خاموشی ایک لعنت ہے – جی آر مری بلوچ

110

خاموشی ایک لعنت ہے

تحریر: جی آر مری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

خاموشی کے مُختلف پہلو ہیں ویسے تو کہتے ہیں کہ خاموش رہنا عبادت ہے، ہمیشہ خاموش رہیں، اور خاموشی ہی میں بہتری ہے ہاں البتہ خاموشی عبادت ہے اس جگہ پر جہاں دلائل اور ثبوت کی کوئی اہمیت نہ ہو اور جہاں تمہاری باتوں کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ مگر یہاں میں کسی اور نقطہ نظر سے لکھ رہا ہوں۔ میرے نزدیک خاموشی ایک لعنت ہے۔

میں ایک ایسے خاموشی کی بات کررہا ہوں جو حقیقتاً ایک لعنت ہی ہے۔ میں اُس خاموشی کی بات کررہا ہوں جس میں اپنے حقوق کے بارے میں خاموش رہنا۔ ظُلم اور جبر کے خلاف خاموش رہنا۔ ناانصافی اور زیادتی کے خلاف خاموش رہنا۔ غلامی کے خلاف خاموش رہنا۔ اپنے عزت اور ننگ و ناموس کو تار تار ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی خاموش رہنا۔ ظالموں کے خلاف خاموش رہنا ایک لعنت ہی ہے۔

جس طرح ہنگامہ اور شور زندگی کی صحیح معنوں میں عکاسی نہیں کرتے تو اسی طرح سنّاٹا اور گوشہ نشینی بھی زندگی کے ترجمان نہیں بنتے۔ ان کے برعکس خاموشی زندگی کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔ جو لوگ سنّاٹے اور خاموشی میں فرق نہیں کر پاتے وہ خاموشی کی اہمیت نہیں جان سکتے۔

سنّاٹا بے روح اور بے آواز ہوتا ہے جبکہ خاموشی زندگی کی عکاس ہی نہیں، زندگی کو جنم بھی دیتی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ دل کی دھڑکن کا ہر بار ایک وقفے کے ساتھ خاموشی اختیار کرنا اور پھر خاموشی کے اسی وقفے سے اگلی دھڑکن کا جنم لینا زندگی کو جنم دینا نہیں تو اور کیا ہے! پھر خاموشی سنّاٹے کی طرح بے آواز بھی نہیں بلکہ خاموشی کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ جب مکمل خاموشی ہو، ہونٹ بھی خاموش ہوں تب دو دھڑکتے دلوں کی جو گفتگو ہوتی ہے اسے اہلِ دل بخوبی جانتے ہیں۔

 آواز کی دلکشی بھی خاموشی کے پس منظر کی محتاج ہے۔ ہوٹلوں اور بازاروں میں پوری آواز کے ساتھ نشر کئے جانے والے گیت سَر میں درد پیدا کردیتے ہیں جبکہ وہی گیت آپ رات کو مکمل خاموشی کے پس منظر میں مدھم آواز سے سُنیں تو آپ خود بھی ان گیتوں کے سُروں کے ساتھ جیسے بہتے چلے جائینگے۔

کُچھ خاموشیاں ایسی ہیں جن کو اختیار کرنے سے زندگی میں بہترین تبدیلی لایا جاسکتا ہے۔ جیسے کہ جب سمندر خاموش ہو یا فضا میں ہوا خاموش ہو تب خاموشی طوفان اور آندھی کی صورت اپنا جلالی روپ دکھاتی ہے۔ سقراط نے زہر پی کر، حضرت حسینؑ نے شہید ہو کر بھگت سنگھ نے پھانسی کے پندھے پہ چڑھ کر اور ابن منصور نے سولی قبول کرکے خاموشی سے صبر اور تحمل کے جو عظیم نمونے دکھائے بظاہر وہ اُس عہد کے جھوٹوں اور جابروں کے سامنے شکست ہی تھی۔ لیکن درحقیقت ان مظلوموں اور سچ پر قائم لوگوں کی خاموشی اُن کی فتح کی پیش خیمہ تھی جسے آنے والے وقت نے سچ ثابت کیا۔ مظلوموں کی خاموشی کی یہ سچائی ہمیشہ سے قائم ہے۔

لیکن کچھ خاموشیاں انسان کی وجودہ کو اندر سے تباہ کر دیتی ہے۔ کیونکہ کچھ حقیقتیں اور سچ پر مبنی باتیں چاہتی ہیں کہ انہیں دنیا کے سامنے اظہار کیا جائے تاکہ باطل اور جھوٹ کا قلع قمع ہو تو ایسے حقیقی اور سچ باتوں کو دبانا انسان کو اندر سے دھیمک کی طرح تباہ کر دیتی ہے۔ اور ظلم و جبر پر قائم معاشرے میں مظلوموں پر ظلم کا بازار گرم ہوتا رہتا ہے۔

انسان خاموشی کو توڑتی ہوئی ایک چیخ کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے۔ نتیجتاََ ساری زندگی ہنگامہ آرائی، چیخ و پکار اور ہر وقت بے اطمینانی، مسئلے، پریشانی، اضطراب میں گزار دیتا ہے لیکن موت کی خاموشی آتے ہی وہی پریشان حال انسان کتنا پُرسکون ہوجاتا ہے۔

اتحاد اور امن کے نام پر قائم ہونے والے علاقائی اور بین الاقوامی سطح کے ادارے خاموشی کی قدروقیمت سے نا آشنا ہیں۔ اسی لئے انتشار اور بدامنی کا شکار ہیں۔ کہیں کسی اسمبلی کے ممبران میں ہاتھا پائی، کہیں ہاتھوں، ٹانگوں سے پکڑ کر باہر پھینکوانے کے منظر، کہیں گالی گلوچ تو کئی لڑائی اور جھگڑوں کےمنظر۔

اگر ایسے تمام ادارے اپنے ہر اجلاس میں خاموشی کو حرزِ جاں بنالیں تو ساری دُنیا اتحاد اور امن کا گہوارہ بن جائے۔ نہ کوئی نام نہاد تقریر ہو نہ تکرار، نہ کوئی قرارداد نہ فالتو کا بحث، اجلاس چار گھنٹے کا ہو تو بے شک آٹھ گھنٹے تک بیٹھے رہیں بلکہ سوچتے رہیں۔ سمجھدار سوچ کے بولتا ہے اور بے وقوف بول کےسوچتا ہے۔ اس طرح کے خاموشی سے میرا مقصد یہی ہے کہ اس خاموشی سے سوچ سمجھ کر ہر مُشکل کا حل نکالا جائے۔ بغیر سوچے سمجھے چِیخنا اور چِلانا کسی کو اثر انداز نہیں کرسکتا۔ نہ ہی کوئی تبدیلی لایا جا سکتا ہے۔ اس لئے تو فیودردستوئیفسکی اپنےکتاب Notes from the underground میں کہتا ہے کہ خاموشی ایک لعنت ہے۔

خاموشی خیر کی علامت ہے اگر وہ طوفان بن کے اُبھرے اگر وہ سچائی لے کے پس منظر پہ آئے اگر وہ جیت کی شکل میں خوشیاں سیمٹ کر لائے۔ تب ہی خاموشی خیر کی علامت اور روشن مسقبل کی ضمانت دیتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔