کوئٹہ میں لاپتہ افراد کیلئے احتجاج، بی این پی رہنماء کی آمد

208

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4311 دن مکمل ہوگئے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر اور ایم این اے ہاشم نوتیزئی نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ماما قدیر نے ہماری بہنوں اور دیگر افراد کے ہمراہ بلوچ لاپتہ افراد کیلئے طویل جدوجہد کی جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

ہاشم نوتیزئی کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں کہ ریاست اپنے لوگوں کو لاپتہ کرے اور کئی سالوں بعد ان کو بازیاب کیا جائے یا ان کی لاش برآمد ہو۔ یہ انتہائی مشکل اور تکلیف دہ صورتحال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے پہلے دن ہی مرکزی اسمبلی میں لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی تھی۔ ہم کہنا چاہتے ہیں رہاست ہوش کے ناخن لیں، ان واقعات سے ریاست کیخلاف نفرت میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ قوم کا ایک طبقہ ابھی تک سویا ہوا ہے اور ایک طبقہ لاشعوری طور پر پرامن جدوجہد کرنے والوں پر تنقید کررہی ہے کیونکہ یہ لوگ ہر عمل کو اپنے خواہشات کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ عید کا سورج جہاں خوشیاں اور مسکراہٹیں لیکر طلوع ہوتی ہے، وہاں وہ اقوام جو غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے ہیں ان کیلئے عید کی خوشیاں سطحی و غم نمایاں ہوتی ہے۔ عید کے بابرکت دن بھی بلوچ مسنگ پرسنز کیمپ کھلا ہوتا ہے اور اس دن ریلیاں اور مظاہرے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان تاریخ کے گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے، لوگ آپس میں دست گریباں ہیں، خفیہ ادارے و فورسز بلوچستان میں حالات کے خرابی کے ذمہ داری ہیں۔

دریں اثناء متحدہ عرب امارات و پاکستان سے لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کے لواحقین نے 13 مئی بروز جمعرات کو خلیجی ممالک میں عید کے موقع پر آن لائن کمپئین کا اعلان کیا ہے۔

لواحقین نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ عید کے دن متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی جانب سے راشد حسین کے عدم رہائی پر #SaveRashidhHussain کے ہیش ٹیگ کیساتھ کمپئین چلائی جائے گی۔