رمضان المبارک میں پیاروں کو بازیاب کرکے انصاف فراہم کیا جائے – خضدار سے لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین

86
File Photo

خضدار سے 27 مارچ 2009 کو لاپتہ کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ، سعد اللہ بلوچ، عطاء اللہ بلوچ اور منیر میروانی ایڈووکیٹ کی ورثاء نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت اور رحمتوں بھرے مہینہ شروع ہورہا ہے، رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے جو انسانیت، انصاف اور درگزر کا درس دیتی ہے لہٰذا انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے بناء پر تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظیم ریاست مدینہ بنانے کا جو خواب دیکھ رہے ہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کا حکم جاری کرکے انصاف پر مبنی ریاست مدینہ کی سنگ بنیاد رکھیں کیونکہ عدل، انصاف اور انسانیت کے بغیر ریاست مدینہ کا قیام ناممکن ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے گذشتہ کئی سالوں سے ہمارے لخت جگر لاپتہ ہے ان کے متعلق ہمیں کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے اگر وہ زندہ ہے اور ان پر کیسز ہے تو انہیں بازیاب کرکے عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اگر وہ بے گناہ ہے تو انہیں رہا کیا جائے اور اتنے سال ہم جس درد اور تکلیفوں کا سامنا کیا ہے ان کا ازالہ کیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں انصاف کے کہٹرے میں میں لاکر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ تصور تک نہیں کیا جاسکتا کہ کسی انسان کو جبری طور پر لاپتہ کرکے کئی سالوں تک اذیت کا نشانہ بنایا جائے اور ایک فرد کیساتھ پورا ایک خاندان جڑا ہوا ہوتا ہے اس کیساتھ خاندان بھی ہر پل اذیت سے گزرتا ہے اس اجتماعی سزا اور اذیتوں کا سلسلہ بند کیا جائے اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو عدالت میں پیش کرکے صفائی کا موقع فراہم کیا جائے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیمیں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس طویل انتظار اور درد و کرب سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرکے لاپتہ افراد کے بازیابی کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔