شہید بیبرگ بلوچ و شہید عبدالستار بلوچ – مہتاب زیب بلوچ

152

شہید بیبرگ بلوچ و شہید عبدالستار بلوچ

تحریر : مہتاب زیب بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

گیارہ جون 2010 خضدار میں ایک بلوچ خاندان کے لیئے ایک سیاہ ترین دن تھا آنیوالے دور میں جب مورخ تاریخ لکھے گا تو اسی دن کو ملکی تاریخ میں بدترین دنوں میں شمار کریگا۔اس دن بلوچ ورنا کلاس نہم ورکرز ویلفیئر پبلک اسکول خضدار کے طالب علم بیبرگ بلوچ و عبدالستار ساسولی کو انتہائی سنگدلی اور وحشتناک انداز میں انسان نما وحشیوں نے شہید کیا۔

شہید بیبرگ بلوچ اپنے والدین اور خاندان کے لیئے ایک روشن چراغ کی طرح ابھررہا تھا۔ ہر وقت ہنسی،قہقہ اور مسکراہٹ اسکے چہرے کی رونق بنی ہوئی تھی۔ وہ ایک بہادر اور بے خوف نوجوان کے ساتھ ساتھ انسان دوست، ہمدرد اور محنتی طالبعلم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اپنے ہم عمر سنگتوں کے ساتھ رواداری و دوستی کےلیے ایک پہچان سمجھا جاتا تھا۔

11 جون 2010 کو بروز جمعة المبارک عصر کے وقت وہ اپنے دوستوں شہید عبدالستار بلوچ و دیگر کے ساتھ کوشک خضدار میں لنک روڈ پر شہید عبدالستار بلوچ کے چھوٹی سی دکان میں بیٹھے ہوئے تھے۔
دنیا سے بے رغبت ہوکر اپنے خوشی گپیوں میں مشغول تھے کہ وحشی قاتلوں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر وار کرکے فائرنگ شروع کیا۔
جس پر شہید بیبرگ بلوچ اپنے بہادری و دلیری کا لاج رکھتے ہوئے ظالم قاتل کی طرف بڑھتا گیا حتٰی کہ آخری گولی سینہ میں کھا کر ظالم قاتل کے سامنے گر پڑا اور اپنے دوست شہید عبدالستار ساسولی کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔ عین اسی فائرنگ کے دوران شہید کی ماں یہاں سے گزر رہی تھی جب لاش کے قریب آیا تو دیکھا کہ ماں کا لال بیبرگ بلوچ شہید ہوچکا ہے۔

ماں کی عظمت و بہادری و دلیری کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اسکے سامنے اسکی جوانسال بیٹا اپنے دوست کے ساتھ شہید ہوا لیکن ماں نے صرف یہ کہا کہ قیامت کے دن میں قاتل کو گریبان سے پکڑ کر اللہ کے سامنے پیش کرونگی۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے.

یہ وہ سیاہ دن تھا جس نے ہر روز کی طرح اس دن کو بھی پورے خضدار کو افسردہ کردیا۔ شہید بیبرگ اپنے خاندان کو تو غمگین کرنے کے ساتھ پورے خضدار کو غمگین کرکے چلا گیا۔ آج شہدا کی یادیں بہت ستا رہے ہیں۔ شہید بیبرگ جان کی وہ ہنسی وہ مسکراہٹ بہت یاد آرہا ہے لیکن امید ہے اللہ پاک سے کہ وہ بہتر فیصلہ کریگا.

یہ سب کچھ وحشی قاتل نے اس لیے کیا کہ ان نوجوان شہداء کے جذبات اور احساسات میں اپنے وطن، قوم اور لوگوں سے محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

ہےجرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا

لیکن اس مفلوک الحال سرزمیں کی غمزدہ اور زخم خوردہ فضائیں آج بھی شہداء کی قربانیوں پر انہیں ہر لمحہ خراج عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں۔

اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا
دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں