کوئٹہ: ذاکر مجید بلوچ کے عدم بازیابی کیخلاف احتجاج ہوگا، والدہ کی احتجاج میں شرکت کی اپیل

200

ذاکر مجید بلوچ کے اہلخانہ نے اپنے جاری کیے گئے بیان میں طالب علم رہنماء ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو بارہ سال مکمل ہونے پر کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصے سے جبری طور پر لاپتہ ذاکر مجید کو منظر عام پر نہ لانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس غیر انسانی عمل کے خلاف 13 اپریل کو کوئٹہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ذاکر مجید بلوچ ایک طلباء رہنماء اور پر امن سیاسی کارکن تھے جنہیں آٹھ جون کو مستونگ پڑنگ آباد سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ذاکر مجید کی جبری گمشدگی کو 12 سال کا دورانیہ پورا ہونے کو ہے لیکن تاحال خاندان کو اُن کے سلامتی کی کوئی خبر نہیں ہے۔ گذشتہ بارہ سال سے خاندان کے تمام افراد ایک کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ذاکر کی بوڑھی والدہ گذشتہ بارہ سال سے کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹے کی بازیابی کےلیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذاکر مجید بلوچ کی بازیابی کے لیے اُن کی بہن فرزانہ مجید نے کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا اور عالمی انسان حقوق کے اداروں سمیت پاکستانی قانون کے تمام دروازوں کو کھٹکٹایا لیکن کسی قسم کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اُن کے عدم بازیابی کے خلاف خاندان نے مختلف احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا اور انسانی حقوق کے اداروں سے ذاکر مجید کی بازیابی کی اپیل کی۔

ذاکر مجید کی والدہ گذشتہ بارہ سال سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں بیٹھی ہوئی ہیں اور مقتدر قوتوں سے بیٹے کی بازیابی کی درخواست کر رہی ہیں۔ عالمی اور ملکی اداروں کی جانب سے کسی قسم کی شنوائی نہ ہونے پر انہیں مجبورا دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اسلام آباد میں ڈی چوک کے مقام پر دھرنا دینا پڑا جسے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد موخر کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو بارہ سال کا طویل دورانیہ مکمل ہوچکا ہے۔ ذاکر مجید بلوچ کی خاندان اُن کے عدم بازیابی کی وجہ سے ایک کرب سے گزر رہے ہیں۔ اُن کی طویل جبری گمشدگی کے باوجود انہیں منظر عام پر نہ لانا ایک غیر انسانی عمل ہے اور اِس غیر انسانی عمل کے خلاف ذاکر مجید کی خاندان کے جانب سے تیرہ اپریل بروز منگل کوئٹہ پریس کلب پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ تمام انسان دوست اور قوم دوست افراد سے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاکر مجید بلوچ کی والدہ کی اپیل پر کل مظاہرہ ہوگا جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھر پور شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔