وطن کے لئے قربانی کی ضرورت ہے – میرین بلوچ

160

وطن کے لئے قربانی کی ضرورت ہے

 تحریر : میرین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

وطن سے مراد ہمارا ملک ہے۔ وطن کی محبت کا مطلب ہے کہ
ہم اپنے ملک اور لوگوں کے فائدے کے لئے کام کریں۔وطن کا محبت انسان کی فطرت میں ہے۔جسں جگہ انسان پیدا ہوتا ہے اور جہاں زندگی گزارتا ہے ۔اس جگہ کی ہر چیز سے اُسے محبت ہو جاتی ہے۔وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے ۔

بلوچستان ہمارا وطن ہے۔بلوچستان ایسے خطے میں واقع ہے کہ اس کا جغرافیائی پورے دنیا میں اہمیت کا حامل ہے۔یعنی پورے دنیا کی نظریں بلو چستان کے اوپر ہیں اور معدنیات سے  مالا مال یعنی یہ امیر بلوچستان ہروقت بیروونی طاقتوں کا ہدف رہا ہے، مغل، آرایاؤں ، ہندوستانی شہنشاوں اور ایرانی شہنشاوں تک  بلوچوں نے اپنے سر زمین کی دفاع کے خاطر بیرونی طاقتوں کا مقابلہ کیا  ہے  ۔

جب 1839 خان محراب خان جو کہ اس وقت  خان تھا قلات کا۔سامراج انگریز جب بلوچستان پر حملہ آور ہوا تو   خان محراب خان اپنے ساتھوں سمیت دشمن کے خلاف اٹھا اور اپنا جان قربان کردیاِ  اس کے بعد ہزاروں نوجوان نے غلامی کے خلاف اپنا جان قربان کردیے ہیں اسی طرح انگریز سامراج کو بلوچستان چھوڑنا پڑا اور1947 11اگست  بلوچستان ایک آزاد ملک دنیا کے سامنےاُبھرا لیکن برصغیر کے ٹوٹنے کے بعد دنیا کے سامنے نام نہاد مذہب کے نام پر پاکستان قائم ہوا۔بلکہ پھر پاکستان نے 27مارچ 1948 نے بلوچستان پر قبضہ کیا۔اس سامراج پاکستان کے خلاف پرنس عبدالکریم ،بابو نواب نوروز سے لے کر اکبر بگٹی اور بالاچ ،غلام محمد ،جنرل اسلم نے غلامی کے خلاف اپنے جان قربان کر دیے اور ہزاروں کے تعداد میں بلوچ نوجوان شہید ہو گئے ہیں اور ہزاروں کے تعداد میں زندانوں میں قید ہیں اور اب تک بلوچ نوجواں غلامی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

کسی بھی قوم کے اندر نوجوانوں کا بڑا کردار ہوتا ہے
ایک دانشور کا قول ہے اگر آپ کسی قوم کو تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے ان کے نوجوانوں کے اندر منشیات پھیلاؤ نوجوان کسی بھی قوم کا ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں یعنی نوجوان کا بڑا کردار ہوتا ہے وہ  قوم کے سارے بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے۔

اگر بلوچ کی قومی تحریک آزادی  کو دیکھیں تو نوجوانوں کا بڑا کردار نظر آتا ہے۔ ہزاروں کے تعداد میں بلوچ طالب علموں نے شمولیت اختیار کی ہےاور ہزاروں کے تعداد میں شہید اور لاپتہ  ہو گئے ہیں
اگر ہم مجید بریگیڈ کا جائزہ لیں تو وہاں بلوچ نوجوان فدائی کی شکل میں وطن پر قربان ہو رہے ہیں یہ وہ نوجوان ہیں جو شعوری طور پر وطن پر قربان ہو رہے ہیں دشمن کا جینا حرام کردیا ہے یہ وہ نوجواں ہیں جو اپنے اندر قومی احساسات اور قومی ذمہ داری  کو سمجھ کر دشمن کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے سر زمین پر کسی بھی قسم کی جبر اور استحصال کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

دشمن نے ظلم وجبر کا بازار گرم کیا ہےدشمن نے تمام حدیں پار کردی ہیں، ہر  روز فوجی آپریشن ہو رہے ہیں اور اجتماعی قبریں دریافت  ہورہے ہیں اور ہمارے چادر وچار دیواری کی پامالی ہورہی ہے
تربت میں  ڈنک اور تمپ  کا واقعہ جو دشمن کے پالے ہوۓ  ڈیتھ اسکواڈ  چوری ڈکیتی لوٹ مار اور دیگر سماجی برائیوں میں مصروف عمل ہیں یا ہرنائی کا واقعہ ہو جو پاکستانی سیکورٹی فورسز نےہر نائی  میں ایک گھر میں گھس کر قیضر چلغری سمیت نواسی اور دیگر خواتین کو شہید کردیا   اور شہید حیات بلوچ کو دن دہاڑے ان کے والدین کے سامنے شہید کیا جاتا ہے ۔حیات بلوچ کو کسی بھی سیاسی تنظیم سے وابستہ نہیں تھا پھر کیوں ان کو شہید کیا گیا ہے۔دشمن یہ نہیں دیکھتا  کون میرے خلاف برسرپیکار ہے اور کون میرے خلاف نہیں ہےبس لفظ بلوچ ان کو مارنا ہے کیونکہ ان کو بلوچ سے کوئی دوستی نہیں بلکہ اس کے وسائل سے دوستی  ہے۔

حالیہ دنوں میں نئے  حربے استعمال میں لایا گیاہے ۔بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر پھر ان کو کسی تنظیم سے جوکر جعلی مقابلے میں شہید کیا جاتا ہے۔

سامراج ایک تشدد کی جگہ دوسرے تشدد کو متعارف کروا رہا  ہے۔دبا، ڈرا اور دھمکا کر خاموش کرایا جاۓ تاکہ اپنی قبضہ گیرت کو طویل تسلط قائم کیا جاۓ۔

سامراج کی لڑائی کا مقصد مقامی لوگوں پر حکومت اور ان کے ناجائز تسلط قائم رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں۔جب انسان اپنے نفس میں انقلاب برپا کرتے ہیں تب وہ بیرونی دنیا  میں تبدیلی کے درپے ہوتے ہیں

سامراج دشمن نے ہمیں کالونی بنا کر رکھا ہے ہمارےاوپر مختلف طریقے کے حربے استعمال کررہا ہے اور ہمارے تعلیمی نظام سامراج کی تعلیم ہے ۔ہر روز بلوچ طالب علم و طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ہر روز نیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے زیادہ  وقت پڑھائی کرنے کے بجاۓ روڑوں، پریس کلبوں،ریلی اور مظاہروں میں اپنا وقت دیتے ہیں  اور دوسری طرف بڑی تعداد میں ہماری مائیں اور بہنیں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے  احتجاج  کررہے ہیں یہ سب ظلم وبربریت  غلامی کا احساس دلاتی ہے کہ آپ ایک غلام قوم ہو جو ظالم اور قبضہ گیر کے ہاتھوں میں ہو۔

میں ان بلوچ  نوجوانوں کو یہ احساس دلانا چاہتا ہوں جو ان کے اندر قومی احساسات اور ان کا ضمیر مر چکا ہے سارا دن اپنے ذاتی خواہشات کے غلام ہیں قومی فکر وسوچ سے بیگانہ ہیں اور ذہنی غلام کے شکار ہیں “جس طرح فینن کہتا ہے کہ غلام اقوام استعماری قوتوں کے ہتھکنڈوں میں جکڑنے کے بعد احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ مجرمانہ احساس غلام اقوام کی ذہنی نشوونما کے لیے زہر قاتل بن جاتا ہے۔ یہ احساس عزت نفس کو مجروح کرتا ہے اور غلام قوم خود اپنی نظروں میں گر جاتا ہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان احساس کمتری میں مبتلا ہواور ان کی عزت نفس بھی مجروح ہو تو وہ غلام کے خلاف کچھ کرنے یا متحرک ہونے سے خوف زدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ آقا کے سوا “میں” کچھ بھی نہیں ہوں اور وہ طاقتور ہے لائق ہے اور اسے شکست نہیں دی جاسکتی ۔۔۔یہی سوچ ہمیشہ غلام اقوام کی جدوجہد سے دور کردیتی ہے۔
اب نئی تاریخ رقم کرنی ہے یہ جدوجہد کی تاریخ ،یقین کی تاریخ ،مزاحمت کی تاریخ،آزادی کی تاریخ

میں اُن بلوچ نوجوانوں کو کہنا چاہتا ہوں جو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر اور قومی سوچ اور قومی تحریک آزادی سے بیگانہ ہیں اگر غلامی کے خلاف آواز بلند نہ کی آنے والے نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں