بلوچ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج، شیعہ رہنماء مقصود احمد کی اظہار یکجہتی

114

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4316 دن مکمل ہوگئے۔ شیعہ رہنماء مقصود احمد ڈومکی نے کیمپ آکر لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

مقصود احمد ڈومکی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، پاکستان کے اندر قانون اور آئین ہے۔ یہ کوئی جنگل نہیں ہے جو قانون سے ماوراء ہو۔ اگر ریاستی ادارے خود آئین و قانون کو پامال کرینگے، اپنے عدالتوں کا بھرم تھوڑینگے پھر ایک عام انسان کیسے ان عدالتوں پر اعتماد کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اگر کسی نے جرم کیا ہے تو ریاست کے پاس قانون اور ادارے موجود ہیں، ان کو عدالتوں میں لیجاکر اس کا جرم ثابت کیا جائے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ جب تک کسی کو مجاز عدالت کسی پر ثابت نہیں کی جاتی ہے تب تک اسے کسی صورت مجرم نہیں سمجھا جاتا ہے۔

اس موقع پر  ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچ خواتین کی تاریخی تناظر کو اجاگر کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔ سولہویں صدی سے لیکر اکیسویں صدی تک خواتین کا کردار کیا رہا ہے اسے اجاگر کرنے کی ابتدائی کوشش ہی ہوئی جو ناکافی ثابت ہوئیں وہی سطحی اور لفاظی جو قاری کو نسائی کردار سے مکمل آشنائی فراہم کرنے سے عاری ہے، مہناز ہو یا حانی یا بانڑی ہو یا بی بی بیو گراناز ہو یا چھگلی، سیمک ہو یا گل بی بی فرزانہ ہو یا ماہ رنگ یا شکر بی بی یا بانک کریمہ یہ وہ کردار ہیں اگر ان کی داستانیں بلوچستان کی تہذیبی خمیر سے نکالی جائے تو شاید ہی اس میں کوئی جان باقی رہ پائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کردار حقوق کی جنگ میں پیش قدمی کرتی روایتی بندھنوں سے بغاوت کا علم بلند کرتی پیکر حریت بنتی بہادری، جانثاری دکھاتی مثبت روایتوں کی پاسداری کرتی سفارتکاری کے فرائض سے انجام دیتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اکیسویں صدی دنیا کے قوموں اور ملکوں سے تقاضا کرتی ہے کہ ترقی پسند سماج کی بنیاد کو مضبوطی اور دائمی ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عورت کی عظمت کو پہنچان کر اسے ہم پلہ کھڑا کرے۔