اس دھرتی پہ عورت کے پسینے سے زیادہ پاک شے اور کوئی نہیں – محمد خان داؤد

93

اس دھرتی پہ عورت کے پسینے سے زیادہ پاک شے اور کوئی نہیں

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

خلیل جبران نے لکھا
”اس دھرتی پہ عورت کے پسینے سے زیادہ پاک شے اور کوئی نہیں!“
خلیل جبران نے لہو کا نہیں کہا،چاہے وہ کوئی سا بھی لہو ہو،شہیدوں کا،دیش بھگتوں،ناحق قتل کیے انسانوں کا مردوں کا یا محبت میں ماری گئی کاریوں کا،نہیں خلیل جبران کے پاس بس اس پسینے کی پاکیزگی ہے جو عورت کے بدن سے بہا جائے،کب؟اس بات کو جبران نے واضح نہیں کیا،پر جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں جبران اس عورت کے اس مقدس پسینے کی بات کر رہا ہے جو عشق میں بہایا جائے جو محبت کی مہ کشی کے بعد جسم سے ایسے پھوٹے جیسے بنجر زمینوں سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور کوئی آواز آتی ہے زم زم زم،اور وہ محبت کی مٹھاس میں جا ری ہوتا چشمہ پستانوں سے ہوتا ہوا وہاں تک جاتا ہے جہاں محبت کی حد ہو تی ہے،محبت کی پیک ہو تی ہے،جہاں محبت بھی محبت سے مات کھا جا تی ہے اور یچھے کچھ نہیں بچتا!
اس پسینے کے لیے جون کہہ چکا ہے
”جسے تم اوس سمجھ رہے ہو
یہ محبت میں کی گئی مزدو ری کا پسینہ ہے!“
اسے پسینے کو جبران کہہ رہا ہے
”اس دھرتی پہ عورت کے پسینے سے زیادہ پاک شے اور کوئی نہیں!“
پر اس کا تو خون بہا دیا گیا۔وہ جو دھرتی کو اپنی محبت کے پسینے سے گیلا گیلا رکھا کرتی تھی۔جس پسینے سے محبت کی سوندھی سوندھی خوشبو آیا کرتی تھی،جس کا وجود محبت کا وجود تھا،جس کا وجودمحبت کی لے تھی۔وہ جو محبت کی بولی سمجھ کر محبت کی بولی میں بات کرتی تھی۔وہ جس کے لب بہت دہیرے سے کھلتے اور ان لبوں سے بہت دہیرے سے الفاظ ادا ہو تے،وہ جو محبت کی مہک تھی۔وہ جو محبت میں اُٹھنے والی خوشبو تھی۔وہ محبت کی سحر تھی،محبت کی شام تھی،وہ جو محبت کا چاند تھی،
طلوع ہوتا چاند
چودویں کا چاند
وہ جس کے دل میں محبت کا جنم ہوا اور پھر اس سے بھی محبت کا جنم ہوا،ایسے ہی جیسے پھول کھلتے ہیں اور پھول خوشبو کو جنم دیتے ہیں،وہ محبت کا اعتبار تھی،یقیں تھی،بھروسہ تھی!
وہ محبت کا کھلتا کنول تھی۔پتلا پتلا سا نرم و ملائم!
وہ محبت کی دھوپ تھی جو کھلی رہتی،وہ محبت کی چھاؤں تھی جس میں اداس پنچھی جب تھکتے تو بسرام کرتے!
وہ محبت کی مچھلی نہ تھی،وہ آپ محبت کی ندی تھی،میٹھی میٹھی شیریں شیریں!
وہ بے یقیں کا یقیں تھی
وہ بے اعتباری کا اعتبار تھی
وہ آخری پہروں میں طلوع ہونے والا ستارہ تھی
وہ خوشبو کا لمس تھی
وہ محبت کی کتاب کا شروعاتی باب تھی
پر اس محبت کی کتاب کو بہت جلد لپیٹ دیا گیا
وہ محبت میں آہ بن گئی
سسکی بن گھی
بے جاں جسم بن گئی
بند تابوت بن گئی
اور پھر قبر بن گئی
اس وقت تو وہ تفتیش بنی ہوئی ہے اور سرکا ری اداروں میں بہت چہ موگیاں ہو رہی ہیں
پھر وہ یاد بنے گی
اور پھر اسے سب بھول جائیں گے
وہ کوئی شاعری کا دیوان نہ تھی
وہ کوئی شاعری کا کتاب نہ تھی
وہ کوئی شاعرہ نہ تھی
پر اسے دیکھ کر شاعری اپنی غزلوں کے آخری بندوں کو مکمل کرتے تھے
وہ ان کھردرے ہاتھوں میں جا تے تو سہم جا تی،پر وہ بھی کیا کرے محبت کو عقل نہیں ہو تی۔سمجھ نہیں ہو تی محبت کو تو بس دل ہوتا ہے جو سیکڑوں کلو میڑکا سفر بس اک لمحہ میں طے کرتا ہے اور وہ محبت کچھ نہیں جانتی!
وہ جس کے لیے جبران نے لکھا ہے کہ
”اس دھرتی پہ عورت کے پسینے سے زیادہ پاک شے اور کوئی نہیں!“
اس دن دھرتی اس کے خون سے لہو لہو ہو گئی۔پہلے اس سے محبت کی گئی۔پھر اسے محبت میں دھوکہ دیا گیا،پھر اس کے محبت والے نفیس جسم میں گولیاں ماری گئیں اور بعد میں تیز دھار آلے سے اس کا تن سر سے جدا کر دیا گیا
محبت حیران ہے
کہ نور کا گلا تیز دھار آلے سے تن سے جدا کر دیا گیا یا محبت کا؟
ویسے تو اس سوال کا جواب دانشور تلاش کریں کہ محبت مقتول ہوئی ہے یا مریم؟
اور پولیس تفتیش کرے کہ معصوم محبت کو کیوں کر گولیاں ماری گئیں اور کیوں کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا؟
پر ہم اس سوال کو ایسے ہی سلجھادیتے ہیں کہ
محبت نور تھی
نور محبت
حالاں کہ دیکھا یہی گیا ہے کہ محبت میں تن سر سے جدا ہو تے ہیں.
محبت کے سر تن سے جدا نہیں کیے جا تے
عاشق زہر پیاک ہو تے ہیں
عاشق جنونی ذہنی مریض پاگل اداکار نہیں ہو تے
پر یہاں ایسا نہیں ہوا یہاں تو محبت مقتول ہوئی ہے!
چاہتے بیٹی کمی کمہار،ہا ری،موچی دھوبی کی ہو چاہیے بیٹی سفارت کار کی
بیٹیوں کے قتل پر،بیٹیوں کے ناحق قتل پر بیٹیوں کے مقتول بن جانے پر باپ سبھی رو تے ہیں
کل حیدر آباد میں ایک مزدور اپنی بیٹی کے ناحق قتل ہوجانے پر ماتم کر رہا تھا
آج اسلام آباد میں ایک سفارت کار اپنی بیٹی کے قتل ہوجانے پر ماتم کر رہا ہے
کل حیدر آباد میں اک ماں اپنی بیٹی کے ناحق کا ری ہونے پر خدا کو تلاش کر رہی تھی
آج اسلام آباد میں ایک ماں اپنی نور جیسی بیٹی کے کا ری ہو جانے پر خدا کو تلاش رہی ہے
کل حیدر آباد میں ناحق قتل کے ایک سرکا ری کامورہ ریٹ طے کر رہا تھا
آج اسلام آباد میں ایک سرکا ری کامورہ ناحق قتل ہو جانے والی معصومہ کا ریٹ طے کر رہا ہے
کل حیدر آباد میں قاتل کو بھا ری فیس لیکر وکیلوں نے سرکا ری ڈاکٹروں سے پاگل کا سرٹیفیکٹ دلا اور وہ کسی اور معصومہ کو قتل کرے گا
آج اسلام آباد میں وکیل بھاری معاوضہ لیکر ایک اور قاتل کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں
پھر جبران کی اس بات کا مان کہاں رہے گا کہ
”اس دھرتی پہ عورت کے پسینے سے زیادہ پاک شے اور کوئی نہیں!“
پسینہ تو رہا ایک طرف یہاں تو خوشبو جیسی لڑکیوں کے سر تن سے جدا ہو رہے ہیں
کیا یہ کھیل یوں ہی چلتا رہے گا؟
امیر قاتل خوشبو کا وجود اپنے پیروں تلے کچلتے ہیں اور آگے بڑھ جا تے ہیں
غریب مائیں ماتم کر تی رہ جا تی ہیں
پھر مادھو لال حسین دھائی نہ دے
”مائے ئی نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی“


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں