آج کا فلسفہ، نظریہ اور وجود تحریر:شیرخان بلوچ

87

 

فلسفہ بنیادی طور پر ہمارے اردگرد کے کائنات اور بہت سے چیزوں کے اوپر سوال کرتا ہے مثلاً انسان کہاں سے آیا؟ موت کے بعد انسان کا کیا بنتا ہے ؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ؟انسان کون ہے؟ کائنات کو کس نے بنایا ہے ؟ اور وہ خود کیسے دنیا میں آیا ؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جو ہمیشہ اور ہر وقت ہمارے ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ اگر ان سوالات پر غور وفکر کیا جائے تو ان سوالات کے بغیر ہم نہ رہ سکتے ہیں اور نا ہی ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ٹھیک کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ ہمارا شعور صرف دماغ نہیں بلکہ دماغ کے ساتھ ساتھ انسانی نظام کے تحت انسان کے ساتھ رہنا بھی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ  فلسفہء وجودیت کے مطابق فرد کے داخل کی دنیا جذبوں کی دنیا ہے دوسری جانب سے  فردمعاشرے، مظلوم عوام اور سماج سے کٹ کر بھی زندگی بسر نہیں کرسکتا جبکہ سماج اور سماجی قدرو قمیت مختلف ہوتے ہیں اور فرد کوقدم قدم پر مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج کے دنیا میں بہت سے ایسے نظریے ہیں جو ارتقائی مراحل طے کرتے دنیا میں مختلف وجوہات کی بناء پر آتے رہے ہیں جیسے کہ یکساں حقوق کے لیے، آزادی کے لیے، سماجی برابری کے لیے، مظلوم عوام اور سماج کی تبدیل کے لئے، مظلوموں کے استحصال کے خلاف، اور پورے انسانیت کے لیے۔  انسان سارے نظریوں میں سے چند قدریں مشترک ہیں۔ یہ سارے نظریئے مظلوم عوام کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ بلکہ مظلوم کو لیڈ کرنے کے لئےمظلوم لوگ ہی اٹھیں گے ، اور کسی کو باہر سے آنے والوں کی رہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہونا چاہیے۔ انقلابی کی سوچ رکھنے والے لوگ کسی نہ کسی آئیڈولوجی یا سوچ جیسے کہ لینن اورمارکسزم  وغیرہ کے نظریے کے تحت چلیں نہ کہ کسی خالی دنیا کے سوچی سمجھی اور بیرونی دشمنوں کے نظریئے کے تحت۔ وہ زمانہ الگ اور وہ لوگ بھی آج کے لوگوں سے الگ تھے۔ پانچویں اور Renaisaance کے پہلے سے جتنے بھی صدیوں گزر گئے ہیں وہ سب ” ڑارک ایج” اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے اتنا نہیں سوچا تھا جتنا کہ دنیا کے نیو برت سے سوچنا شروع ہوگیا، لوگوں نے یونیورسٹیوں، مملکت کے بارے میں جاننا، کتابوں کی شائع کرنا شروع کیا، لوگ سائنس کی طرف چلے گئے،  انسانیت نے جنم لیا  اور ایسی چیزیں وجود میں آئے جن کا نہ سوچ تھا اور نہ کوئی خواب۔ یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ  ان لوگوں نے یونانی فلسفہ اور ان کے کچھ مینیوسکرپٹس کو اپنا تے ہوئے ان کا صحیح استعمال کیا ورنہ ہم آج بھی اسی ڑارک ایج میں زندگی گزار تے۔ اس کے باوجود  آج کا فلسفہ مرنے کے برابر ہے۔کیونکہ وہ دور گزر گیا لیکن سماج میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایک “ethos” درمیان میں بنایا ہے جس نے مظلوم عوام کے لیے روشنی کا رستہ بند کرنا شروع کردیا ہے اور پرانے سوچوں اور نظریوں سے اتنا متاثر ہوچکے ہیں کہ وہ اب زمانے کو ان کے بنیادی طور طریقے سے نہیں دیکھتے ہیں۔

کوئی نظریہ ہو یاکہ کوئی انقلابی جدوجہد کی بات ، یہ فلسفہ کی بنیادی ساخت سے شروع ہوجاتا ہے ۔ اگر نظریہ فلسفہ کے بنیاد سے نہیں ہے تو نظریہ بے معنی ہے ۔ نظریہ وقت اور سماج کی تبدیلی کےلیے ہوتا ہے۔ پہلے زمانوں میں قربانیاں لیڈر اور عوام دونوں دیتے تھے، آجکل عوام قربان ہوتی ہے اور لیڈر اس قربانی کے صدقے حکومت کرتے یا انقلاب برپا کرتے ہیں۔

کوئی نظریہ ہو یا کوئی فلسفہ ،اگر زندگی کے حوالے سے بات کررہا ہو تو پہلے انسان کو وجود اور اس اصل مقصد کو جاننا ضروری ہے۔  دراصل انسان کو اس کے وجود سے پہچانا جاتا ہے اس کی سوچ رکھنے کی صلاحیت، ملنا جلنا، اور بہت سے ایسی چیزوں سے پہچانا جاتا ہے جو سب باقی جانوروں میں نہیں پائے جاتے ہیں ۔ جیسے سارتر وجودیت کے بارے کہتا ہے کہ وجودیت سے مراد ایک ایسا نظریہ ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی ممکن نظر آتی ہے۔ مزید برآں یہی نظر یہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ ہرسچائی اور ہرعمل انسانی ماحول اورانسانی داخلیت کا مظہر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ شعور ایک سماجی مظہر ہے جس کا وجود دماغ اور سماج میں رہنے کے عوامل کے بدولت ہوگا۔ جب کسی سماج میں رہ کر جہاں پر چیز کی قدم قیمت روپیہ ،ڈالر اور زندگی کی عیش و عشرت کا ہے تو موجود انسان کا گلا گھونٹ دیتا ہے پھر یہی حالات انسان کو گناہ کے آخری سرحدوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسے شخص کو سزا ضرور دے سکتے ہو لیکن اس سے زیادہ سخت سزا اس سرمایہ داری سماج کو ملنی چاہیے آج سے ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں جو انسان کو اس کے اعلی مقام سے گرا دیتے ہیں۔

مارکس اور لینن کے نظریوں  نے تبدیلی لائی ہے لیکن دور الگ تھا آج کا دور بلکل الگ ہے  وہ نظریے آج اس دنیا میں الگ شکل اختیار کرنے کے لائق ہیں۔ جب کوئی آج کی دنیا کے بنیادی تضاد سے بحث کرے تو یہ ہر گز کوئی نہیں بولتا ہے کہ سماج کی تاریخی ترقی کا تعین سوشلسٹ نظام کرتا ہے۔ بلکہ سامراج کے خلاف صف آراء قوتیں کرتی ہیں جن کا مقصد سماج کی سوشلسٹ بنیادوں پر ازسرتشکیل کرنا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں سب سے صحیح سائنسی خطوط پر منظم طبقاتی قوتیں اور خاص طور پر محنت کش طبقے کا بڑا حصہ یعنی نئے سماج کا ترقی پذیر مرکز ہے۔ آج کے حالات واضح طور پر تجزیہ کرتے ہیں کہ سماج ایک جگہ ٹہرا نہیں رہتا۔ جیسے کہ ماضی قریب کا غور سے دیکھا جائے تو سوشلسٹ اور کمیونسٹ معرض وجود میں آئے تھے لیکن وہ زمانہ آج کے دور سے بلکل الگ تھا لیکن آج سامراج بے خوف و خطر اس طرح اپنی مرضی نہیں ٹھوننس سکتا جس طرح وہ ایک زمانے میں کرتا تھا۔

نوآبادیاتی نظام ماضی کی دھن ملکوں کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ آج کے دور میں سامراج، زمیندار اور نو آباد کار سب مزدوروں کسانوں ، محنت کش طبقوں اور مظلوم عوام کا استحصال کررہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ استحالی نظام اور نوآبادیاتی نظام دونوں بر قرار رہیں۔ ہما رے دور کا سب سے بڑا تضاد سوشلسٹ اور سرمایہ داری کا تضاد ہے۔ جب عوام کی قسمتیں خطرے میں ہوتی ہیں ،سوشلسٹ نظام کا وزنی حرف آخر سامراجیوں کے عزائم کو خاک میں ملادیتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مارکسیت، کمیونزم اور سوشلزم کا میابی کے لیے کام کرتی ہے۔ انسان کے لوٹ کھسوٹ قومی ظلم و ستم اور نسل کشی کے خلاف جہاد کرتی ہے۔ لیکن وہ زمانہ بدل چکا ہے،  زندگی بدل چکا ہے اور نظریئےکو بدلنا چاہئے ۔جس میں لینن اپنے زمانے میں انقلاب کے سلسلے میں مارکسی تعلیم میں نئے عناصر کا اضافہ کیا بلکل اسی طرح آج کے مارکسی وادیوں نے جنگ اور امن کے مسائل پر نئی روشنی ڈالی ہے۔

کسی جگہ یا ملک میں نتائج کا تعین اور راہ کا تعین نا ممکن ہے تو اس کے لیے جدوجہد کرنا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔ یہ زندگی بے شمار صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اور اس کی کوئی ایک خاص ترتیب نہیں مثلآ سوشلسٹ نظام کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ خون ریزی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اور پرامن کا بھی۔  اس کا انحصار مخصوص حالات پر ہے۔ یہی حال سوشلزم کی تعمیر کا بھی ہے۔ سوشلزم کی تعمیر دیہات میں اور ملک یاکہ انجمن میں مختلف شکل میں پیش آتی ہے۔ لیکن شہر، نو آباد مملک میں اس کی صورت سے مختلف ہوسکتی ہے۔  سامراج کے ساتھ جنگ کوہی کھلونا کا کھیل نہیں، یہ سنجیدگی اور مستقبل مزاجی کا مطالبہ کرتی ہے۔ سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان ایک ایسی صورتوں کی ضرورت ہے جن کے ذریعے سے سامراج رفتہ رفتہ اپنے مضبوط مورچے سوشلزم کے ساتھ پرامن معاشی مقابلے میں چھوڑ دیں اور بالآخر جہنم کا ایندھن بنے۔

افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ایسے ممالک ہیں جو پسماندگی کا سبب بن چکے ہیں ان ممالک کے عوام کی وجہ سے نہیں پسماندگی کا شکار نہیں بلکہ یہ امر ہے کہ نوآبادکاروں نے ان ممالک میں پیدوار کی ترقی میں روڑے اٹکائے ۔ وہاں فیکٹریاں نہیں بنائیں۔ اور وہاں کے عوام کا استحصال کیا۔ انسانی تاریخ کسی ایک فرد کی خواہشات آراء من مانی سرگرمیوں میں زور سے آگے نہیں بڑھتی بلکہ تاریخ کی حرکت محنت یعنی محنت کشوں کی پیداواری سرگرمی کی مرہون منت ہے۔دنیا کے بہت ممالک میں فلسفہ کے اوپر بحث و مباحثہ ہوا لیکن اس پر سوویت یونین اور دوسرے ملکوں کے نوجوان مارکسی فلسفیوں نے اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسفہ کا زندگی کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ ہونا چاہئے اور اسے دنیا کی کا یا پلٹنے کا ایک ہتھیار بننا چاہیے۔

مارکسی فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں زندگی میں خوش و خروش سے حصہ لے کر اس کی ماہیت بدلنی چاہیئے ۔ مارکسی فلسفہ کا سب سے بڑا پہلو اس کی مجاہدانہ انقلابی روح ہے۔اس سامراج کی دور میں سماج کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو مارکس اور اینگلز کے زمانے میں نہیں تھیں۔ آج کے دور میں مارکسیت اور لیننیت کو مغربی اور مشرقی قسموں میں تقسیم کرنے کی سب کوششیں بیکار اور غیر سائنسی ہیں۔ کل کا دور کسی اور شکل میں بدل چکی ہے اور نظریہ کو بدلنا چاہئے۔ یہ شاید درست ہے کہ سامراج نہیں بدلی ہے لیکن اب امن کی طاقت ور اور ناقابل تسخیر قوتیں بھی موجود ہیں۔

 


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں