محنت کشوں کی حالت زار اور یوم تجدید عہد – اکبر عاجز

58

محنت کشوں کی حالت زار اور یوم تجدید عہد

تحریر: اکبر عاجز

دی بلوچستان پوسٹ

یکم مئی تاریخ سماج میں طبقات سے جڑی کلچر ،رشتے ،شجاعت، نظم، عدل و انصاف پر مبنی ایک ایسی تحریک کی یاد دلاتی ہے جو مظلوموں ، محکوموں کے لئے انسانیت کے درس میں لہو گرمانے اور ہر قربانی دینے کی پاسداری کا نام ہے نگر نگر گلی گلی ملک در ملک احتجاج کی لہر جمہوری نماء آمریت کے موجودہ دور بربریت سے ایک نئے عہد کی طرف طوفانی پیش قدمی ارتقائے سماج کی طرح رواں دواں ہے جو تندو تیز آندھی کی طرح سب کچھ لپیٹ دینے کی روش وقت کی سوئی سے بھی آگے نکلنے کی جستجو میں سوچوں سے حقیقی عکس بن کر نمایاں ہو چلی ہے سرمایہ دارانہ نظام کی جدت اپنے انتہاء کو پہنچ کر ارتقائے سماج کے زینے چڑھنے میں اجارادارانہ جبر کے گلے کا طوق بن چکی ہے۔

برطانوی راج جب برصغیر میں نئے صہب کی بنیادیں قبضہ گیری کی شکل میں طلوع آفتاب کی تپش بن کر جھلسنے لگی تو کسی آتش فشاں سے بھی تیز لاوے اگلنے لگی جہاں حق و سچائی کے دیئے کو روشن کرتے ہوئے لہو کے بہتے دریا بننے لگے وہاں سامراجی عزائم بھی اپنی پوری طاقت کے سفاکانہ زور آزمائی جھوٹ و فریب کے مکارانہ چال بننے کی انتہاء میں مگن ہوئے اور انسانی تاریخ میں تقسیم در تقسیم کے ایک نئی اصطلاح کے موجد بن گئے جبکہ مزاحمت آزادی ایک خطے سے دوسرے خطے کی بالکونی سے ہوتے ہوئے سامراجی عزائم کے محلات پر دستک دینے لگی یوں تاریخ انسانی میں ظلم کی داستان لازوال قربانیوں کے ساتھ راقم طراز ہوتے ہوئے مختلف نشیب و فراز کے اسباق کا حصہ بن گئے بالآخر لاکھوں انسانی جانوں کو نگلتے ہوئے وجودی طور پر یہاں سے فرار ہوتے ہوتے اپنے سرمایہ دارانہ نظام کے مضبوط پنجے تو گاڑ کے چلے۔

جو بین الاقوامی حقوق مزدوروں کے تسلیم کیئے گئے ہیں وہ کسی حاکم وقت کی رحم دلی سے یا سرمایہ داروں کی سخاوت سے یوں پلیٹ میں رکھ کر خیراتی طور قطعی پیش نہیں کی گئی سرمائے کی ہوس جہاں مزدوروں سے دن رات کام لیا جاتا رہا ہے چودہ پندرہ گھنٹے مشقت لینا ڈیوٹی کے کوئی اوقات کار مقرر نہ تھے گویا مزدور انسان نہ تھے کام والے مشین تھے روز کی ضرویات اور بچوں کی خوراک پوری کرنے کی خاطر وہ پسینے پانی کی طرح بہاتے تھے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ وہ جیتے جاگتے انسان ہیں اور یہ جان گئے کہ ان مشینوں کو انکے زور بازو کے دم سے پیداواری صلاحیت اتنی جلا بخشتی ہے کہ جس سے سرمایہ دار تمام کے تمام منافع کا حق دار بنا بیٹھا ہے مزدور بہتے پسینے کے محنت کی اجرت سے بھی انتہائی کم معاوضے کی بولی پر بک چکی اور مہذبانہ انسانی طرز سلوک کے تمام حقوق سرمایہ دارانہ زر ہوس کی فطرت کی چکی میں پس چکے اور آئے روز ظلم کی انتہاء وحشیانہ انداز اپنائی جارہی تھی یہی وہ فکر آغاز تھی جو مسلسل بہتے جسم کے پانی سے سوچوں میں ایک لاوے کی طرح ابلتا رہا اور ایک محنت کش طبقے کی عکاسی میں رنگ بھرتا رہا جو بعد ازاں معاشرتی طبقاتی یکجہتی کی بنیاد بن کر زندہ انسانی حقوق کی تحریک کے سانچوں میں ڈھلتا رہا۔ مزدور اپنی محنت کے حاصل منزل کی جدوجہد میں منظم ہوتے رہے سرمایہ دارانہ جبر اپنی اصلیت کو بھیانک روپ میں ظاہر کرنے لگے اور آئے روز ظلم کی انتہاء مزدور تحریک کو کچلنے میں صرف کرنے لگے مٹھی بھر ہوس کے پجاری جو ریاستی امور کے بھی کرتا دھرتا رہے لاکھوں محنت کشوں کو انکے جائز انسانی حقوق دینے کو قطعی تیار نہ تھے تا وقت مزدوروں کے جسم سے بہتے پسینوں کو لہو سے سرخ آلود نہ کردیا شگاگو کے ان مزدوروں کی پر امن تحریک نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دیکر دنیا بھر کے محنت کشوں کو جہاں منظم ہوکر جدوجہد کی راہ دکھلائی وہاں ریاستی سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ کے بھیانک چہرے کو بھی بے نقاب کیا۔

حرص و ہوس میں بڑھتی عمارت جس خیال کو پروان چڑھا تی رہی ہے وہ انسانی سماج میں طبقاتی خلیج کی گہرائی کو مزید واضح کرتے چلی جارہی ہے سرمایہ دار جو زر کی قوت سے لاچارگی کا سب سے بڑا خریدار بنتا رہا ہے طبقاتی صف بندی میں خود کو اعلیٰ اور محنت کش طبقے کو اچھوت خیال کرتا رہا جو انسانی تہذیب کو پستی کے اس گہرائی میں دھکیلتا گیا جہاں انسانی آبادیوں کا استحصال جبر ایک قانونی حق بن چکا ہے جو سماج کے ارتقائی مراحل کے آگے نہ صرف رکاوٹ بنتا رہا بلکہ علم و سائنس انسانی سہولیات کے ہر اقدار کو منافع کی عوض میں قید کرتا ماحولیاتی تباہی، بیماری، بھوک و افلاس کی مصنوعی وجود کا پایہ تخت بن چکا ہے ہمیشہ نئی غلامانہ منڈی جو اسکی ضرورت بنتی رہی ہے سامراجی عزائم ایک طرف پروان چڑھتے چڑھتے انسانیت کو کچلتی رہی وہی سرمایہ دارانہ اجاراداری دریاؤں میں بہتے پانی کی طرح بنتے طوفانی لہروں کے ٹکرانے کا سبب بھی بنتی رہی ہیں ہوس کے اس لالچی طرز ماحول نے انسانی سماج کو بے احساس آرٹ میں پرو کر خود غرضانہ محدود تر سوچ میں جکڑ نے کی ہر سو کوششیں آج بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔

مملکت پاکستان میں اکثر سیاسی تحریکیں اقتدار اشرافیہ کے گرد گھوم گھوم کر اس قدر زنگ آلود ہوچکے ہیں کہ انکی مخالف در مخالف سمت برسائے تیروں میں سوائے ایکدوسرے کے سیاہ کرتوتوں کے پردے کو چاک کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ترقی کا ڈھنڈورا پیٹتے پیٹتے عوام پر احسانات کے اس قدر بوجھ لادتے کہ خود ہی زر و محلات کے حقدار بن گئے اور صرف ووٹ لینے کی حد تک عوامی حقوق کے سب سے بڑے ضامن ہونے والے اقتدار ملنے کے بعد کرپشن کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے دھوتے نہ معلوم ملکی وقار کی خاطر ہمیشہ محنت کش عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنالیتے ہیں کاروان پروٹوکول کی شان میں مدہوش رہنے والے شہنشہانہ خوابوں میں محو سحر ہوکر مظلومیت کے ڈھول پیٹتے پیٹتے احسانات سے عوام کے کانوں کے پردے پھٹ چکے ہیں جو ہمیشہ سامراجی طاقت کی جی حضوری میں ریت بن کر سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

ساحل و وسائل کی بے انتہاء خزانے سے مالا مال بد نصیب صوبہ بلوچستان کے سب سے بڑی صنعتی زون حب اور گڈانی میں محنت کشوں کی ناگفتہ صورتحال کسی جنگل میں رہنے والوں کے بے اصولوں سے مختلف ہرگز نہیں جہاں ہر انڈسٹری کے چاردیواری میں سرمایہ داران کی آشیرباد سے مینیجمنٹ نے گویا ایک الگ سے اپنی چاہت کے قوانین ترتیب دئیے ہو، جیسے وہ کسی فیکٹری کی حدود نہ ہوں ایک الگ ریاست بنی ہو اس جدید دور میں ایسی بد تہذیبی کے رواج شاہد سماج کے کسی اور شعبے میں نظر آئے محنت کشوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ان مظالم میں کچھ ایسی قوتوں کے چہرے بھی آشکار ہیں جو صبح و شام اس بد نصیب صوبے کے احساس محرومی مزدوروں کے حقوق کے بظاہر دعویدار ہیں لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ ایسی قوتیں اپنی انفرادی و گروہی مفادات میں سرمایہ داروں کے لئے ریاستی قوت کے بعد سب سے بڑے سہولت کار بنے ہوئے ہیں جو سب سے پہلے محنت کشوں کو لسانی علاقائی سطح پر تقسیم در تقسیم کی کوشش کرتے ہیں اور مزدوروں کی ایک منظم تحریک میں اکثر و بیشتر روڑے اٹکاتے ایک تھرڈ پارٹی کا روپ دھار چکی ہیں جسے عرف عام میں کمیشن مافیا کہا جاتا ہے جن میں مزدوروں کے نام نہاد کروڑپتی خود ساختہ یونین رہنماؤں سے لیکر رجعتی عناصر تک مزدور حقوق کے نام پر استحصالی قوتوں کے خفیہ آلہ کار بن کر دوغلا کردار کو بخوبی نبھاتے جاتے ہیں۔

گڈانی شپ بریکنگ ہو حب انڈسٹریل ایریا یا انکے اردگرد بڑے میگا انڈسٹریز ہو ان میں کام کرنے والے محنت کشوں کا کوئی پرسان حال نہیں بظاہر دستور بھی ہیں ادارے بھی موجود ہیں اور ہمارا پیارا ملک اقوام متحدہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے عالمی رائیٹس آف لیبر کی مکمل پاسداری کا وعدہ گو ہے لیبرز کے فلاح و بہبود اور حقوق کی دفاع میں مختلف اداروں سمیت مزدوروں کا قاضی وقت بھی انصاف کے علم کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں، بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں احساس محرومی کی طرح یہاں کے مزدوروں کی حالت زار انتہائی بدتر ہیں نوے فیصد سے زائد ورکر جو کئی سالوں سے کام کررہے ہیں ایک لمحے کی بھی تحفظ روزگار کے حق سے محروم ہیں کوئی تقررنامہ نہیں کوئی اٹینڈی کارڈ نہیں کوئی ریکارڈ نہیں تمام لیبر ادارے گویا اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کاغذی خط و کتابت تک ڈیوٹی کے جواز کو برقرار رکھے ہوئے ہیں محنت کشوں کی ناگفتہ بہ حالت انکے بنیادی حقوق سے کوسوں میل دور ہوس کے پجاری محنت کشوں کی زندگیوں کو نگلتے جارہے ہیں لیکن افسوس مزدور کے تڑپتے جسم اور چیختی روح بے یارو مددگار چند ہزار ورثاء کے حوالے کرکے انصاف کے شان پر نصیب کی مہر ثبت کرلی جاتی ہے بس اچانک خدانخواستہ کسی حادثے میں کوئی اجتماعی واقعہ رو نماء ہوجائے تو دو چار دن تک خبروں کی زینت بنے رہنے سے کچھ بھاگ دوڑ کے بعد سکوت کا عالم پھر چھا جاتا ہے۔

ای او بی اے آئی لیبر ویلفیئر سوشل لیبرز اداروں کی بے بسی اپنے کانچوں تک محدود ہوچکی ہے وفاق ہو یا اس صوبے کے منتخب نمائندے چاہے بائیں بازو کہلوانے والے نیشلسٹ اسمبلی ممبران تقریریں وعدے تو سبھی کرینگے لیکن عملاً مزدوروں کے حقوق کے لئے کوئی قانون سازی شفاف پالیسیاں بنانے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں یکم مئی محنت کشوں کا یوم تجدید عہد ہے کہ شگاگو میں دی گئی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا طلبہ مزدور کسان پھر سے منظم ہونگے اور یکمشت ہوکر اپنے بنیادی انسانی حقوق اور مکمل مطالبات کی بحالی کے لئے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک ملک گیر عام ہڑتال کی جانب بڑھے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔