کوئٹہ: لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری، زاکر مجید بلوچ کی والدہ کی شرکت

90

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4279 دن مکمل ہوگئے۔ بلیدہ سے سیاسی و سماجی کارکنان اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

بی ایس او کے لاپتہ طالب علم رہنماء زاکر مجید بلوچ کی والدہ نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

زاکر مجید بلوچ کے والدہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے کوئی جرم نہیں کیا اس کو ایک دہائی کے زائد عرصے سے صرف اس لیے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا کہ وہ طلباء سیاست سے منسلک تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست کوئی جرم نہیں اور ہم بارہا کہتے رہے ہیں کہ زاکر، زائد کرد بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد پر اگر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے لیکن یہاں ادارے خود اپنے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ میرے بھتیجوں کو اغواء کرنے میں کس کا ہاتھ ہے ان کے نام وقت آنے پر سامنے لاوں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کو بند کرنے اور بلوچ پرامن جہد کرنے والوں سے مذاکرات کرنے کی باتیں پاکستانی اداروں کیلئے درد سر نہیں ہے کیونکہ اسٹبلشمنٹ نہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرے گی اور نہ ہی لاشوں کا گرانا بند ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اب ان کیلئے تشدد بلوچ پرامن جدوجہد کو ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ لاشیں زیادہ گرے گی، لوگ مزید لاپتہ ہونگے، فوجی آپریشنوں میں مزید تیزی آئے گی۔ بلوچ قوم کو زیردست رکھنے اور بلوچستان کے وسائل لوٹنے کیلئے ہر طریقہ کار استعمال کیا جارہا ہے۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے بلوچ معاشرے میں ایک خوف و دہشت کی فضاء پھیلی ہوئی ہے اس پر ستم یہ کہ لاپتہ افراد کے متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف حراساں کیا جارہا ہے بلکہ انہیں مختلف ذرائع سے دھمکیاں بھی جاتی رہی ہے ۔ ان غمزدہ خاندانوں پر ایک طرح سے دہرا عذاب نازل کیا گیا ہے۔