بلوچستان: تین لاپتہ افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے

255

بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے تین افراد بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔

بازیاب ہونے والوں میں ڈھائی سال قبل بلوچستان کے ضلع نوشکی سے حراست بعد لاپتہ ہونے والے احمد نواز ولد محمد اعظم اور 13 مارچ 2019 کو نوشکی سے لاپتہ ہونے والے لیویز اہلکار عبدالغنی ولد رسول بخش اور کیچ کے علاقے مند سے پچھلے مہینے لاپتہ ہونے والے انیس ولد گہرام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ انیس گہرام اس سے قبل بھی چھ مہینے تک لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیئے گئے تھے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ کئی افراد رہا ہوچکے ہیں تاہم دوسری جانب گمشدگیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیمیں اس حوالے سے مطمئن نظر نہیں آرہی ہے۔

گذشتہ دنوں ضلع کوہلو میں پاکستانی فوج نے بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا۔ اس کے علاوہ گذشتہ دنوں سبی کے علاقہ لہڑی میں بھی پاکستانی فورسز نے ایک آپریشن میں 2 افراد کو قتل اور دو کو تشدد کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔

جبکہ بلوچستان کے ضلع پنجگور سے پاکستانی فورسز نے دوران آپریشن تین خواتین کو بھی گذشتہ دنوں جبری طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا تھا۔

خواتین کو حراست میں لینے کا واقعہ پنجگور کے نواحی علاقے تحصیل گچک کے مقام پر پیش آیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق گچک کے علاقے ٹوبہ میں دوران آپریشن تین خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں راج بی بی زوجہ لعل جان بنت پنڈوک، کپوت زوجہ عوض بنت در محمد اور نازل زوجہ امام بخش بنت مسافر شامل ہیں۔