کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری

51

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 4271 دن مکمل ہوگئے۔ بی ایس او پجار کے چیئرمین زبیر بلوچ اور کابینہ نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

لاپتہ سیف اللہ رودینی کی ہمشیرہ اور بھائی، لاپتہ لیویز اہلکار عبدالغنی کے والدین نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ ظالم کے ظلم نے جہاں حدیں پار کی ہے وہاں مظلوم و محکم کے اکثریتی آبادی نے بغاوت و مزاحمت کرکے جابر کو شست فاش دے کر معاشرے میں پرامن جدوجہد برپا کرکے نظام ظلمت کا خاتمہ کیا ہے۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ فتح ہمیشنہ مظلوم و محکوم عوام کا مقتدر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ظلم کی داستان رقم کی جارہی ہے، ایک ہفتے کے دوران دس سے زائد بلوچوں کو لاپتہ کیا گیا ہے جن میں سوراب سے میرے چار رشتہ دار نوجوان شامل ہیں جبکہ تمپ، اور کاہان سے چار افراد، اسی طرح پنجگور کے علاقے گچک سے لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج بلوچستان کے طول و عرض میں فوجی آپریشن کررہی ہے، گچک، تربت، تمپ، کاہان اور دیگر علاقے فوجی جارحیت کی زد میں ہیں۔ آج کاہان میں دو افراد کو قتل کرنے سمیت ایک شخص کو زخمی حالت میں لاپتہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔ عالمی اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔