موجودہ صورتحال میں اتحاد و ہم آہنگی کے بغیر جدوجہد ممکن نہیں ہے – بی ایس او

48

بی ایس او کا دو دن سے جاری سینٹرل کمیٹی اجلاس اختتام پزیر، طلباء سیاست پر قدغن لگا کر غیرسیاسی رویوں کو فروغ دی جارہی ہے،موجودہ صورتحال میں اتحاد و ہم آہنگی کے بغیر جدوجہد ممکن نہیں ہے – چئیرمین بی ایس او جہانگیرمنظور

بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کا پہلا تعارفی اجلاس بی ایس او کے مرکزی سیکریٹریٹ بمقام شال منعقد ہوا۔ دو روزہ سینٹرل کمیٹی اجلاس میں ملکی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال، بلوچستان کے سیاسی و تعلیمی مسائل، تنظیمی امور اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سیرحاصل گفتگو کی گئی۔

بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت مرکزی چئیرمین جہانگیر منظور بلوچ نے کی جبکہ سیکریٹری جنرل عظیم بلوچ نے کاروائی چلائی۔ اجلاس کا آغاز شہدائے بلوچستان کے یاد میں دومنٹ کی خاموشی سے ہوئی۔ تعارفی نشست کے بعد اجلاس کے ایجنڈے زیربحث رہیں۔

چئیرمین بی ایس او جہانگیرمنظور بلوچ نے سینٹرل کمیٹی اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکن کو سب سے پہلے اپنے اندر کی انا کو شکست دینا ہوگا، ہمیں تنظیم اور اس قوم سے مخلص ہونا ہے۔ غیرسیاسی رویوں کا مقابلہ برداشت اور سیاسی حکمت عملی سے کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی تنظیم کے کارکن کیلئے وقت کی پابندی ضروری ہے۔ سیاست میں عدم برداشت، جذباتی پن اور غیرسنجیدہ فیصلے اداروں کیلئے نقصان دہ ہیں۔ سیاسی سرکلوں کے ذریعے نوجوانوں میں شعور کو پروان چھڑایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں طلباء کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو غیرسیاسی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اکیڈمک مسائل کے ساتھ بلوچ سماج میں ہونے والے سیاسی تبدیلوں اور ہمیں تقسیم کرنے کے سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کے ممبران بلوچستان کے ہرکونے میں بی ایس او کا پیغام پہنچا کر نوجوانوں کی سیاسی تربیت کریں۔ موجودہ صورتحال میں اتحاد و ہم آہنگی کے بغیر جدوجہد ممکن نہیں ہے، بی ایس او نے ہمیشہ غیرسیاسی رویوں کوختم کرنے اور طلباء میں سیاسی سوچ کی بیداری کیلئے جدوجہد کی ہے۔

اراکین نے بلوچستان کے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ عوامی رائے اور جمہوری آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے ایک طرف جہاں بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف سیاسی فضاء کو کمزور کرنے کیلئے مختلف حربے آزمائے گئے ہیں۔

اراکین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی سیاسی حکمت کے تحت بلوچستان کو شمال و جنوب کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے، اس تقسیم درتقسیم کے پالیسی کے خلاف بی ایس او کا روز اول سے واضح ایجنڈہ رہا ہے ہم بلوچ وطن کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ 2018 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں سلیکٹڈ اور پیراشوٹرز جیسے سیاسی ٹرم متعارف ہوئے ہیں مگر بلوچستان میں ہمیشہ اسطرح کے حکمت عملیوں کے تحت عوامی رائے کے برخلاف سلیکٹڈ لوگوں کو ایوانوں پر بٹھایا گیا ہے۔انہی غیرسیاسی لوگوں کی وجہ سے بلوچستان میں مسائل روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ طلباء سیاست پر قدغن لگا کر غیرسیاسی رویوں کو فروغ دی جارہی ہے۔

تعلیمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اراکین نے کہا کہ جامعات و تعلیمی اداروں کو زبوں حالی کا شکار بنا دیا گیا ہے، آئے روز طلبہء کے احتجاجوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی سمیت صوبے کے دوسرے جامعات مالی بحران کا شکار ہیں، فیسوں کے نام طلباء کو حراساں کیا جارہا ہے جبکہ ایڈمیشن کوٹے پر سفارشی و من پسند افراد کو ترجیح دیا جارہا ہے، یونیورسٹیاں تعلیم و تربیت اور ریسرچ کے بجائے طالبعلموں سے پیسہ بٹور کر کاروباری ادارے بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شلٹرلس اسکولوں کی کثیر تعداد ہے جبکہ کئی علاقوں میں پرائمری اسکولز غیرفعال ہیں۔ صوبے میں گرلز ایجوکیشن کے حوالے سے حکمت عملی صفر ہے جسکی وجہ سے بلوچستان کی اکثر بچیاں حصول تعلیم سے محروم ہیں اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو چھاؤنیوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے ایجنڈے پر گفتگو کرتے ہوئے اراکین سینٹرل کمیٹی نے تین مہینے کی تنظیمی پالیسی دی۔ بی ایس او میں تنظیم سازی، تمام زونوں میں ہفتہ وار اسٹڈی سرکلز، بلوچستان کے تعلیمی مسائل پر حکمت عملی سمیت دیگر اہم فیصلے کیے گئے۔

تنظیمی آرگن سگار کیلئے لٹریری کمیٹی بنائی گئی جو سگار کی ترتیب و تحریر کرکے اسے پبلش کرانے کا ذمہ دار ہوگا۔ تعلیمی مسائل پر چارٹر آف ڈیمانڈ بنا کر بلوچستان میں پملفٹ تقسیم کیے جائینگے جبکہ طالبعلموں میں ادبی و سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے تنظیمی لٹریچر کو فعال کیا جائے گا۔

سینٹرل کمیٹی نے بلوچستان کے سیاسی، سماجی، ادبی اور تعلیمی مسائل پر بہت جلد کانفرنس منعقد کرنے کی منظوری دے دی جہاں بلوچستان کے سیاسی پارٹیوں کے قائدین، طلباء تنظیموں، مختلف ادبی اکیڈمیوں کے نمائندگان، وکلاء برادری سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو مدعو کیا جائے گا۔ مادری زبانوں کی ترقی و ترویج اور انہیں ذریعہ تعلیم بنانے کیلئے تنظیمی سطح پر تحریک چلائی جائیگی اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا جبکہ بلوچستان میں کتب بینی و لائبریری کلچر کی دیمروی کیلئے ”علم نا چراغِ“ کی نام سے تحریک چلائی جائیگی۔ تنظیم بلوچستان کے تعلیمی و سیاسی مسائل پر دوسرے طلباء تنظیموں کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کو ہی منزل سمجھتی ہے اوراس امر کیلئے اٹھنے والی ہرسنجیدہ اقدام کی خیرمقدم کرے گی۔ آخر میں سینٹرل کابینہ اور مرکزی اراکین پر مشتمل دورے کمیٹیاں بنائے گئے جو تمام زونوں کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کرینگے۔