایف اے ٹی ایف اور دیگر اداروں کے فیصلوں میں بھی ہوتا ہے جس میں پاکستان پر سخت پابندیوں کا آغاز ہو رہاہے جبکہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط بھی مسلط ہوں گی اور معیشت کی بربادی کا بوجھ حکمرانوں کی جانب سے عوام پر ہی ڈالا جائے گا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کیونکہ پاکستانی معیشت شروع دن سے سامراجی بیساکھیوں کے بل بوتے پہ چلتی آ رہی ہے۔

دوسری جانب انڈیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بحث کو بھی امریکی سامراج کی بدلتی ہوئی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے جس میں پاکستانی ریاست کی جانب سے انڈیا سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ نام نہاد جیو اکنامک پالیسی کا شور مچایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی سامراج کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کو افغانستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ایران کا افغانستان کے اندر ایک سامراجی کردار موجود ہے جس کو امریکی سامراج اس ڈیل کے تحت اپنے مفاد میں استعمال کرسکتا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ترکی کی جانب سے کابل ائیر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کی تجویز بھی خطے میں ترکی کے سامراجی عزائم کا ہی اظہار ہے۔ علاوہ ازیں روسی صدر کے ساتھ امریکی صدر کی ملاقات کو گو کہ براہ راست افغانستان سے تعلق نہیں رکھتی البتہ اس میں افغانستان کے حوالے سے بحث کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

امریکی سامراج اپنے نامیاتی خصی پن کی وجہ سے افغانستان سے انخلا کر رہا ہے جس سے افغان ریاست کی بنیادیں منہدم ہو سکتی ہیں اور افغانستان میں خانہ جنگی ناگزیر ہو چکی ہے جو امریکی سامراج کی نامیاتی کمزوری کا اظہار ہے۔

مختصر یہ کہ امریکی سامراج اپنے نامیاتی خصی پن کی وجہ سے افغانستان سے انخلا کر رہا ہے جس سے افغان ریاست کی بنیادیں منہدم ہو سکتی ہیں اور اس خلا کو پورا کرنے کے لیے خطے کی دیگر سامراجی طاقتوں کو یہ بیساکھیاں مہیا کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے جس میں کامیابی کے بہت کم امکانات موجود ہیں جبکہ ان طاقتوں کی باہمی کشمکش نا گزیر ہے۔ ابھی تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس طالبان کی سرکوبی کے لیے ا فضائی حملے کرنے کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل یا پالیسی موجود نہیں اور اس ضمن میں افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی جانب سے گزشتہ روز امریکہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں بھی کوئی واضح پیغام نہیں دیا گیا، اور امریکی صدر جو بائیڈن نے صرف یہ کہا کہ وہ افغانستان کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

پاکستان اور طالبان

افغانستان کے اندر جاری چار دہائیوں پر مشتمل بربریت میں امریکی سامراج کے پے رول پر کام کرنے کے لیے ضیاء الباطل کے دور میں پیٹرو ڈالر جہاد کی پالیسی کے تحت دلالی کا جو کارنامہ سرانجام دیا گیا تھا، اس وقت سے لے کر آج تک یہ پالیسی جوں کی توں رواں دواں ہے اگرچہ آج حالات پہلے کی نسبت ڈرامائی شکل میں تبدیل ہو چکے ہیں، جیسے جدلیاتی فلسفے کے مطابق چیزیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں بلکہ جلد یا بدیر اپنی اُلٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں، اسی طرح افغانستان میں طالبان کے حوالے سے پاکستانی ریاست کا کردار، جو ایک وقت میں لامحدود تھا، اب کافی حد تک محدود ہو چکا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ طالبان کے ساتھ پاکستانی ریاست کے تعلقات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اب تک پاکستان ہی کے ذریعے طالبان کو سٹریٹیجک سپورٹ مل رہی ہے۔ مگر اس بحث کا اگر ہم سائنسی طریقے سے تجزیہ کریں تو یہاں طالبان کے اندر عسکری و سیاسی تقسیم کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اسی سیاسی و عسکری تقسیم کی وجہ سے افغانستان میں طالبان کی جانب سے حملوں میں تیزی آرہی ہے۔ ”لانگ وار جرنل“کے مطابق اس وقت افغانستان کے 37 فیصدکے قریب ضلعوں پر طالبان کا کنٹرول ہے، جبکہ 21 فیصد اضلاع پر افغان آرمی کا کنٹرول ہے، جبکہ 42 فیصد ضلعے طالبان اور افغان آرمی کے درمیان حالت جنگ میں ہیں۔ اس تقسیم کو اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 28 فیصد آبادی طالبان کے کنٹرول میں ہے، 34 فیصد افغان آرمی کے کنٹرول میں ہے، جبکہ 38 فیصد آبادی افغان آرمی اور طالبان کے درمیان حالت جنگ میں ہے۔

اس پوری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک طرف اگر افغان آرمی کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف طالبان کی بیرونی قوتوں، بالخصوص ہمسایہ ممالک سے، سٹریٹیجک سپورٹ کے بغیر یہ سب کچھ ہونا بھی ناممکن لگتا ہے۔ اس تناظر میں میدان جنگ میں موجود طالبان کی عسکری قوت اس وقت بھی پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جس کا سب سے بڑا دھڑا حقانی نیٹ ورک ہے، جسے عالمی ذرائع ابلاغ پاکستان کی پراکسی بھی کہتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ طالبان کی عسکری قوت کے ساتھ ایران، چین اور روس کے رابطوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے کئی شواہد موجود ہیں جن میں طالبان سے ایرانی ساختہ اسلحہ یا تو برآمد ہوا ہے یا پھر انکا ملبہ ملا ہے۔ جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے جنگی طیاروں کو مار گرانے والے روسی ساختہ 35 میزائل خریدے ہیں جن کی قیمت 70 ہزار ڈالر فی میزائل ہے۔

مگر طالبان کا سیاسی دھڑا پاکستان سے کافی دوری رکھ رہا ہے جس کی اپنی وجوہات ہیں۔ کرونا وبا کے بعد طالبان کی سیاسی قیادت نے انتہائی دباؤ کے تحت پاکستان کا دورہ کیا تھا، اور دباؤ کا مطلب پاکستان میں موجود طالبان (کوئٹہ شوریٰ، پشاور شوریٰ اور مانسہرہ شوریٰ) کے علاوہ طالبان قیادت کے خاندانوں اور جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کاخدشہ تھا۔ اس وقت امریکی سامراج کے خصی پن کی وجہ سے افغانستان میں طالبان ایک مضبوط قوت بن کر ابھر چکے ہیں اور عالمی سطح پر امریکہ کے ہی ایما پر طالبان کو ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر پہچان مل رہی ہے جس کی بنیاد پر خطے کے دیگر سامراجی ممالک بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا ان کے ساتھ تعلقات بنانے میں مصروف ہیں۔ ایران، چین، روس اور بالخصوص انڈیا کے ساتھ بھی طالبان کی سیاسی قیادت یا ان کا ایک دھڑا بدستور مذاکرات کر رہا ہے۔ انڈیا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کو کافی حد تک تشویش ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ انڈیا کی مجبوری ہے یا سامراجی مفاد کہ وہ افغانستان کے اندر تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں طالبان سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتا۔ گوکہ یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ہندو بنیاد پرستوں اور اسلامی بنیاد پرستوں میں پیار کی پینگیں بڑھ رہی ہیں جبکہ دونوں کا وجود ہی ایک دوسرے کی ضد پر قائم ہے۔ مختصر یہ کہ طالبان افغانستان اور عالمی سطح پر امریکی سامراج کے خصی پن کی وجہ سے ایک عسکری قوت بن چکے ہیں اور سیاسی شناخت حاصل کر چکے ہیں، اور امریکہ نے قطر میں ان کا سفارت خانہ کھلوا کر اور پھر معاہدے کر کے مزید مضبوط کیا ہے اور اب ان کی شناخت دنیا بھر میں کروائی جا رہی ہے۔ اسی صورت حال کے پیشِ نظر طالبان کی سیاسی قیادت اب صرف پاکستان پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ وہ خطے اور عالمی سامراجی ممالک کے ساتھ بھی بدستور رابطے میں ہے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات بھی نہ صرف امریکی سامراج کے دباؤ اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر روسوخ کی وجہ سے تبدیل ہوچکے ہیں، بلکہ طالبان کے حوالے سے چینی سامراج کا بھی ایک واضح موقف ہے کہ وہ افغانستان میں ہر صورت امن کا خواہاں ہے تاکہ وہاں پر ان کی سرمایہ کاری کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

افغان حکومت

نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کے خلاف امریکی سامراج نے اپنے سامراجی عزائم کے تحت افغانستان میں سامراجی مداخلت کرتے ہوئے تاریخ کی طویل ترین جنگ مول لی۔ مگر گزشتہ دو دہائیوں سے ’جمہوریت کے چیمپئین‘ اور ’دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت‘نے افغانستان میں صرف سماجی و سیاسی تباہی ہی پھیلائی ہے، جبکہ پراپیگنڈا یہ کیا گیا تھا کہ افغانستان کو مستحکم ملک بنانا ہے۔ سامراجی بیساکھیوں پر کھڑی افغان حکومتیں، کرپشن، بدعنوانی اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی میں سب سے آگے رہی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان میں کوئی بھی عوامی فلاحی ادارہ قائم نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو پائی بلکہ آج تک افغانستان کی معیشت سامراجی بیساکھیوں کے بل بوتے پر ہی کھڑی ہے۔ کوئی سیاسی متبادل پارٹی نہیں ہے اور نہ ہی افغانستان میں موجود برسراقتدار سیاسی قیادت کے اندر ہم آہنگی موجود ہے۔ بلکہ سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے جنگجو سردار اور مجاہدین گزشتہ دو دہائیوں سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں، جنہوں نے نہ صرف کرپشن اور بدعنوانی کی مثالیں قائم کی ہیں بلکہ یہی جنگجو سردار اور مجاہدین افغان عوام میں اپنی رجعتی بنیادیں بھی کھو چکے ہیں۔ امریکی سامراج اور طالبان کے درمیان نام نہاد مذاکرات کے سلسلے میں بھی افغان حکومت اور ان کے اتحادیوں کے درمیان کوئی متفقہ لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔

طالبان کے منظم ہونے اور ایک قوت کے طور پر ابھرنے کے حوالے سے جہاں ایک طرف امریکی سامراج کی کمزوری اور در پردہ حمایت شامل ہے تو دوسری طرف افغانستان میں اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے بھی طالبان کو کافی فوائد ملے ہیں۔ اس حوالے سے افغانستان میں جہاں پر بھی طالبان قبضہ کر لیتے ہیں، وہاں پر افغان پولیس یا افغان آرمی کی جانب سے متعدد حکومت مخالف شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پچھلے پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں اور نہ ہی یہاں پر جنگ کی کیفیت میں ہمیں حکومت کی جانب سے کوئی راشن وغیرہ مہیا کیا جاتا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کمزوریوں کی وجہ سے افغان آرمی یا پولیس، طالبان کے سامنے قبائلی عمائدین کے کہنے پر ہتھیار ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے افغانستان میں اس کٹھ پتلی حکومت کی رٹ کا صرف کابل سمیت دیگر شہری مراکز تک ہی محدود ہو جانا ایک ناگزیر عمل ہے۔ افغان حکومت کی کمزوری اور خصی پن کی وجہ سے طالبان افغان حکومت کے ساتھ روابط رکھنے یا مذاکرات کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

سامراجی بیساکھیوں پر کھڑی افغان حکومتیں، کرپشن، بدعنوانی اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی میں سب سے آگے رہی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان میں کوئی بھی عوامی فلاحی ادارہ قائم نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو پائی بلکہ آج تک افغانستان کی معیشت سامراجی بیساکھیوں کے بل بوتے پر ہی کھڑی ہے۔

اگرچہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات جاری ہیں، لیکن تاحال امن مذاکرات کے ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ دوحہ اور ماسکو کی امن کانفرنسوں کا اختتام چند یوٹوپیائی تصوارات کے ساتھ ہوا جبکہ استنبول کا اجلاس متعدد مواقع پر منسوخ کردیا گیا۔

افغان حکومت کا مستقبل انتہائی خطرے میں ہے، اور افغان قیادت بین الاقوامی دہشت گردی سے لڑنے کی کوششوں میں ناکارہ اور بدعنوان، دونوں ہی ہے۔ موجودہ افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) انٹیلی جنس سروس ایک کمزور ادارہ ہے، جو لگاتار فرقہ وارانہ حملوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ مبینہ طور پر اندھا دھند قتل عام، لاپتہ ہونا اور دیگر بنیادی حقوق کی پامالیوں کے الزام میں کئی دوسرے سیکیورٹی ادارے، جن کی تربیت سی آئی اے نے کی ہے، ملوث ہیں۔

افغان عوام

اس وقت پوری دنیا میں ایک غیر معمولی اور ہیجان کی کیفیت برقرار ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سے لے کر دنیا بھر کے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں محنت کش عوام سرمایہ دارانہ نظام کے جبر اور استحصال کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ 2019ء میں دنیا کے 47 فیصد ممالک میں ایسی احتجاجی تحریکیں چلیں جنہوں نے کئی جگہوں پر بر سر اقتدار حکمران ٹولے کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔

گو کہ افغانستان میں بھی عوام سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں مگر ان کی ترجیحات دیگر ممالک کی نسبت تبدیل ہوتی ہیں۔ طالبان کے خلاف عوام میں جو غم وغصہ موجود ہے اس کا اظہار ہم نے مختلف احتجاجی مظاہروں کی شکل میں دیکھا ہے۔ طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں خواتین جنگ مخالف اور امن کے حق میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور کیمپس لگا چکی ہیں۔ بالخصوص افغانستان میں اس وقت نسبتاً خانہ جنگی کی جو کیفیت موجود ہے اس کے خلاف مظلوم افغان عوام کے اندر شدید غصہ موجود ہیجس کا اظہار افغانستان کے کئی صوبوں میں طالبان کے خلاف مسلح بغاوتوں کی شکل میں ہو چکا ہے۔

گو کہ عوام کا اس طرح باہر نکلنا ایک مثبت پیش رفت ہے مگر افغانستان جیسے سماج میں اس طرح کے مسلح مظاہرے یا احتجاجوں کو افغانستان کے اندر موجود جنگجو اشرافیہ اپنے مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں۔ اگرچہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت افغانستان میں کوئی بھی جنگجو سردار، مجاہدین یا طالبان کوئی بھی عوامی حمایت نہیں رکھتے، مگر ایک ہیجان کی کیفیت میں اس طرح کی عوامی بغاوتوں کو نام نہاد جنگجو اشرافیہ اپنے ذاتی مفادکے لیے استعمال کر سکتے ہیں یا یہ مختلف پراکسیز کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں۔ جس سے ایک بار پھر افغانستان میں مکمل خانہ جنگی کے امکانات واضح طور پر ابھر رہے ہیں۔

یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے افغان مجاہدین کے مشہور رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد سے بھی اپنے رابطے بحال کرنے کی کوشش کی ہے، جو سابقہ شمالی اتحاد کی بحالی کے لئے کوشاں ہے جسے دوسری مزاحمت بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ممکنہ اتحاد اپنے ابتدائی مراحل میں ہے،مگر مغربی انٹیلی جنس ذرائع کو احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی متحارب دھڑوں کو متحد کرنے کی صلاحیت پر شک ہے۔ اس ممکنہ اتحاد میں تاجک قیادت کی موجودگی میں غلبہ غیر پشتونوں کاہوگا، جس کی وجہ سے مزاحمتی اتحاد نادانستہ طور پر پشتون قبائلی رہنماؤں کو طالبان کی حمایت کرنے پر مجبور کردے گا۔

مگر ایک بات واضح ہے کہ افغانستان میں عوامی حمایت اب کسی بھی سیاسی قیادت یا مذہبی انتہا پسندوں کے پاس نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ بھی ہرگز مقصد نہیں ہے کہ عوام قوت نہیں رکھتے۔ بلکہ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ افغان عوام کی کوئی بھی تحریک خطے کے محنت کش طبقے کے ساتھ حتمی طور پر جڑی ہوئی ہے۔ بالخصوص اس ضمن میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک جن میں چین، ایران، پاکستان اور تاجکستان وغیرہ شامل ہیں، کے محنت کش طبقے کا ایک تاریخی کردار ادا کرنے کے مواقع موجود ہے۔

کئی برسوں سے مشرقی سامراجی طاقتیں، جیسے ہندوستان، اسرائیل، ایران، روس اور چین کے کردار میں بھی ایک معیاری تبدیلی آ رہی ہے۔ ان سامراجی ممالک کی انٹیلی جنس کی افغانستان میں آج ایک فعال موجودگی ہے۔ اگرچہ سابقہ دو (انڈیا اور اسرائیل) نے امریکہ کے ساتھ اپنے سلامتی کے تعلقات کو سرے سے یا مزید مستحکم کیا ہے، لیکن بعد کے تینوں نے واشنگٹن کے ساتھ جیو پالیٹکس میں مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔

ایران، روس اور چین کے امریکہ کے ساتھ علاقائی سطح پر مقابلہ بازی کے باوجود ان تین ممالک کی افغانستان کی سرحدوں سے قربت، وسطی ایشیا اور یورپ تک رسائی کے پیش نظر تینوں ریاستیں کابل میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے پائیدار سٹریٹیجک مفاد کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی ریاست کے اندر دھڑے بندیاں تو موجود ہیں، مگر افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے دونوں دھڑے اس وقت ایک پیج پر ہیں۔ کیونکہ چینی اور امریکی سامراج دونوں افغانستان کے اندر اپنے اپنے سامراجی مفادات کے تحت امن چاہتے ہیں، اور پاکستان جیسی سامراج کی گماشتہ ریاست کی اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی تو نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہے، مگر افغانستان کے حوالے سے ان کے اپنے بہت سارے مسائل دوبارہ سے جنم لے سکتے ہیں جس میں خصوصاً افغانستان سے مہاجرین کی دوبارہ آمد اور پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان جیسی دیگر مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے دوبارہ اُبھار کے خطرات شامل ہیں۔

افغانستان میں اسلامی امارت کے قیام کا مطالبہ پاکستان سمیت تمام عالمی و علاقائی سامراجی ممالک نے مسترد کیا ہے۔ اور اسلامی امارت کے قیام کے مطالبہ کو بالخصوص پاکستان کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد طالبان کے ساتھ تعلقات کی خرابی اور طالبان پر کنٹرول کی محدودیت میں بھی ایک اہم فیکٹر سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسری جانب پاکستان طالبان کے ذریعے افغانستان میں اپنی مداخلت کو جاری رکھنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے جوگزشتہ دو دہائیوں سے کمزور ہوتی گئی ہے۔ حامد کرزئی اور بعد ازاں اشرف غنی کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مسلسل خراب نوعیت کے ہی رہے ہیں جس کی وجہ افغانستان کے لبرل اور قوم پرستوں کی پاکستان کے سامراجی کردار سے شدید نفرت موجود تھی، لیکن اس کے باوجود دونوں امریکی سامراج کے گماشتہ ہونے کے ناطے باہمی تعلقات رکھنے پر مجبور بھی تھے۔ اس دوران پاکستان، طالبان اور کابل حکومت، دونوں متحارب قوتوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں تعلقات قائم رکھ کر دنیا بھر میں بدنام ہوچکا ہے اور عالمی سفارت کاری میں کوئی بھی اب پاکستان پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، اور انہیں دوغلا قرار دے دیا گیا ہے۔ اس دوغلے کردار کے باعث طالبان کا بھی پاکستان پر عدم اعتماد بڑھاہے اور ان کے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں جس کی بنیادامریکہ دشمنی پر ہے۔

اس وقت ایران کابل پر طالبان کی حکومت کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا ہے اور شمالی افغانستان میں ایران کے زیر اثر شیعہ آبادی کو طالبان کی حمایت کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ ایران کے لئے اماراتِ طالبان کی بحالی سعودی عرب سے قریبی تعلقات کے ساتھ سنی اثر و رسوخ میں اضافے کی نشاندہی کرے گی۔ اسی طرح روس اور سابقہ سوویت ریاستوں کی افغانستان کے ساتھ ایک سرحد مشترک ہے، مطلب یہ ہے کہ طالبان کی واپسی سے علاقائی اسلام پسند تحریکوں کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے، اور اس طرح مذہبی دہشت گرد گروہوں جیسے ازبکستان اسلامک موومنٹ اور چیچنیا میں مختلف گروہوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

چین اگرچہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بارے میں خوش ہے، مگر چین کی جانب سے ساتھ ہی ساتھ امریکہ سے افغانستان کو اس طرح کی صورتحال میں چھوڑنے پر بھی تحفظات ہیں کیونکہ اسے جنوبی اور وسطی ایشیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر تشویش لاحق ہے۔ اس سے نہ صرف چین کے کھرب ڈالر کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، بلکہ اسلامی تحریکیں و تنظیمیں، جیسے ایغور لبرائزیشن آرگنائزیشن (یو ایل او) یا مشرقی ترکستان اسلامی موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) بھی چین کو مشکلات میں ڈال سکتی ہیں۔ انہی خطرات کے پیش نظر طالبان کی سیاسی قیادت کے ساتھ ایران، روس اور چین کے مذاکرات جاری ہیں جبکہ بائیڈن انتظامیہ نے بھی اس طرح کے تعاون کو ممکن بنانے کی راہ ہموار کردی ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ افغانستان میں جاری جنگ کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے افغانستان میں کوئی ایسی مخلوط حکومت تشکیل دی جا سکے جس کی بنیاد پر افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے تحفظات دور ہوسکیں اور امریکی سامراج اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہسرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے افغانستان میں کسی بھی قسم کے امن اور سکون کا خواب دیکھنا محض ایک خواب ہی رہے گا۔

یہ جنگ ایک سامراجی جنگ ہے۔ یہ محض سرمایہ داروں کے منافع اور ان کے تحفظ کے لئے درکار سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ کے لئے لڑی جانے والی جنگ ہے۔ طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت کوئی معمہ نہیں۔ یہ زمینی طور پر سیاسی صورتحال کی عکاس ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے براجمان افغان حکومت اور مغرب سے افغان عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی وجہ سے طالبان کی افرادی و عسکری قوت میں اضافے کی عکاسی بھی کررہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک طالبان کو علاقائی سامراجی طاقتوں کی حمایت تو حاصل ہے لیکن عوامی حمایت نہیں مل سکی۔ جن علاقوں میں طالبان کا قبضہ ہو رہا ہے وہاں انہیں کسی بھی جگہ خوش آمدید نہیں کیا گیا بلکہ وہاں سے ہزاروں لوگ خانہ جنگی یا طالبان کے مظالم کے خوف سے کابل یا نسبتاً محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اسی طرح طالبان کو ابھی تک اپنی ریکروٹمنٹ کے لیے پاکستان کے پشتون علاقوں میں کمپئین کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے جس میں انہیں پاکستانی ریاست کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔ یہیں سے ان کی کمزوری واضح ہوتی ہے۔ پورے افغانستان کو کنٹرول کرنے کے لیے اس طرح کی عددی قوت ناکافی ہے اور عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی اقتدار شدید عدم استحکام کا شکار ہو گا۔

ایک مشہور فوجی جنرل کارل وون کلوز وٹز نے کہا تھا کہ ”جنگوں کا مقصد داخلی سیاست کو دوسرے ذرائع سے توسیع دینا ہوتا ہے“۔ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام اپنی تاریخ کے بد ترین بحران کا شکار ہے اور افغانستان میں اس بحران کا پوری شدت کے ساتھ اظہار ہو رہا ہے۔ آج اس نظام کے کی حدود میں افغان عوام کے مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے، اور وہاں خانہ جنگی کے آثار خونریزی اور قتل و غارت کی ایک نئی لہر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں افغانستان میں برسرپیکارتمام امن دشمن قوتوں کے خلاف لڑنا ہوگا تاکہ افغان عوام سامراجی جبر سے خود کو آزاد کرا سکے۔ یہ جنگیں سرمایہ داری کی پیداوار ہیں اور آخری تجزیے میں خود کو جنگ سے آزاد کرنے کا واحد راستہ سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

مختصراً افغان عوام کو روٹی، مکان، کپڑا، دوائی اور بنیادی انفراسٹکچر کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اس وقت تک پوری نہیں کی جاسکتی جب تک ہم اس بوسیدہ نظام کو ختم نہ کر ڈالیں۔ امریکی سامراج دو دہائیاں یہاں سامراجی تسلط قائم رکھنے اور دو کھرب ڈالر سے زائد خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں پسماندگی ختم نہیں کر سکا اور یہاں ایک جدید سماج تعمیر نہیں کر پایا جو اس سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ واضح ہو چکا ہے کہ اس نظام میں رہتے ہوئے کوئی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ عالمی مارکسی رجحان کا دو دہائی قبل بھی یہی تناظر تھا جو آج وقت کی کسوٹی پر درست ثابت ہوا ہے۔ جبکہ وہ تمام قوم پرست، لبرل اور نام نہاد بائیں بازو کے افراد جو دو دہائی قبل امریکی سامراج کی گود میں جا بیٹھے تھے اور یہ ایمان لے آئے تھے کہ امریکی سامراج کے آنے سے یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنی شروع ہو جائیں گی، آج تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن چکے ہیں۔ آج واضح ہو چکا ہے کہ بائیں بازو کے یہ تمام غدار غلط تھے اور عالمی مارکسی رجحان کا تناظر بالکل درست تھا۔

امریکہ کی کٹھی پتلی حکومت کو سہارا دینے کی بجائے اگر دو دہائیاں قبل مارکسزم کے حقیقی نظریات پر مبنی ایک مزاحمت منظم کی گئی ہوتی، جس میں طالبان کی رجعتیت اور مظالم کے ساتھ ساتھ سامراجی طاقتوں کے خلاف بھی لڑائی لڑی گئی ہوتی تو آج صورتحال یکسر مختلف ہو سکتی تھی اور افغانستان سمیت خطے کے محنت کش عوام کو ایک انقلابی متبادل میسر آ سکتا تھا۔ لیکن آج بھی اگر اس تمام تر تاریخی غداریوں سے سبق نہیں سیکھا جاتا اور امریکی سامراج سمیت تمام رجعتی اور سامراجی طاقتوں کے خلاف لڑائی منظم نہیں کی جاتی تو یہ خانہ جنگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور یہ کئی نئی جنگوں کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں سرمایہ دارانہ نظام کے رکھوالے عوام کا خون بہائیں گے۔

بنیاد پرستی کا متبادل لبرلزم نہیں بلکہ سوشلزم ہے۔ سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر ایک منظم انقلابی تنظیم تعمیر کر کے محنت کش طبقے کو منظم کیا جا سکتا ہے جو ایک سوشلسٹ انقلاب کی صورت میں افغانستان سمیت پورے جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن قائم کر کے اس خطے سمیت پوری دنیا کو دہشت گردی، غربت، جہالت، بھوک اور ننگ سے ہمیشہ کیلئے آزاد کرائے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں