خواجہ سراؤں کی زندگی اور ہمارا تنگ نظر معاشرہ – لطیف لعل

100

خواجہ سراؤں کی زندگی اور ہمارا تنگ نظر معاشرہ

تحریر: لطیف لعل

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ دن پہلے کی بات ہے جب میں شام کو اپنے ایک دوست کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھ کر چائے پی رہا تھا، ہوٹل میں رش کش زیادہ تھی، ہمارے قریبی ٹیبل کے سامنے بیٹھے ہوئے دو لوگ بظاہر پڑھے لکھے لگ رہے تھے، یوں ایک خواجہ سرا آئی اور لوگوں سے بھیک مانگنے لگی، اس بات کاتجربہ مجھے پہلے ہی رہا ہے کہ بھیک مانگتے خواجہ سرا اکثر و بیشتر لوگوں کی تضحیک اور مذاق کا نشانہ بنتے نظر آتے ہیں۔لیکن اس دن ٹیبل کے سامنے بیٹھے ہوئے ایک بندے کی من گھڑت باتیں سن کر مجھے اس تنگ نظر معاشرے کا حصّہ ہوتے ہوئے بہت شرمندگی محسوس ہوئی۔ جو خواجہ سرا کے وجود کے بارے میں سنے سنائے اور غیرمدلل باتیں کرتے ہوئے اپنے دوست سے کہنے لگا کہ ماضی میں ایک بزرگ ہوا کرتا تھا۔ جسکے پاس ایک نافرمان نوکر تھا، نافرمانی کی وجہ سے بزرگ نے انہیں بد دعا دی تھی جسکے بعد اس نافرمان نوکر سے خواجہ سرا پیدا ہوا۔ اور آج یہ وہی نسل ہے جو ناپرساں ہوکر بھیک مانگتے ہیں۔

اس شخص کی غیر مدلل اور من گھڑت کہانی کو سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا اور مجھے انتہائی غصّہ آیا لیکن بحیثیت ایک طالب علم کیا کرسکتا تھا۔ البتہ دل نے چاہا کہ ایک تحریر ضرور لکھوں اس بے حس معاشرے کی من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی کہانیوں پر۔

حالانکہ اس دور جدید میں میڈیکل سائنس نے جانداروں کی نشو ونما اور زندگی کے بارے میں سب چیز واضح کی ہیں کہ ایک جاندار کیسے پیدا ہوتاہے اور پھر انکی نشو ونما کیسے ہوتی ہے۔ جاندار کی بنیادی اکائی یعنی خلیہ کے اندر نیوکلیئس میں جنیاتی مادہ ڈی این اے میں پائی جانے والی جینز انسان کی ساری خصوصیات اور نشو ونما کو قابو کرتی ہے۔ جینز کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے سیل اور کروموسمز کو سمجھنا ضروری ہے۔

سیل: تمام زندہ چیزیں سیل سے بنے ہوئے ہیں سیل زندگی کی بنیادی جز ہے ہر سیل اتنا چھوٹا ہوتا ہے جو صرف مائیکرو اسکوپ سے نظر آتا ہے۔ سیل کی بہت سے اقسام ہیں عضویاتی سیل، خون اور جلد کی سیل ہوتے ہیں اور ہر سیل کے سنٹر کو نیوکلیس کہتے ہیں یہ کنٹرول سینٹر کا کام کرتا ہے یہ ساری جینیاتی معلومات کروموسمز کی شکل میں نیوکلیس میں محفوظ ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں اصل موضوع پر، مجموعی طور پر ہر انسان کے خلیے میں 46 کروموسومز پائے جاتے ہیں۔ 23 کروموسمز پر مشتمل دو جوڑے ہوتے ہیں جو ملکر 46 بنتے ہیں۔ ہر ایک جوڑے میں 22 کروموسومز رنگ، نسل اور دیگر خصوصیات کو ظاہر کرتی ہیں جبکہ 23 واں جوڑا پیدا ہونے والا بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔ جنکے اشکال انگریزی حرف x,y کہ شکل سے ملتے جلتے ہیں۔ جس میں عورت کے XX اور مرد کے پاس XY کروموسومز ہوتے ہیں X کروموسومز ماں کی طرف سے اور Y کروموسومز باپ کی طرف سے اولاد میں منتقل ہوتے ہیں۔ اگر باپ کی طرف سے Y کے بجائے X کروموسومز اولاد میں منتقل ہوجائیں تو XX یعنی لڑکی پیدا ہوجاتی ہے اور اگر Y منتقل ہو تو لڑکا پیدا ہوتا ہے۔

اگر فرٹیلائزیشن کے دوران کروموسومز میں کچھ عدم توازن پیدا ہو جائے تو بچے کی جنس اثر انداز ہوجاتا ہے۔ واضح رہے ماں کی طرف سے ہمیشہ X آتا ہے۔ جبکہ باپ کی طرف سے XY دونوں آجائیں تو ‘ XXY’ بن جاتا ہے جسے Klinefelter Syndrome کہا جاتا ہے۔ تو وہ ایبنارمل بچہ دنیا میں آتے ہی ماں، باپ ،بہن، بھائی اور اس غیرت مند معاشرے کے لئے گالی بن جاتی ہے۔

1942میں Klinefelter نے ایسی ہی ایک بیماری کی طرف نشاندہی کی تھی کہ کروموسومز کی تبدیلی کے وقت مردوں میں بعض اوقات ایک سے زائد کرومیٹین X منتقل ہو جاتی ہے جسکے نتیجے میں انسانی جسم میں 46 سے بڑھ کر 47 کرومیٹین بنتے ہیں اور نتیجتاً 23 واں بننے والا جوڑا XXY کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جس سے ایک ابنارمیلٹی پیدا ہوتی ہے جس کو سائنسی زبان میں 47، XXY اور عام فہم زبان میں Klinefelter Syndrom کہا جاتا ہے۔ غالباً اسی ایک زائد کروموسومز کی وجہ سے انگریزی میں اس صنف کو Transgender کہتے ہیں۔

دنیا کے اندر اکثر لوگوں کی حقوق کا چرچہ ہوتا رہتا ہے کہ مرد کو عورت کی نسبت زیادہ حقوق ملتی ہیں، جنکو برابر حقوق ملنا چاہیئے لیکن کبھی بھی اس تیسرے جینڈر خواجہ سراؤں کی حقوق کے بارے میں کسی نے بات نہیں کی ہے کہ انکو بنیادی حقوق ملنا چاہیئے جتنا کہ جینے کا حق ایک عام انسان کو حاصل ہے۔

یہ مظلوم طبقہ پیدا ہوتے ہی بلوغت اپنی جگہ زندگی کے پہلی ہی سانس میں ان سے نفرت کا آغاز شروع ہوتا۔ جنکو معاشرے کے بے حس لوگ انکے اپنے یعنی خواجہ سرا کے نام سے بہت کم پکارتے ہیں اور انہیں تضحیک آمیز ناموں سے زیادہ پکارا جاتا ہے انکا قصور صرف یہ ہے وہ مرد یا عورت کیوں پیدا نہیں ہوئے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم پیدائش کے دوران اپنے مرضی سے مرد پیدا ہوئے ہیں؟ ہر گز نہیں یہ حقیقیت کو جان کر بھی ہم اپنی سوچ بدل نہیں سکتے کہ خواجہ سرا کوئی نہ الگ مخلوق ہے اور نہ ہی کسی خاص طبقے یا خاندان یا مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی ہمارے طرح کے انسان ہیں اور کروموسومل ایبنارملٹی کی وجہ سے کسی بھی خاندان یا گھر میں پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ نہ کوئی اور مخلق ہے اور نہ ہی کسی بزرگ کی بد دعا سے ہے بکہ یہ ایک الگ جنس کی شکل میں پیدا ہوئے ہیں۔

بے حس اور عقل و شعور سے عاری معاشریں، آج تک خواجہ سراؤں پر طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں اور ان پر تشدد کرکے انہیں تنگ نظر ی سے دیکھتے ہیں اور انکے وجود پر بھی مختلف من گھڑت نظریے پیش کرتے ہیں حالانکہ میڈیکل سائنس نے یہ بات ثابت کیا ہے کہ کروموسومل ایبنارملٹی کی وجہ سے یہ کسی بھی خاندان میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کے انکی پیدائش پر انکے والدین تک بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور انہیں گھر سے بے دخل کرتے ہیں اور انکی پرورش خواجہ سراؤں کے گروہ کرتے ہیں۔ بعد میں انکو ناچنے اور دیگر ہنر سکھایا جاتا ہے۔ یوں ہی وہ شہروں اور بازاروں میں یا تو ناچنے کی صورت میں نظر آتے ہیں یا کسی دکان یا روڈ پر بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جنکو طرح طرح کے تشدد اور تضحیک جیسے غیر انسانی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مظلوم طبقے کیلئے نہ حکومت کوئی اقدام اٹھاتا ہے اور نہ ہی سماجی ادارے۔ سندھ گورنمنٹ نے خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے اسمبلی میں ایک بل پاس کروایا تھا لیکن آج تک اس بل پر عمل در آمد نہیں ہوا ہے۔

ہمیں چاہیئے کہ ہم ان کے حقوق کے لئے منظم انداز میں جدوجہد کریں اور ریاست کو بھی خواجہ سراؤں کی حقوق دلانے کیلئے اقدام اٹھانا چاہیئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔