بلوچستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی رجعت پسندی، فرقہ واریت کو مسترد کرتے ہیں، بی ایس او

103

 

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کا سینیئر باڈی اجلاس زیر صدارت زونل آرگنائزر شکور بلوچ کے بی ایس او کے مرکزی سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا-

جس کے مہمان خاص مرکزی سیکرٹری جنرل عظیم بلوچ جبکہ اعزازی مہمانان مرکزی کمیٹی کے اراکین کریم شمبے بلوچ ،مقبول بلوچ اور ریاض بلوچ تھے، اجلاس میں شال زون کے یونٹ سیکریٹریز ،ڈپٹی یونٹ سیکریٹریز اور دیگر سنگت موجود تھے-

اجلاس کی کارروائی زونل آرگنائزنگ کمیٹی ممبر باسط بلوچ نے چلائی،

کاروائی کا آغاز شہدا کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد ہوا-

اجلاس میں علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال، تنظیمی رپورٹ آئندہ کا لائحہ عمل سمیت دیگر ایجنڈے زیرِ بحث رہے ۔

خطے کی سیاسی صورتحال پہ سیر حاصل بحث کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچ قوم کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ امریکہ اور دیگر غیر ملکی افواج افغانستان کا مسئلہ حل کئے اور افغان حکومت کو اپنے پیروں پہ کھڑے کئے بغیر افغانستان سے انخلا کر رہی ہے جس سے خطے میں ایک خلا پیدا ہوگا اور طالبنائزیشن کو فروغ ملے گا-
جس کے اثرات بلوچستان سمیت پورے خطے پہ پڑے گے، بلوچستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی رجعت پسندی، فرقہ واریت ہو یا طالبان کا کوئٹہ شوریٰ ہو بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ان تمام عناصر کو مسترد کرتی ہے، نوتال میں ائیر بیس کے قیام سے ہمیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ بلوچستان میں ایک بار پھر غیر ملکی افواج کو اڈے فراہم کرکے بلوچ سرزمین کو ہمسایہ اقوام پر بمباری کےلئے استعمال کیا جائے گا۔

اجلاس میں شال زون کے تمام یونٹس کو کل سے ممبر شپ شروع کرکے جلد سے جلد یوٹ باڈیز اور پھر زونل جنرل باڈی منعقد کروانے کی تاکید کی گئی-

اس کے علاوہ یونٹس کو ہدایت کی گئی کہ وہ تعطل کا شکار ہفتہ وار سٹڈی سرکلز کو دوبارہ شروع کریں۔

آخر میں شہید حمید بلوچ، شہید اسلم گچکی کی برسی اور بی ایس او کے سابق انفارمیشن سیکرٹری سنگت ناصر بلوچ کی چہلم کے حوالے سے بی ایس او و بی این پی کا مشترکہ تعزیتی ریفرنس گیارہ جون کو چار بجے لنک شاہوانی روڈ میاں غنڈی میں منانے کا فیصلہ کیا گیا۔