ماشکیل میں استعماروں کا انوکھا کھیل – عاجز بلوچ

118

ماشکیل میں استعماروں کا انوکھا کھیل

تحریر: عاجز بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

نوآبادکار ہمیشہ ساحل و وسائل پر قبضے کے بعد محکوموں کو معاشی، سماجی اور نفسیاتی غلام بنا دیتے ہیں، ان کے شعور کو کند کردیتے ہیں تاکہ مظلوم اپنے وجودی صورتحال کے وجوہات سے لاعلم و بے خبر ہوکر ان کے مضبوط شکنجوں میں رہیں۔

تعلیم و علم، منطق اور غور و فکر سے محروم علاقہ ماشکیل میں مظلوموں کے نفسیات پر استعماروں کا مضبوط تسلط ہے۔ انہیں اس حد تک زہنی پستی میں رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے تاریخ، ثقافت، اقدار و روایات سے بھی لاعلم ہیں۔ شعور سے بے بہرہ یہ مظلوم حاکم کے ہر حکم کے تابع ہیں۔ بقول پالو فرائرے یہ مظلوموں کا قصور بھی نہیں، یہ نوآبادکار ہیں جو مظلوموں کے انسانیت کو چھین کر انہیں انسانی خصوصیات سے محروم کر دیتے ہیں۔

سیاسی شعور سے محروم اس علاقے کے ستم رسیدہ اور افلاس زدہ مظلوم نو آبادکاروں کے مضبوط گرفت میں ہے, گذشتہ دنوں ایف سی کیمپ ماشکیل میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے تمام زندہ ضمیر لوگ شرمسار ہوئے گو کہ یہ اپنے نوعیت کا پہلا واقعہ تھا مگر یہ بھی 75 سالہ کولونیل داستانوں کی ایک کڑی ہے.

ہوا یوں کہ ان فرعون مزاج غاصبوں نے اپنے ایک سرغنہ کیلئے الوداعی پروگرام رکھا جس سے ایک مرد (ایف سی اہلکار) کو بلوچی زنانہ لباس پہنا کر عورت نما پیش کیا گیا اور بطور رقاص محفل کا زینت بنایا گیا. یہ واقعہ اُس رات ہوا جب ماشکیل کے تین نوجوان دالبندین میں ایک المناک روڑ ایکسیڈنٹ کا شکار ہوئے اور ان کی لاشیں ماشکیل پہنچائی گئیں تھیں۔ ایک طرف پورا علاقہ اس غم میں سوگوار تھا، دوسری جانب علاقہ کے سامراج نواز، درباری وسرکاری مزاج ضمیر فروش دلال خوشنودی، عنایت اور بخششوں کے اصولوں کیلئے ان فرعونوں کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔

یہ ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک دانستہ منصوبہ تھا۔ اس افسوسناک اور اخلاق سے گری حرکت سے قبضہ گیروں کا مقصد بلوچ تہذیب پر حملہ ہے تاکہ بلوچ تہذیب میں محفوظ عورت تک ان کی رسائی ہوسکیں۔ بقول فرانز فینن ” استعمار ہمیشہ مقامی لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرکے عورتوں کو آلہ کار بناتے ہیں اور عورت کو شمعِ محفل بنا کر وہ مقامی تہذیب کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں”۔

ہم نے اپنے اقدار و روایات میں تو یہ دیکھا ہے کہ ہماری ماں بہنیں کپڑوں کو دھلائی کرکے لٹکانے کے بعد دوسرے چادر سے ڈھانپ لیتے ہی تاکہ کسی غیر کا نظر نہ لگے۔ مگر چند رہاستی منظور نظر دلالوں نے اپنے ضمیر کا جنازہ پڑھ کر کرنل بادشاہ کو اپنے ماں بہنوں کے کپڑے پیش کئے اور محفل میں بھی ان کے ساتھ شریک رہے۔

آج اگر اہلِ علم و دانش اور صاحب قلم حضرات نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر چشم پوشی کی اور اس حرکت کے خلاف کھل کر قلم کشائی نہیں کی تو کل یہ ضمیر فروش دلال کرنل بادشاہ کے وہ فرمائشیں بھی پوری کریں گے جن کے لئے انہیں یہ حربہ استعمال کرنا پڑا۔

اِس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل بھی اسی کیمپ میں ایک اور ایسا بے شرمانہ واقعہ ہوا. وہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے برٹش استعمار کی یاد تازہ کی تھی. اس واقعہ میں قبضہ گیروں کے ایک کرنل کے الوداعی پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں فرعون مزاج کرنل نے اعلان کیا کہ علاقے کے میر و معتبرین کرنل بادشاہ کی گاڑی کو آفس سے کیمپ تک رسی سے کیھنج کر لے جائیں گے. حالیہ واقعہ کی طرح اس دن بھی ہجوم تھا. مختلف نوازشات کے عویض معتبرین نے رسی کھینچنے میں بھر پور طاقت آزمائی کی اور کرنل بادشاہ کی گاڑی کو ریتیلی روڑ سے کیمپ تک پہنچائی گئی۔

حقیقت اٹل ہے۔ مورخ یہ ضرور لکھے گا کہ ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ تھیں، لاشوں کا ڈھیر تھا، بلوچوں کا لاپتہ ہونا روز کا معمول تھا، ماوں اور بہنوں کی آنکھیں آنسوؤں سے اشکبار تھیں۔ آبادکاروں کے ہاتھ بلوچ کے خون سے رنگین تھے اور بلوچ و بلوچستان سے بے خبر پسماندہ ماشکیل کے میر و معتبرین بھی ان کے ہاتھوں سے ہاتھ ملا کر اپنے ہاتھوں کو رنگین کر رہے تھے۔

کارل مارکس کہتے ہیں “ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم استبدادی صورتحال کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے اسے عوام کے شعور کا حصہ بنا کر مزید حقیقی بنائیں اور اس صورتحال میں مضمر نفرت اور ذلت کو مزید نفرت اور ذلت آمیز بنائیں۔

ہم تمام بلوچ دوست، غیرت مند، اہلِ علم و دانش اور سوشل ایکٹوسٹ حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ ماشکیل میں سامراج قوتوں کی ایسی داستانوں کے خلاف قلم کشائی کرکے سامراجی مقاصد کو آشکار کریں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔