بحریہ ٹاون انتظامیہ کا مقامی آبادی پر دھاوا قبضہ گیریت اور کالونیل پالیسیوں کا تسلسل ہے۔مرکزی ترجمان بی این ایم

66

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے بحریہ ٹاون انتظامیہ، سندھ حکومت، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سندھ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سندھ بورڈ آف ریونیو کی ملی بھگت اور طاقت کے زور پر کراچی کے قدیم آبادیوں پر دھاوا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل کالونیل اور قبضہ گیر پالیسیوں کی انتہا اور تسلسل ہے۔

سپر ہائی وے سے متصل یہ علاقے بلوچ اور سندھی اقوام کی قدیم زمینیں ہیں جنہیں بحریہ ٹاون انتظامیہ قبضہ گیر طاقتوں اور سندھ حکومت کے قانونی ادارے طاقت کے ذریعے قبضہ کرکے مقامی آبادی کو بے دخل کررہی ہیں۔

ملیر اور کاٹھور کے یہ علاقے گزشتہ کئی صدی سے آباد ہیں۔ اس بات کا ثبوت سندھ حکومت خود اپنی تفویض کردہ مالکانہ حقوق کے اسناد کے ذریعے دے چکی ہے، مگر اب طاقت اور دھمکی کے ذریعے انہی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔

مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاون انتظامیہ زمینوں پر قبضے کے لئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت متعدد قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔ قابض ریاست کی ملی بھگت سے وہ مقامی آبادی پر مظالم ڈھارہی ہیں اور ان پر بے بنیاد الزامات کو جواز بنا کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔

الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا جو کراچی میں ایک معمولی خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرتی ہیں لیکن بحریہ ٹاون کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے سامنے اپنے چپ سادھ لی ہے جو اپنے پیشے سے غداری کے مترادف ہے۔

مرکزی ترجمان نے مزید کہا حال ہی میں نور محمد گبول گوٹھ اور داد کریم بلوچ کی زمینوں پر پولیس اور بحریہ ٹاون کے جنرل عامر کی سربراہی میں دھاوا پہلا واقعہ نہیں بلکہ متعدد دفعہ مختلف گوٹھوں پر پولیس اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے دھاوا بول کر مقامی افراد کو زدوکوب کیا ہے۔

گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں علی محمد گبول گوٹھ پر پولیس نے دھاوا بول کر پانچ افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ انیس مارچ دو ہزار اکیس کو جمعہ موریو گوٹھ کو مسمار کیا گیا۔ اس کے خلاف مزاحمت کی صورت میں جعلی ایف آئی آر اور دھونس دھمکی کا سہارا لیا گیا۔

مرکزی ترجمان نے کہا بحریہ ٹاون انتظامیہ اور سندھ حکومت کے ظلم و ستم پر کہا کہ ظلم کو روکنے کا راستہ مزاحمت میں پنہاں ہے۔ مزاحمت کے ذریعے ہی ہم اپنے آبائی زمینوں کو محفوظ بناسکتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی زمینوں اور سرزمین سے بیدخل کرکے ایک ڈیموگرافک تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ مزاحمت کے سوا کوئی اور طریقہ ہمیں اقلیت میں تبدیل ہونے سے نہیں بچا سکتا۔

بی این ایم کے ترجمان نے کہا پیپلز پارٹی،نام نہادبلوچ قوم پرست اور سندھی کش پارٹیاں ہمارے ہمدرد نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہمدرد ہیں جو انکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر بلوچ اور سندھی قوم کو غلامی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ کسی کی جھوٹی تسلیوں میں آنے کے بجائے بلوچ اورسندھیوں کو ہمیں اس عمل کے خلاف بھرپورمزاحمت کرنا ہے۔