خوف کا دائرہ اور جدوجہد – واھگ بلوچ

177

خوف کا دائرہ اور جدوجہد

تحریر: واھگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کسی بھی معاشرے میں پیدا ہونے والے بچے کو زندگی کے شروعاتی مراحل سے لیکر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک خوف کا سامنارہتا ہے ، خوف کی شکل اور احساسات گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت بدلتے رہتے ہیں۔

خوف جو انسانی سماج میں مختلف پہلو سے آپ کے دل و دماغ میں دانستہ یا غیر دانستہ طورپر یا بزور طاقت بٹھائی جاتی ہے خواہ خوف مذہبی عقیدے کے پہلو سے ہو ، سیاسی کشمکش کا ہو ، یا سماجی طاقتور طبقات کے ظلم و تشدد کا ہو ان سب کا دارومدار صرف کسی فرد کو ایک دائرہ تک محدود رکھنا ہوتا ہے۔

اسی خوف کے سائے تلے کوئی شخص ساری زندگی اپنے فیصلوں پر خود عمل پیرا ہونے کے قابل نہیں رہتا خواہ وہ فیصلے کسی فردکے انفرادی صورت میں ہوں یا اجتماعی۔

عموماً زیادہ تر افراد انہی خوف کے سائے تلے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک اپنے دل و دماغ میں رکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔

لیکن انسانی تاریخ کے پنوں میں کچھ ایسے بھی نوجوانوں کا ذکر ہوتا ہے جو کسی بھی دائرے تک اپنے آپ کو روک نہیں سکتے تھے، وہ پیدا ہی انہی خوف کے دائروں کی زنجیروں کو روندنے کے لئے ہوئے تھے۔

دنیا میں آنے پر ان کی منشا تو شامل نہیں تھا لیکن زندگی کرنے کے ڈھنگ ان کی اپنی مرضی وہ منشا کے تھے۔

انسانی سماج میں آپکو زندگی کرنے کے لئے بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اُن سب کے باوجود اکیسوی صدی میں بلوچ ہوکر بلوچ سماج میں تو زندہ رہنا ایک معجزے سے کم نہیں۔

جہاں ہر ایک نئی صبح کئی مصیبتیں سمیٹ کر آپ کے جاگنے کے منتظر ہوتی ہیں ، بلوچ معاشرہ جو اپنی آزاد قومی شناخت کھوچکی ہے۔

کہتے ہیں کے جب کوئی ظالم سامراج کسی دوسرے محکوم قوم پر یلغار کرتا ہے تو وہ اُسکی ہر پہچان کو تباہ و برباد کرنے کے در پے ہوتاہے، جو محکوم اقوام کو دوبارہ سر اٹھانے اور اپنی پہچان کو بحال کرنے میں تقویت دیتا ہو،سامراج ہمیشہ اپنی طاقت، مذہبی حربہ اپنی عوامی قوت سے سامراجیت کو برقرار رکھنے کے جستجو میں رہتا ہے۔

اور دوسری طرف محکوم اقوام کے ثقافت، زبان، سیاست، مذہب ، رسم و رواج سب کو تباہ کرکے اپنی فرسودہ کلچر کو محکوم پر مسلط کرتا ہے تاکے انکے آنے والی نسلوں تک وہ سامراج کی پیروی کرتے رہیں۔

سامراجیت کی سب سے بڑی مثالیں ہمیں برطانیہ، اسپین، فرانس، پرتگال، جو پندراہویں صدی سے لیکر بیسوی صدی تک (15th to 19th) دیکھنے کو ملتی ہیں۔

برطانیہ جسکے بارے میں کہتے ہیں کہ مشرق سے مغرب تک اسکے سامراج کا جھنڈا لہراتا تھا، اُنکو اس بات پر غرور تھا کہ انکے سامراج میں طلوع آفتاب ہوتا ہے غروب آفتاب نہیں۔

جسکے قبضہ میں کنیڈا, امریکہ، آسٹریلیا،افغانستان، برِصغیر (انڈیا، پاکستان، بھوٹان، سری لنکا ، نیپال، مالدیپ،بنگلادیش)، بلوچستان،ایران، بحرین،عراق، کویت، قطر، مصر، کیمرون تھے جو بیسویں صدی کے آخر تک کچھ اقوام مکمل ازاد ریاست بنے، اور کچھ اقوامکے اوپر اپنے لائے ہوئے ایجنٹ کے زریعہ ان پر ناجائز قبضہ جمائے رکھا۔

بلوچ جو بحیرہِ بلوچ کے مالک ہیں جن کا سرزمین معدنیات کے حوالے سے مالا مال , جنکے پاس 1200km ساحلِ سمندر، قدرتی گیس، کوئلہ، آئرن، سلپر ، کرومائٹ، سنگ مرمر، گولڈ، تانبہ ،چاندی پایا جاتا ہو۔

اُس قوم کو خوش نصیب ہی کہا جاتا ہے جہاں وہ بستے ہوں اور اُن کا زمین اتنے قدرتی وسائل سے مالا مال ہو۔

مگر یہاں تو بلوچ ہونے کو ہی بد نصیبی تصور کرانے میں طاقت کا زور لگایا جارہا ہے۔

کہنے کو بلوچ جس سرزمین کے مالک ہیں وہ تو دنیا کے امیر ترین زمینوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن وہ امیری، دولت مندی ، اُس وقت قوموں کے نصیب میں خوش قسمتی یا خوش نصیبی کہی جاتی ہے جب وہ قومیں اپنےساحل وسائل کے مالک خود ہوں۔

اپنی قومی و اجتماعی سماجی، سیاسی، معاشی فیصلےخود کرسکتے ہوں ، اپنی زبان، ثقافتی رسم وراج، لٹریچر کے خود مالک ہوں۔

جنکو اپنی قومی خودمختاری ، اپنے ریاست کے داخلی اور خارجی پالیسیاں بنانے میں مکمل اختیار ہو۔

اِن بنیادی شرائط کے زریعہ قومیں آزادی سی مُسلسل کامیابی کی طرف گامزن رہتی ہیں ،، جو بد قسمتی سے بلوچوں کے اختیار میںں ہیں،

‏Sep,1839 میں جب برطانیہ کے لشکر نے کابل کو فتح کرنے کے بعد اپنی توپوں کا رُخ قلات اسٹیٹ کی طرف موڑا تو ان کا سامنامری بلوچوں کے جانبازوں سے ہوا اور کاہان میں کئی مہینوں تک جنگ جاری رہا، اور دوسری طرف خان اف قلات میر محراب خان نے اپنے ساتھیوں سمیت برطانیہ کے لشکر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے دلیری سے لڑ کر شہادت پائی۔

یہی وہ سیاہ دور تھا جب بلوچوں کے سرزمین پر برطانوی سامراج کا قبضہ شروع ہوا۔ جو 1839 ,september سے لیکر august,,11, 1947 تک جاری رہا، لیکن یہ برطانوی سامراج کی بلوچستان پر مکمل قبضہ نہیں تھا بلکہ بلوچستان کی ایک پرنسلی ریاست کے مطابق برطانیہ کے ساتھ تعلقات تھے جو صرف اس لحاظ سے تھے کہ بلوچستان زار سلطنت یاکوئی اور ریاست کو انڈیا کی طرف آنے کا راستہ مہیا کرنے اور برطانیہ کے خلاف استعمال ہونے سے باز رہے، اور کسی دوسرے سلطنت کو برطانیہ کے خلاف تعاون نا کرے اور یہ بات بڑی اہمیت کی ہے کے تاریخ میں جب بھی کوئی مغربی طاقتور زمینی راستے سے انڈیا پر قبضہ جمانا چاہتا تھا تو وہ افغانستان اور بلوچستان کے راستے آتے اور اپنا قبضہ جماتے۔

اسی جغرافیائی اہمیت کے وجہ سے بلوچستان بیسوی صدی تک سامراجوں کے اپنےظالمانہ عزائم کو برقرار رکھنے کے لئے بلی کا بکرابنا رہا اور آج بھی وہ سلسلہ چلتا جارہا ہے۔

برطانوی سامراج بلوچ سرداروں ، نوابوں اور اپنے ایجنٹوں کے زریعہ اپنے عزائم پورے کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ دوسری طرف بلوچ سماج ، رسم و رواج، بلوچ ثقافت کو کافی حد تک فرسودہ بنانے میں کامیاب رہا اور باقی جو کثر رہ گئی تھی وہ دوسری جنگ عظیم میں شکست کھانے اور تباہ و برباد ہونے کے بدلے میں اس خطے کو بانٹ کر پورا کر گیا۔

جہان برصغیر کو توڑ کر دو قومی نظریے کا ڈھونگ رچایا گیا اور اپنے پوسٹ کالونیلزم کے پالیسوں کو قائم رکھنے کے لئے اپنے ایجنٹ بنائے گئے اور یہ خطہ اپنے مخالف ریاستوں کے لئے استعمال کرنے کےلئے جوڈے گئے اور اج تک انہی ریاستوں میں وہ لوگ حکومتیں کرتے آرہے ہیں جو انہی سامراجی پالیسیوں کو برقرار رکھے ہوے ہیں۔

ان پوسٹ کالونیل ریاستوں میں کبھی ڈکٹیٹر تو کبھی سویلن حکومت بن جاتی ہے، کیہے کو تو یہ ریاست میں عوامی بہبود کے لئےکام کرتے ہیں لیکن اِن کے پس پردہ مقاصد اپنے انفرادی مفادات اور سیاسی طاقت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے جو بنا سامراجی آشیربادکے ناممکن ہے۔

اسی طرح برطانوی سامراج کی پشت پناہی اور آشیرباد سے رضا شاہ پہلوی لشکر نے 1928 میں مغربی بلوچستان پر بھی قبضہ جمایاجو آج تک ایران کے قبضہ میں ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں جب برطانوی سامراج معاشی حوالے سے کمزور ہو گیا تھا اور وہ اپنی سامراجیت کو برقرار رکھنے کے پوزیشن میں نہیں تھا، تو وہ کئی قومی ریاستیں بنا کر رخصت ہوگیا لیکن اس نے جو کارنامے اپنی سامراجی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے کیےتھے اُن کارناموں پر بطور ایک مہذب قوم دوبارہ نظرثانی اور ان قوموں کی وقار ، انکی قومی پہچان، انکے زمینی علاقوں کو دوبارہ بحال کرنے میں برطانیہ عملی طور پر ناکام رہا۔

جسکی وجہ سے آج بھی کئی قومیں پوسٹ کالونیل ریاستوں کے دائرے میں انسانی نسل کشی کا سامنا کرتے آرہے ہیں، جنکی مثال فلسطین، کردستان، کشمیر، بلوچستان، تبت ہیں۔ جہاں ھر روز لوگ مارے جارہیں ہیں کبھی مذہب کے نام پر کبھی قومیت کے نام پر کبھی آزادی کے نام پر اور کبھی محب وطنکے بناہ پر جہاں قومیں اپنی قومی وقار کو دوبارہ بحال کرنے کی جستجو میں جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔

ان قوموں میں ایک بلوچ قوم بھی ہے جنکا سرزمین جو برطانوی سامراج کے لوٹنے کے بعد ایک طرف شاہ ایران کے جبرنّ قبضہ میں چلا گیا تو دوسری طرف قائد اعظم کی شکل میں جبرن پاکستان کے قبضہ میں چلا گیا جو آج تک بلوچ پاکستان کے اندر قومی شناخت اور بلوچ ریاست کی بحالی کے لئے مختلف طریقوں سے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔

ایک طرف ایران جو قدیم فارسی تہذیب ہے جو ہزاروں سال پرانی تارییخ رکھتی ہے۔

سامراج کی شکل میں بلوچوں اور اُنکے زمین پر قابض ہے جسے 93 سالُ ہونے کو ہیں وہ ھر وہ سامراجی حربہ استعمال میں لا رہا ہےجو کسی قومی شناخت، ثقافت ، رسم و رواج ، زبان، مذہب ، سیاست کو تباہ برباد کرنے میں تیز رفتاری لا سکے، بلوچوں کے اعلاقوںکے نام ، انکے بچوں کے نام سب سامراجی اصولوں کے مطابق رکھے جارہے ہیں۔

اور دوسری طرف مملکت پاکستان جو اپنی 73 سالہ تاریخ وجود رکھتی ہے جسمیں 4 صوبوں میں چار بڑی قومیں آباد ہیں جسمیں تین قوموں کی پاکستان بننے سے پہلے کی قدیم تاریخ موجود ہے۔

پاکستان میں بلوچوں کے ساتھ بھی غلام قوم جیسا رویہ 73 سالوں سے پیش آرہا ہے۔

بلوچستان جو ,august,11,1947 برطانیہ سے بطور پرنسلی اسٹیٹ آزاد ہو گیا تھا ، 8 مہینے کے بعد 27,march,1948 کو بطور لشکر کشی بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ ملایا گیا۔

ان 73 سالوں میں بلوچ سیاسی قیادت کبھی پاکستانی پارلیمان پرست بنی اپنی قومی بقاہ و خودمختاری پارلیمان میں تلاش کرتا گیا توکبھی بلوچستان کے مسکین پہاڑوں میں قومی پہچان کو بحال کرنے کے لئے مسلح اواز ٹھاتا گیا۔

کبھی لاشوں پر سیاست کی تو کبھی لاشوں کو کندھا دیکر اپنی قومی نظریہ پر قربان ہونے کی عہد بھی کر لیا، اپنی قومی نظریہ کے خاطرجیلوں میں پھانسی کے رسی تک کو بھی چوم کر دنیا کو بتا دیا کے مر سکتے ہیں ضمیر کا سودہ نہیں کرسکتے ، یہاں تک کے اپنے بدن کو بارودکے ڈھیر میں رکھ کر سامراج کے ٹھکانوں پر حملہ آور بھی ہوئے۔

اِن 73 سالوں میں بلوچ پاکستان کے ساتھ کبھی محب وطن پاکستانی بنے تو کبھی ناراض اور مٹھی بھر شرپسند ، کبھی را کے ایجنٹ توکبھی پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ۔

آج بھی بلوچ سرزمین میں سامراج کی یلغار موجود ہے ، جو روز بہ روز اپنی دہشت بڑھاتا چلا جارہا ہے، کبھی مذہبی صورت سے توکبھی اپنی لشکر کی مدد سے، اور تو اپنے بنائے گئے علاقائی ڈیتھ اسکواڈ کے زریعہ جو آئے روز بلوچ سماج میں ایک ناسور بنتا جارہاہے۔

جو بنایا گیا تو بلوچ قومی جہدکار کو کاونٹر کرنے کے لئے لیکن انکو ہر وہ کام کرنے کا مکمل آزادی حاصل ہے جو ایک بلوچ معاشرےمیں برا سمجھا جاتا ہو۔

یہ گروپ ڈرگ اسمگلنگ، اغوا برائے تعاوان ، عصمت دری ، قتل غارت گری کرتے نظر آتے رہے ہیں ان سب سماجی برائیوں میں سامراج کا ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں۔

اسی بلوچ ریاستی بحالی اور بلوچ قومی آزادی کے پانے کے کشمکش میں بہت سے بلوچ نوجوانوں نے اپنے سروں کا نظرانہ پیش کیا، انکے سامنے بھی دو راستے راہ گئے تھے خوف کا دائرہ یا جدوجہد کا راستہ۔

آج ھم جو پڑھ رہے ہیں یا جو لکھ رہے ہیں بلوچ اور بلوچستان کے بارے میں یہ سب اُنہی قربان سروں کی جدوجہد کا ثمر ہےجنہوں نے خوف کے دائرے کو خیر آباد کہہ کر جدو جہد کا راستہ اپنایا اور دائمی بلوچ سماج میں زندہ رہ گئے۔

اکیسوی صدی جو جدیدیت کی معراج تک کے سفر کو عبور کر چکا ہے، جہاں ہر قوموں کی سماجی، سیاسی ، اور معاشی نظام اُنکےاپنے ملکی و قومی اجتماعی مفادات کے مطابق بنائے گئے ہیں اور اُن مفادات کو حاصل کرنے کے لئے مضبوظ حکمت عملی کےتحت شکل دیکر منظم کیا جارہا ہے۔

اس صورت میں آج کے بلوچ سیاسی کیڈرز ، اسٹوڈنٹس ، قومی سیاسی تنظیمیں، دانشور، صحافی، ڈاکٹرز ، ٹیچرز ، کسان، مزدور، دوکاندار، ادیب ، رائٹر ان سب کو اپنی قومی زمہداریوں کا شعوری احساس ہونا چاہیے کہ اُنکے قومی اجتماعی سالمیت اور مستقبل آ یاخوف کے دائرے میں وابستہ ہے یا جدوجہد میں۔

ان سب کے با وجود زندگی بلوچ سرزمین پر رواں دواں ہے اس امید پہ کے ایک دن ایسے نوجوانوں کا ظہور ہوگا جو انہی نوجوان جیسے تمام خوف کے دائروں کو روند کر ایک بلوچ سماج کو دوبارہ اور موجودہ دور کے مطابق بہترین حکمت عملی کے تحت بحالکرینگے جہاں نئی صبح مصیبتوں کے بجائے امن ،روزگار ، صحت ، تعلیم، انصاف، ایماندری، سکون، سچائی کی نوید ہوگی، جہان ھرمکتبہ فکر کو سماجی آزادی ہوگی، ہر مذاہب کے لوگوں کا احترام ہوگا ، رنگ نسل سے بالاتر ایک سماج کا قیام ممکن ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں